fbpx

عمران نیازی نے پاکستان کی عزت داؤ پر لگانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی،وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 22 کروڑعوام نے منتخب نمائندوں کو اختیاردیا ہے، قومی اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے شہبازشریف کا کہنا تھا کہ آئین میں مقننہ،عدلیہ،انتظامیہ کے اختیارات متعین کردیئے ہیں۔ آئین کے اندر رہ کر سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم سب دن رات ایک کر کے اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں چار سالوں کے دوران معیشت ڈبو دی گئی، لاڈلے کو 15 سال تک دن رات دودھ پلایا گیا کس طر ح رات کے اندھیرے میں آر ٹی ایس بند ہوا، 2018 کے انتخابات پاکستان کی تاریخ کے بدترین انتخابات ہوئے،2018میں دھاندلی کی پیداوار حکومت کو ہم پر مسلط کر دیا گیا،ووٹوں کی گنتی کو ایک سابق چیف جسٹس کے حکم پر رکوایا گیا دیہاتوں میں نتائج شہروں کی نسبت پہلے آ گئے، پاکستان کی معیشت کا جنازہ نکل رہا تھا،متحدہ اپوزیشن اس وقت سیاست کو مقدم رکھتی تو ریاست کوخطرہ تھا،ہم جانتے تھے کہ پاکستان ڈیفالٹ کے قریب تھا، کیا ہم چور دروازے سے آئے ہیں؟لاکھوں لوگ بے روزگار اور بے گھر ہو گئے، اگر متحدہ اپوزیشن سیاست کو مقدم رکھتی تو پھر ریاست کا خدا حافظ تھا، ہم سب نے فیصلہ کیا کہ ریاست کو بچانا ہے،جانتے تھے تباہ حال معیشت کو دوبارہ زندگی دلوانا کوئی آسان کام نہیں، تمام جماعتوں نے مل کر مجھے وزارت عظمیٰ کیلئے منتخب کیامجھے وزیراعظم بننے کا لالچ نہیں تھا ، ماضی میں بھی پیشکش ہو چکی، وزیراعظم بننے کا ایک نہیں کئی مواقع ملے، جب نواز شریف کو سزا ہوئی تو اس وقت بھی مجھے وزیراعظم نامزد کیا گیا، میں نے پنجاب کی ذمہ داریاں پوری کرنے کیلئے وزارت عظمیٰ لینے سے انکار کر دیا،

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میرے سینے میں بہت سے راز دفن ہیں اور وہ قبر تک دفن رہیں گے،پرویز مشرف نے بھی مجھے وزیراعظم بننے کی پیش کش کی تھی سب کے ساتھ انہوں نے تعلقات خراب کیے،جب ٹرمپ کو مل کر آئے تھے تو کس نے کہا تھا میں ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں روس نے تردید کی کہ انہوں نے سستا تیل دینے کی کوئی پیشکش نہیں کی،فارن فنڈنگ کیس کا الیکشن کمیشن کیوں فیصلہ نہیں کررہا اسرائیل اور ہندوستان سے پیسہ میں نے نہیں عمران خان نے لیا، میں اگر وہ راز کھول دوں تو یہ ایوان حیرت میں مبتلا ہو جائے گاچار سال تک یہ چور ڈاکو کا راگ الاپتا رہا،یہ ایک دھیلے کی بھی کرپشن ثابت نہیں کر سکے، ان کے زمانے میں چینی ایکسپورٹ ہوئی تو اس وقت اس کی قیمت 52 روپے کلو تھی، چینی کی ایکسپورٹ پر اربوں روپے سبسڈی دی گئی،گیس جب 3 ڈالر کے ریٹ پر بک رہی تھی تو یہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھے تھے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیااور خود ہی نےاس کی دھجیاں اڑائیں ان کی اس غفلت پر کسی نے ازخود نوٹس نہیں لیا،ہیلی کاپٹر کیس میں کوئی نوٹس نہیں لیا گیا، مالم جبہ کیس کو نیب نے جپھہ ڈال لیا، کسی نے نوٹس نہیں لیا عمران خان کی بہن کو ایف بی آر سے خاموشی کے ساتھ این آر او دلوایا گیا،

