fbpx

ایف اے ٹی ایف پر بڑی کامیابی ، پاکستان تاریخ رقم کرنے جارہا، سنیئے مبشر لقمان کی زبانی

ایف اے ٹی ایف پر بڑی کامیابی ، پاکستان تاریخ رقم کرنے جارہا، سنیئے مبشر لقمان کی زبانی

باغی ٹی وی سینئر اینکرپرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ۔ ایسا لگتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف والا معاملہ اپنے منطقی انجام تک پہنچنا شروع ہو گیا ہے ۔ پاکستان نے چالیس میں سے اکتیس شرائط مکمل کرلی ہیں ۔
اور پاکستان اب ایشیا پیسیفک گروپ کی توسیع شدہ سے ’فالواپ فہرست‘ میں شامل کرلیا گیا ہے ۔ ایف اے ٹی ایف کی تاریخ میں کسی بھی ملک کی جانب سے صرف 2 سال میں20 معیارات میں بہتری بے مثال ہے۔ یہ وفاق میں
14 اور صوبائی سطح پر 3 قوانین میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا نتیجہ ہے۔ یہ 20 سے زائد وزارتوں اور محکموں کے نمائندوں پر مشتمل ایف اے ٹی ایم کی پوری ٹیم کی انتھک کوششوں کے ممکن ہوا ۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ابھی پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے آئندہ اجلاس تک گرے لسٹ میں ہی رکھا گیا ہے تاہم اس کی ریٹنگ بہتر کی گئی ہے۔ دراصل سفارشات پر عمل درآمد سے پاکستان کی فیٹف معاملات پر سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔ پاکستان انسداد منی لانڈرنگ اور اینٹی ٹیررفنانسنگ کےلیے عالمی معیار پر پورا اترا ہے۔

اس معاملے پر پاکستان نے قانون سازی بھی کی ہے اور کئی ایسے اقدامات بھی اٹھائے ہیں جو کہ کافی مثبت پیش رفت ہے۔ لیکن اب یہ معاملہ صرف قانون سازی کی حد تک نہیں رہا بلکہ اس پر سفارتی محاذ پر بھی لابنگ کرنے کی ضرورت ہے جو کہ اس بار نظر نہیں آ رہی۔ کیونکہ ہم کو نہیں بھولنا چاہیے کہ بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرانا چاہتا ہے۔

اگر حقائق دیکھے جائیں تو پاکستان بطور ریاست کبھی منی لانڈرنگ میں ملوث نہیں رہا مگر بھارت نے ایف اے ٹی ایف کے رکن ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرادیا۔

پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کے دیگر عوامل بھی تھے۔ پاکستان کا نام بھارت کی طرف سے اسکے پاکستان کیخلاف بغض و عناد کی وجہ سے شامل کیا گیا تھا۔ اس لیے سفارتی محاذ پر پاکستان کو آنکھیں کھولی رکھنے کی اشد ضرورت ہے ۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام کی طرف سے یقین ظاہر کیا جارہا ہے کہ پاکستان رواں اجلاس کے دوران گرے لسٹ سے نکل آئیگا مگر یہ اتنا آسان اس لئے بھی نظر نہیں آرہا کہ عالمی سیاست پاکستان کی مواقفت میں نہیں ہے۔ آج ایف اے ٹی ایف کا اجلاس پیرس میں ہو رہا ہے۔ فرانس نے پہلے ہی پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کی سفارش محض اس بنیاد پر کر دی کہ ناموس رسالت کے حوالے سے فرانسیسی صدر کی خباثت پر پاکستان کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔ ادھر ڈینئل پرل کے قتل کے فیصلے پرامریکہ بھی تحفظات کا اظہار کرتا آرہا ہے۔ بلاشبہ فیصلہ میرٹ پر ہوا تو پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائیگا۔ پر آپکو کو پتہ ہے کہ عالمی منظر نامے میں میرٹ اور انصاف کی بات کمزور کرتا ہے ۔ ہم کو پہلے سے ہی ہر حوالے سے تیاری رکھنی چاہیے ۔

