fbpx

دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں درختوں کی تقریباً 73,000 انواع موجود ہیں جن میں سے اب تک ہم 63,800 کے بارے میں جان پائے ہیں-

باغی ٹی وی : ’’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘‘ کی تازہ آن لائن اشاعت میں شائع ہونے والی اس تحقیق کےلیے درختوں اور جنگلات کے بارے میں دو وسیع عالمی ڈیٹابیسز، یعنی ’’گلوبل فارسٹ بایوڈائیورسٹی انیشی ایٹیو‘‘ اور ’’ٹری چینج‘‘ سے استفادہ کیا گیا اس تحقیق میں امریکا ، روس ،بھارت اور آسٹریلیا سمیت درجنوں ممالک کے 100 سے زیادہ سائنسدانوں نے حصہ لیا البتہ ان میں کوئی پاکستانی سائنسداں یا تحقیقی ادارہ شامل نہیں تھا۔

2020 میں ہونے والے ایک غیرمعمولی آسمانی واقعے کو ایک نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا گیا

ان میں سے ہر ڈیٹابیس میں ہزاروں درختوں کے قدرتی مسکن ، اوسط اونچائی، تنے کی موٹائی، چھتری کے پھیلاؤ، ان سے پیدا ہونے والے پھلوں اور میوہ جات کی معلومات، دنیا بھر میں ان درختوں کی مجموعی تعداد اور جغرافیائی تقسیم سمیت ساری تفصیلات، کئی عشروں کی محنت کے بعد جمع کی گئی ہیں۔

فوٹو بشکریہ : پی این اے ایس
کس علاقے میں کون کونسی انواع کے کتنے درخت ہیں؟ یہ جاننے کےلیے مذکورہ تمام معلومات کو اسی ترتیب سے دنیا کے نقشے پر 100 کلومیٹر لمبے اور 100 کلومیٹر چوڑے خانوں میں رکھا گیا ساتھ ہی ساتھ ہر علاقے کے ’’بایوم‘‘ یعنی وہاں پائے جانے والے پیڑ پودوں، مٹی، جنگلی جانوروں اور آب و ہوا جیسی کیفیات کے بارے میں معلومات بھی اس تحقیق میں مدنظر رکھی گئیں

ایک نئی قسم کا طوفان”فضائی جھیل” دریافت

اس رپورٹ کے مطابق، درختوں کی تقریباً 43 فیصد انواع براعظم جنوبی امریکا میں پائی جاتی ہیں جو کسی بھی دوسرے براعظم کے مقابلے میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ 22 فیصد درختوں کے یوریشیا (ساتھ یورپ اور ایشیا) دوسرے نمبر پر، 16 فیصد کے ساتھ افریقہ تیسرے نمبر پر، 15 فیصد کے ساتھ شمالی امریکا چوتھے نمبر پر جبکہ درختوں کی محض 11 فیصد انواع کے ساتھ اوشنیا کا پانچواں نمبر ہے جس میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت، جنوبی نصف کرے کے کئی چھوٹے چھوٹے ممالک شامل ہیں۔

گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

مختلف علاقوں میں ’’بایومز‘‘ کا محتاط موازنہ کرنے کے بعد ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ درختوں کی تقریباً 9,200 انواع آج بھی نامعلوم ہیں تاہم ان کا یہ کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کی سب سے پہلی اور سب سے بڑی تحقیق ہے جس کے تحت لگائے گئے اندازے محتاط ضرور ہیں مگر اِن کےلیے جو معلومات استعمال کی گئی ہیں انہیں کسی بھی طور پر مکمل نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اب بھی کئی علاقوں کے بارے میں محدود معلومات ہی دستیاب ہیں مطلب یہ کہ مستقبل میں اسی طرح کی دیگر تحقیقات سے بالکل مختلف اندازے بھی سامنے آسکتے ہیں۔

ناسا نے خلا میں سبز مرچیں اُگا لیں