مریم کی پولیس وردی پر تنقید کرنیوالوں نےبرقعے کی آڑ میں دھندہ چلایا ،عظمیٰ بخاری

مریم نواز کے پولیس یونیفارم پر وہ ٹولہ تنقید کر رہا جن کا لیڈر اپنی بیٹی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں: عظمیٰ بخاری
0
261
azma bokhari

وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے پولیس یونیفارم پہننے پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز کے پولیس یونیفارم پہننے پر وہ ٹولہ تنقید کر رہا جن کا اپنا لیڈر اپنی ہی بیٹی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ پوری دنیا میں سربراہان مملکت یونیفارم پہن کر اپنی فورسز کی عزت و تکریم میں اضافہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تنقید کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ صبر دے۔ پوری دنیا میں سربراہان مملکت یونیفارم پہن کر اپنی فورسز کی عزت و تکریم میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہ ایک روایت ہے، میاں نوازشریف نے بھی اپنے دور حکومت میں یہی کیا تھا جسکو مریم نواز نے برقرار رکھا۔ مریم نواز کے اس عمل پر جلنے اور سڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مریم نواز پاکستان کی خواتین کے لیے فخر کا باعث ہیں۔انکا کہنا تھا کہ اِنہوں نے برقعے کی آڑ میں ہیرے کی انگوٹھیاں،ٹرانسفر پوسٹنگ اور قیمتی جیولری چوری کا دھندہ چلایا۔ مریم نواز نے پولیس کا یونیفارم پہن کر پنجاب پولیس کی عزت اور وقار میں اضافہ کیا ہے۔ جبکہ پروپیگنڈا برگیڈ کا لیڈر عمرہ کرنے ننگے پاؤں جاتا تھا لیکن خانہ کعبہ والی گھڑی چوری کر کے ڈھٹائی سے اسے فروخت کرنے پر بھی فخر کرتا تھا۔ مریم نواز پنجاب میں جہاں بھی جا رہی ہر طرف خواتین ان کا والہانہ استقبال کرتی ہیں۔مریم نواز پنجاب کی خواتین کے لئے رول ماڈل کا درجہ اختیار کر چکی ہیں۔ مریم نواز کو پروپگنڈہ ٹرولز اور گالم گلوچ برگیڈ کی کردار کشی مہم سے فرق نہیں پڑتا۔ مریم نواز پنجاب کی خدمت کرنے آئی ہیں اور وہ انشائاللہ اس میں کامیاب ہوں گی

بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

Leave a reply