۔ کیونکہ اگر جائزہ لیا جائے تو بھارت گرے لسٹ میں شامل ہونے کے
criteria
پر پورا اترتا ہے۔ مگر وہ محفوظ اس لئے رہے گا کہ اسکی حمایت میں کئی ممالک قرارداد مسترد کرنے کیلئے تیار ہونگے۔ حالانکہ جن بنیادوں پر پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا گیا تھا ۔ بھارت اس سے کہیں زیادہ دہشت گردوں کی سرپرستی اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہے جس کے ٹھوس ثبوت امریکہ سمیت کئی ممالک نے دیئے ہیں۔ چند ماہ قبل بھارت کے
44
بنک ریاستی دہشت گردی میں منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے تھے ۔ لیکن اس کیخلاف ایسی کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی جس سے ایف اے ٹی ایف کے دہرے معیار کا عندیہ ملتا ہے۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ دیکھیں ابھی بھی ایف اے ٹی ایف کے خیال میں پاکستان کو کالعدم تنظیموں پر مزید سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے، گو پاکستان نے ایسے اقدامات کیے ہیں لیکن ابھی مزید کارروائی کا بھی مطالبہ سامنے آ سکتا ہے۔ کیونکہ پاکستان میں ایسے ادارے موجود ہیں جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات تو اٹھا رہے ہیں لیکن نئے قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے ابھی وقت درکار ہے۔

۔ تاہم افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے راولپنڈی میں آپریشن ردالفساد کے چار سال پورے ہونے کے موقع پر بریفنگ کے دوران فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا تھا۔ کہ ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر ان کی آبزرویشنز پر بہت کام کیا گیا اور ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر بہت پرامید ہیں۔

آسان الفاظ میں ہاتھی نکل گیا ہے اب اس کی صرف دم باقی ہے۔ امید ہے یہی مثالی روش اور چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت آئند ہ بھی قوم کو سرخرو کریگی۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی معیشت کو ناقابل یقین مسائل میں الجھایا گیا، اقتصادی محاصرے میں لینے کی بہت سی کوششیں ہوئیں۔ مگر پاکستانی معیشت اس وار کو بھی سہہ گئی ہے۔ ہندوستان کی جانب سے بلیک لسٹ کے خدشے کی کیا کیا کہانیاں بنائی گئیں، لیکن پاکستان نے مکمل ذمے داری، محنت، باریک بینی، اعداد و شمار کی صحت، تکنیکی سفارشات اور شرائط کی تکمیل میں کوئی سقم نہ چھوڑا اور عالمی منظر نامے پر ایک شاندار فیئر پلے کے ساتھ اقتصادی امتحان میں سر خرو کر دیا ہے۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے نئے ادارے قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نئے ادارے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے کام کریں گے۔ یہ نئے ادارے نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، ایف ایم یو، نیکٹا، اے این ایف اور صوبائی اینٹی کرپشن محکموں کے تحت قائم کیے جائیں گے۔ نئے اداروں میں درجنوں خصوصی پراسیکیوٹر بھرتی کیے جائیں گے۔ شرائط پوری کر کے رپورٹ فیٹف کو پیش کی جائے گی۔

اب تک پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے اہداف میں منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کے لیے فنڈنگ کرنے کے مقدمات کی سماعت کم سے کم وقت میں کی گئی ہے۔ منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کے لیے فنڈنگ کرنے والوں کو سزائیں دی گئی ہیں۔ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی تیز کی گئی ہے اور ان کا دائرہ اقوام متحدہ کی ہدایات کی روشنی میں بڑھایا گیا ہے۔ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لیے عدلیہ اور متعلقہ اداروں میں خصوصی افسران تعینات کیے گئے ہیں اور انہیں تربیت بھی دی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی نامزد کردہ 1267 کالعدم تنظیموں کا خاتمہ کیا گیا اور عالمی ادارے کے نامزد کردہ
1373 افراد کو سزائیں دی گئی ہیں۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کالعدم تنظیموں کے اثاثے اور بینک اکاؤنٹس ختم کیے ہیں اور اُن کے اثاثے اور دیگر جائیدادوں کو منجمد کیا گیا ہے۔

