بھارتی اداکارہ دیا مرزا نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کی بربریت کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما کو کھری کھری سنا دیں

بھارتی اداکارہ دیا مرزا نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کی بربریت کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما کو کھری کھری سنا دیں۔

باغی ٹی وی : اداکارہ دیا مرزا سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹویٹر پر بی جے پی رہنما کا انتہائی غیرذمہ دارانہ بیان دیکھ کر برہم ہو گئیں اور کھری کھری سنا دیں کہا کہ کیا آپ میں ہمدردی کا کوئی جذبہ باقی نہیں بچا ہے؟

دیا مرزا کے اس ٹویٹ ہر بی جے پی رہنما نے لکھا کہ انہیں اپنی فورسز سے ہمدردی ہے، تمام بھارتیوں سے ہمدردی ہے قطع نظر اس کے کہ وہ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔


انہوں نے دیا مرزا کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ یا د رکھنا میں سیلیکٹڈ پلاک ہولڈر نہیں ہوں میں آپ کا بڑا پرستار ہوں اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوگی کہ آپ پاکستان کے اقدامات کی مذمت کریں نا کہ مقبوضہ وادی کے مظلوم عوام سے ہمدردی دکھائیں۔

بی جے پی رہنما کے اس ٹویٹ کے جواب میں اداکارہ نے کشمیر کی موجودہ صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا کہ ہمدردی کسی خاص لوگوں کیلئے مختص نہیں، یا تو ہم کسی سے ہمدردی کرتے ہیں یا نہیں کرتے-


دیا مرزا نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولہ میں ماڈل ٹاؤن کے علاقے سوپور میں پیش آنے والے واقعے جس میں 3سالہ ننھے بچے کے سامنے اُس کے نانا کو گولیاں مار دی گئیں تھیں، کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ کوئی بھی بچہ اس دُکھ اور بربریت کو نہیں سہہ سکتا۔

انہوں نے لکھا کہ آپ ان معاملات میں سیاست ترک کردیں تو پھر ہی میرا تعاون اور حمایت حاصل کرسکیں گے۔

واضح رہے دو روز قبل ہونے والے واقعے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز نے دنیا کو جنجھوڑ کر رکھ دیا جس میں ایک چھوٹا، تقریباً 3 سالہ بچہ خون میں لت مت اپنے نانا کی لاش کے اوپر بیٹھا ہوا ہے اور اس کے پاس سیکورٹی اہلکار کھڑے ہیں۔

کشمیر پر بھارتی ظلم و تشدد پر دنیا کی خاموشی کسی صورت قابل قبول نہیں، کشمیریوں کی زندگیاں بھی اہم ہیں، مہوش حیات

بھارتی فوج نے پوری انسانیت کے سینے میں گولی ماری ہے۔ وزیراعلی عثمان بزدار

مقبوضہ کشمیر میں پوتے کے سامنے داداکو گولی مار کر بھارتی فوج نے بچے کا بچپن چھین لیا، مشعال ملک

ننھا کشمیری بچہ تحریک آزادی کا نیا استعارہ، دنیا بھر میں غم کی لہر

شہباز شریف کی مقبوضہ کشمیر میں ساٹھ برس کے بشیر احمد کو کم سن نواسے کے سامنے گولیاں مار کر شہید کرنے کی شدید مذمت

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.