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بشیر میمن نے بطور ڈی جی ایف آئی اے بتایا کہ عمران نیازی نے اسے ہم پر کیسز بنانے کا کہا،ہماری ضمانتیں عمران نیازی کے دور میں ہوئیں،شہزاد اکبر نے این سی اے کو خط لکھا جس پر پونے دو سال انکوائری ہوئی، انہوں نے پاکستان کی عزت داؤ پر لگانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی عمران خان کی کابینہ میں بند لفافوں پراراکین سے دستخط لئے جاتے رہے، تفصیلات اور بھی ہیں بتاؤں تو سب کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے اراکین کے پوچھنے پر عمران خان نے کہا یہ سیکرٹ ڈاکومنٹ ہے آپ سب دستخط کریں،میں وہی خادم ہوں جس نے پنجاب کے کسانوں کو سستی کھاد دی،میں وہی شہباز شریف ہوں جس نے اعلیٰ کوالٹی کی مفت ادویات فراہم کیں،

انہوں نے کہا کہ انسانی فطرت ہے بچے کو تکلیف ہو تو بچہ فوری ماں کے پاس جاتا ہے، یہ معزز ایوان ماں ہے، 1973ء کے آئین کو اسی ایوان نے تشکیل کی تھی، آئین پاکستان کی وحدت کی بہت بڑی نشانی ہے، آئین میں لکھا ہے حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے، 22 کروڑعوام نے منتخب نمائندوں کو اختیاردیا ہے، آئین میں مقننہ،عدلیہ،انتظامیہ کے اختیارات متعین کردیئے ہیں۔ آئین کے اندر رہ کر سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا.

پرویز الہیٰ کی عمران خان سے ملاقات، سپیکر کون بنے گا نام پر ہوا اتفاق

شہبازشریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 75سالوں کے دوران آئین کے ساتھ کھلواڑ ہوتا رہا، مارشل لا کئی دہائیوں تک مسلط رہے اورپاکستان دولخت بھی ہوا، جمہوریت کا پودا اتنا طاقت ورنہ ہوسکا جتنا ہونا چاہیے تھا، جوممالک ہم سے بہت پیچھے تھے آج ترقی کی دوڑمیں آگے نکل چکے ہیں، اغیار نے کئی سال پہلے آئی ایم ایف کو خیرآباد کہہ دیا، بزرگ، مائیں، بیٹیاں پوچھتی ہیں ملک کے اندر کب مہنگائی،غربت، قرضوں کا خاتمہ ہوگا،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سب جانتے ہیں 2018ء کے الیکشن میں بدترین جھرلو الیکشن تھے، دھاندلی کی پیداوار حکومت کو مسلط کر دیا گیا، رات کے اندھیرے میں آر ٹی ایس بند ہوگیا تھا، دیہات میں پہلے اور شہروں میں نتائج بعد میں آئے تھے، سابق چیف جسٹس کے حکم پر گنتی کو رکوایا گیا تھا، گزشتہ پونے چار سالوں میں مسلط کردہ حکومت کی کارکردگی سب کے سامنے ہے، 20 ہزار ارب سے زائد کے قرضے لیے گئے،

قومی اسمبلی کے اجلاس میں سیلاب سے متعلق خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ طوفانی بارشوں نے ہرجگہ تباہی پھیلائی، بلوچستان،پنجاب،خیبرپختونخوا،سندھ میں بے پناہ تباہی ہوئی، پاکستان بھر میں طوفانی بارشوں سے نقصانات ہوئے، اتحادی حکومت پوری طرح آگاہ اورچوکس ہے، اس حوالے سے چاروں صوبوں کے ساتھ میٹنگ کرچکا ہوں.

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا، پنجاب حکومت دن رات کام کررہی ہے، این ڈی ایم اے بھی اس حوالے سے بھرپورکام کررہی ہے، یقین دلاتا ہوں امدادی پیکج میں مزید اضافہ کریں گے۔ معززممبران کی سفارشات کے پیش نظر کل مزید فیصلے کریں گے، صوبائی حکومتوں کی ہرممکن مدد کریں گے، کسانوں کے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے وفاقی حکومت بھرپورتعاون کرے گی، چترال سمیت جہاں بھی نقصانات ہوئے ازالہ کریں گے،