کالعدم تنظیموں کے زیرانتظام چلنے والے مدارس اور مساجد سرکاری تحویل میں لیے گئے ہیں۔ پاکستان نے دہشتگردی کی فنڈنگ کرنے والے اداروں کے عہدیداروں کو سزائیں دیں اور اس سلسلے میں بھرپور حکمت عملی وضع کر کے اس پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔ پاکستان نے دہشتگردی کی فنڈنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں کیں۔ حکومت نے پاکستان نے مدارس کو اپ گریڈ کر کے اسکول کے مساوی بنایا اور مدرسہ اصلاحات کے ذریعے مدارس کی اپ گریڈیشن کی۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے مدرسہ اصلاحات کر کے مدارس کو انتہا پسندی سے پاک کیا۔ سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان
SECP
صوبائی اور ضلعی حکومتوں اور انتظامیہ کے درمیان مکمل ضابطہ کار وضع کیا گیا اور ایسا نظام بنایا گیا کہ اب کالعدم تنظیموں کو وفاق سے منجمد کردیا جائے تو وہ صوبوں اور اضلاع میں کسی دوسرے نام سے کام نہیں کرسکیں گی۔

پاکستان نے ہنڈی اور حوالہ کی روک تھام کے لیے بینکنگ چینلز کو مربوط کیا۔ روشن ڈیجٹل اکاؤنٹس کے ذریعے سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر قانونی راستے سے پاکستان منگوانے کا اہم سنگ میل عبور کیا۔

ہنڈی اور حوالہ کی موثر روک تھام کے سلسلے میں پاکستان زمینی، فضائی اور سمندری راستوں سے کرنسی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی معیار کے اقدامات کر رہا ہے۔ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے اہداف کے حصول کے لیے ملک میں کمپنیز ایکٹ 2017 میں ضروری ترامیم کی ہیں جس سے بےنامی کمپنیز مکمل طور پر ختم ہوجائیں گی۔ کمپنیوں کو حقیقی اور اصل مالک کی تفصیلات دینا ہوں گی۔ اس طرح حصص کی لین دین میں مشکوک ترسیلات کا بھی وجود ختم ہوجائے گا۔

کمپنیز ایکٹ 2017 کے سیکشن کے 122 کے ساتھ ہی سیکشن123 کا بھی اضافہ کیا گیا جس کے تحت کمپنی کو اصل مالک ظاہر کرنا ہوگا۔ کمپنی اور اس کی ذیلی کمپنی کے بھی حقیقی مالک کا نام بتانا ہوگا۔ کمپنیز سے فائدہ اٹھانے والے بڑے شیئر ہولڈرز کی تفصیلات دینا ہوں گی۔

اس قانون کے تحت کسی بھی کمپنی میں محض 25 فیصد حصص رکھنے والا مالک تصور کیا جائے گا اور اسے اپنے ذرائع آمدن ظاہر کرنا ہوں گے۔ یہ قانون دنیا کے سخت ترین کارپوریٹ لاء میں سے ایک ہے۔ اس طرح کے قوانین کے ماحول میں سرمایہ کار گھٹن محسوس کرتے ہیں اور سرمایہ کاری سے ہچکچاتے ہیں۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اسی کمپنیز ایکٹ کی سیکشن کے60 میں اب سیکشن 60 اے بھی شامل کی گئی۔ سیکشن 60 اےکے تحت بیریئر شیئرز ہولڈ کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا۔

سیکشن 60 اے کے تحت کالعدم تنظمیوں کو کمپنیوں کے شیئرز نہیں مل سکیں گے اور شیئرز کی لین دین شکوک و شبہات سے پاک ہوجائے گی۔ اس طرح شیئرز کی لین دین کے ذریعے مشکوک ترسیلات کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا۔

پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے دیے گئے اہداف میں سے آخری شرط جزوی طور پر پوری کی ہے اور وہ یہ کہ پاکستان پوسٹ کے لیے نئی اسکیمز پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ تاہم ایف اے ٹی ایف چاہتا ہے کہ پاکستان پوسٹ کی تمام بینکنگ ٹرانزیکشنز کی اسٹیٹ بینک نگرانی کرے اور اس کی ادائیگیاں بھی اے ٹی ایم سے ہوں۔

