بہاولنگر،اختیارات سے تجاوز،ایس ایچ او پر مقدمہ،پولیس پر حملہ،بعد ازاں صلح

0
205
bahwalnagar

پنجاب کے شہر بہاولپور میں افسوسناک واقعہ پپش آیا ہے، چھاپے کے دوران پولیس کی جانب سے گھر میں گھس کر خواتین پر تشدد کیا گیا ہے، واقعہ پر ایس ایچ او سمیت چار پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے

ریڈ کرنیوالے ایس ایچ او سب انسپکٹر رضوان عباس ، اے ایس آئی محمد نعیم اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے گرفتار کرلیا گیا ، ایف آئی آر فرائض میں غفلت برتنے غیر قانونی محبوس رکھنے کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی، ڈی پی او نے واقعے میں ملوث ایس ایچ او اور دیگر اہلکاروں کو معطل کرکے محکمانہ کاروائی کا حکم دیدیا ، ایف آئی آر نئے تعینات ہونے والے ایس ایچ او سیف اللہ حنیف کی مدعیت میں درج کی گئی ہے
، اے ایس آئی محمد نعیم نے اہلکاران کے ہمراہ 8 اپریل کو چک سرکاری میں محمد انور جٹ کے گھر رفاقت کی گرفتاری کےلئے ریڈ کیا ،اہلخانہ نے مزاحمت کی اور ایک پولیس اہلکار کو کمرے میں بند کردیا ،: اے ایس آئی محمد نعیم نے ایس ایچ او رضوان عباس کو موقع پر بلوالیا ، ایس ایچ او رضوان عباس پولیس اہلکار مبینہ طور پر دیواریں پھلانگ کر محمد انور کے گھر داخل ہوگئے، ایس ایچ او پولیس ٹیم نے گھر میں موجود خواتین کے ساتھ نازیبا رویہ اختیار کرتے تشدد کیا ،بعد ازاں محمد انور جٹ کا بیٹا محمد خلیل اور دیگر اہل محلہ نے جمع ہوکر ایس ایچ او اور پولیس اہلکاروں کو کمرے میں بند کرکے یرغمال بنالیا، کمرے میں بند کرکے ایس ایچ او رضوان عباس کی ویڈیو بھی بنائی
، بعدازاں پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، ایلیٹ فورس پولیس نے ایس ایچ او رضوان عباس اور دیگر پولیس اہلکار کو آزاد کروالیا گھر میں موجود افراد کو تشدد کا نشانہ بناتے گرفتار کرلیا ،پولیس اہلکاروں نے محمدانور جٹ، اسکے بیٹے محمد خلیل ، اینٹی نارکوٹکس ملازم محمد ادریس اور دیگر کو گرفتار کرکے ساتھ لےگئے ،پولیس نے تھانہ مدرسہ میں محمد انور جٹ اسکے بیٹے آرمی ملازم محمد خلیل اور گھر کی خواتین سمیت 23 افراد کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرلی ، پولیس نے خلیل اسکے بھائی ادریس والد انور اور دیگر کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا ، پولیس نے محمد خلیل اسکے بھائی محمد ادریس اور والد محمد انور کو گرفتار کرنے کے باوجود عدالت بھی پیش نہیں کیا ،دوسری جانب ایس ایچ او رضوان عباس دیگر پولیس اہلکار کی کمرے میں بند بنائی ویڈیو منظر عام پر آگئی اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی

واقعہ کے بعد کچھ ویڈیو سامنے آئی ہیں جس میں پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے،زدو کوب کیا گیا ہے تا ہم بعد ازاں حساس ادارے اور پولیس کے جوانوں کی صلح کروا دی گئی، پنجاب پولیس کے ترجمان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بہاولنگر میں پیش آنے والے معمولی واقعہ کو سوشل میڈیا پر سیاق و سباق سے ہٹ کر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہےیہ غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جیسے پاک فوج اور پولیس کے مابین محاذ آرائی ہوئی ہو،غیر مصدقہ باتیں وائرل ہونے کے بعد دونوں اداروں کی طرف سے فوری مشترکہ تحقیقات کی گئیں،دونوں اداروں کے افسران نے حقائق کا جائزہ لیا،اور معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا،پاک فوج اور پنجاب پولیس دہشت گردوں، شرپسندوں،اور خطرناک مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے پورے صوبے میں مشترکہ کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے،عوام سوشل میڈیا پر چلنے والے جعلی پروپیگنڈے پر کان نہ دھریں،

قانون کے مطابق ذمہ داران کے محاسبے کا مطالبہ کرتے ہیں، تحریک انصاف
سانحہ بہاولنگر پر تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آیا ہے، ترجمان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ 9 مئی فالس فلیگ آپریشن کے کرداروں کا آپس میں ٹکراؤ، پاکستان میں موجودہ لاقانونیت کو مزید عیاں کرتا ہے،جس کی لاٹھی، اسکی بھینس کے جس قانون پر 25 مئی 2022 سے عملدرآمد شروع ہوا، وہ آج اژدھا بن کر اپنے ہی بچے کھا رہا ہے،لاقانونیت کا یہ سیاہ راج، تحریک انصاف کو توڑنے کے لیے رچایا گیا تھا لیکن اب یہ ریاست کے وجود کو اندر سے چاٹ رہا ہے،عوام کی چادر چاردیواری کی پامالی اور ان پر تشدد کا ہتھیار، ریاستی اداروں نے نہایت بے رحمی سےتحریک انصاف کے خلاف استعمال کیا لیکن آج خود اسکا نشانہ بن گئے،ریاستی ادارے گزشتہ 11 ماہ سے تحریک انصاف پر ریاستی املاک پر حملے کرنے کا جھوٹا بیانیہ بنا رہے تھے، لیکن آج خود دن دیہاڑے انہوں نے یہی کام سرانجام دیا،عدلیہ کے بعد پولیس بھی اسی لاقانونیت کے عفریت کا نشانہ بن گئی جس کے بل پر پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ،پولیس کو اس واقعے سے سبق حاصل کرتے ہوئےعوام کی چادر و چاردیواری اور ان کے بنیادی دستوری حقوق کی پامالی کی روایت ترک کر دینی چاہیے،جس انداز میں آئی جی پنجاب اور محکمہ پولیس کے ذمہ داران نے پنجاب پولیس کو لاوارث چھوڑا، وہ پورے محکمے کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونا چاہیے،تحریک انصاف بہاولنگر واقعے کی شدید مذمت کرتی ہے اور قانون کے مطابق ذمہ داران کے محاسبے کا مطالبہ کرتی ہے

تصاویر: شوبز سے وابستہ افراد عید کیسے منا رہے؟

مریم نوازشریف بے سہارا، بےگھر اور بے نوا لوگوں کے درمیان پہنچ گئیں

عید الفطر بھائی چارے، روا داری، امن اور پُرامن بقائے باہمی کی علامت ہے،بلاول

فتنوں کا سامنا ہوجائے تو مردانہ وار مقابلے کی صلاحیت رکھتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

عید پر اپنے قومی ہیروز کے غیر متزلزل حوصلے کو یاد رکھیں،افواج پاکستان

عید پر بھی پی ٹی آئی جھوٹ بولنے سے باز نہ آئی،عمران خان نے نماز عید پڑھی؟

شاہ محمود قریشی کو نماز عید ادا نہیں کرنے دی گئی، بیٹے کا دعویٰ

Leave a reply