اس سلسلے میں پاکستان بھرپور کوششوں میں مصروف ہے لیکن یہ نظام اتنا پیچیدہ اور بوسیدہ ہے کہ اسے اپ گریڈ کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ پاکستان پوسٹ ملک کے ایسے علاقوں میں بھی بینکنگ، سرمایہ کاری، پینشن اور دیگر مالیاتی امور سرانجام دیتا ہے جہاں مواصلات کی سہولت نا ہونے کے برابر ہیں۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ بھی بتا دوں کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر جو شرائط عائد کی ہیں اور جن شعبوں میں پیش رفت کا مطالبہ کیا ہے اس پر عملدرآمد کرنا کسی ایک حکومتی ادارے کا کام نہیں ہے۔ اس حوالے سے پارلیمنٹ، حکومت، عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر سطح پر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان کو جلد از جلد قانون سازی کے علاوہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے عملدرآمد کے طریقہ کار کو بھی وضع کرنا ہوگا۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اور ذرا تھوڑا ہٹ کر بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پاکستان مخالف تصور نہیں کرنا چاہیے۔ اگر پاکستان میں سرمائے کی غیر قانونی نقل و حرکت رُکے گی تو اس کا فائدہ قانونی طریقے سے کمانے والے عام عوام کو ہوگا۔

۔ حکومت کی جانب سے معیشت کو دستاویزی بنانے میں مدد ملے گی، قانونی لین دین میں اضافے سے ٹیکسوں کی وصولی بھی بہتر ہوگی، سب سے بڑھ کر دہشت گردوں کی مالی معاونت اور سہولت کاری پر کاری ضرب لگنے سے ملک میں امن و امان کی صورتحال میں بھی بہتری آئے گی۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فی الحال حوصلہ افزاء چیز یہ ہے کہ چین، انڈونیشیا، ملائیشیا، ترکی، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کے بھرپور حامی ہیں۔۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی ہر حکمت عملی باہمی رضا مندی سے طے ہوتی ہے جب ڈرنے ڈرانے کا وقت آتا ہے تو نواز شریف بولنا شروع کر دیتے ہیں اور جب ڈیل کرنی ہو، لین دین یعنی آفر آئے تو پھر محمد شہباز شریف بولنا شروع کر دیتے ہیں۔

۔ شہباز شریف کی رہائی کے پیچھے تو سب ہی کہہ رہے ہیں کہ کوئی پلان ہے جس کی وہ تو رازداری کر ہی رہے ہیں لیکن کچھ لوگوں نے کھلم کھلا عبوری مدت کے لئے وزیر اعظم کے طور ان کا نام لینا شروع کر دیا ہے ۔ اس حوالے سے اصل کہانی آگے چل کر آپکو بتاتا ہوں ۔

۔ ابھی آپ سیاست کے رنگ دیکھیں کہ جیسے سب جانتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم پر شہباز شریف نے پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو گلے لگا لیا ہے جب کہ نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن نے پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے لئے پی ڈی ایم کے دروازے بند کر دئیے ہیں۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری بھی نواز شریف اور مریم کو طعنے دے رہے ہیں مگر انھوں نے ساتھ ببانگ دہل یہ بھی کہا ہے کہ پیپلز پارٹی شہباز شریف کے موقف کو ہی مسلم لیگ (ن) کا
’’بیانیہ‘‘
سمجھتی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیر حسین بخاری نے عبوری مدت کے لئے شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
۔ اس لیے یہ قابل غور چیز ہے کہ جب سے شہباز شریف متحرک ہوئے ہیں مسلم لیگ(ن) کے جارحانہ بیانات میں کمی آ گئی ہے۔ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اب عمران خان شکستہ حال پی ڈی ایم سے خوفزدہ نہیں بلکہ شہباز شریف کی
’’پھرتیوں‘‘
سے خوفزدہ ہیں کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے مسلم لیگ ن سے قابل قبول شخصیت شہباز شریف ہیں۔
جب کہ مسلم لیگ ن کے اندر بھی طاقت ور عناصر جو خود وزارت عظمی کے منصب پر نظریں لگائے بیٹھے ہیں شہباز شریف کی راہ میں کانٹے بچھا رہے ہیں انہیں ڈر ہے کہ اگر شہباز شریف ایک بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہو گئے اور قومی حکومت کے اس منصوبے کا چوہدری نثار علی خان بھی حصہ بن گئے تو پھر ان کو ہٹانا ممکن نہیں ہو گا۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب یہ بات برملا کہی جارہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ شہباز شریف کے عبوری مدت کے لئے وزیر اعظم بننے کی راہ میں حائل نہیں۔ اسی لیے وہ عبوری مدت کے لئے قومی حکومت کے قیام کی تجویز کی منظوری حاصل کرنے کے لئے لندن جانا چاہتے ہیں ۔

۔ کیونکہ اشارہ دینے والوں نے نہ صرف اشارہ دے دیا ہے بلکہ دو حرفی بات کہہ دی ہے کہ ملک کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔ حکومت پانچ سال پورے کرے گی لیکن اگر تبدیلی کی خواہش ہے تو پارلیمنٹ کے اندر تبدیلی لائیں۔ دوسری طرف سے جواب ملا ہے۔ ملک کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ حکومت کی جائے۔ ہمیں پارلیمنٹ کے اندر تبدیلی نہیں لانی بلکہ باہر سڑکوں پر مظاہرے ریلیاں اور مناسب طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے لیکن ابھی الیکشن کرانے ہیں تو کرا لیں ہم تیار ہیں۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مگر شہباز شریف سمجھتے ہیں کہ وقت ضائع نہ کیا جائے بلکہ اپنی شیڈو کابینہ بنائی جائے۔ سیاسی جلسے جلوسوں، ریلیوں میں اپنا وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔

۔ جبکہ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے پہلے دس وزارء کی شیڈو کابینہ کی فہرست بنا کر ڈیوٹیاں بھی لگادی ہیں کہ دو سال میں ایسی پلاننگ کریں کہ ہم حکومت لیتے ہی ملک میں انقلابی اقدامات کر سکیں۔
۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ سسٹم میں موجود بیوروکریسی کے لوگ روازنہ کی بنیاد پر رپورٹ اپنے سابق سینئر کو دے رہے ہیں۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ویسے یہ حقیقت تو خود عمران خان کی تسلیم کردہ ہے کہ پی ٹی آئی کو حکومت تو مل گئی لیکن ان کی سرے سے تیاری ہی نہیں تھی۔ لہٰذا یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ جس کو حکومت دیں، ساتھ تیاری کا بھی کہیں۔

۔ اب آپ کو سمجھ آئی کہ وزیراعظم عمران خان کیوں چینخ چلا رہے ہیں۔ وہ یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن فوج سے کہہ رہی ہے کہ وہ حکومت گرانے میں اُس کی مدد کرے۔ وہ یہ طعنے کیوں دے رہے ہیں کہ ایک طرف یہ لوگ خود کو جمہوری کہتے ہیں اور دوسری طرف منتخب حکومت کو گرانے کے لئے فوج کی مدد مانگتے ہیں۔ آپکو سمجھ آجانی چاہیئے ۔
جب شہباز شریف کہتے ہیں کہ نیا عمرانی معاہدہ کیا جائے تو اس کے پیچھے کیا سوچ ہے ۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک اور دلچسپ بات یہ کہی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد نظام بدلنے کی سب سے بڑی جدوجہد وہ کر رہے ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ کون سی جدوجہد ہے جس کا نہ کوئی نظریہ ہے اور نہ کوئی منصوبہ یا عملی اقدامات، یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون سا نظام لانا چاہتے ہیں۔ کبھی وہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں، کبھی چین یا امریکہ کی، کبھی وہ ترکی یا ملائیشیا کے ماڈل کی بات کرتے ہیں اور کبھی سکنڈے نیوین ملکوں کی فلاحی ریاستوں کا ذکر کرتے ہیں۔ آخر وہ کون سا نظام ہے جو عمران خان لانا چاہتے ہیں۔ ان کی تان دو باتوں پر آکر ٹوٹتی ہے، ایک یہ کسی کو
NRO
نہیں دوں گا اور دوسری کسی مافیا کو نہیں چھوڑوں گا۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آئے دن سکینڈل سامنے آتے رہتے ہیں اور ان کے کرداروں کو محفوظ راستہ بھی دیا جاتا ہے۔کچھ ابھی تک ان کے دائیں بائیں بیٹھے ہیں اور کچھ پتلی گلی سے نکل گئے ہیں۔

۔ شہباز شریف کے ملک سے باہر جانے کی کوشش تو تحریک انصاف کی حکومت نے بھرپور کوشش کر کے ناکام بنا دی یا کم از کم التوا میں ضرورڈال دی ہے ۔ مگر شہباز شریف کی تھیوری یا ڈاکٹرائن نے بہت سوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے بیشتر لیڈروں کی طرح شہباز شریف کا بھی یہی خیال لگ رہا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کو سپورٹ نہ کرے تو عمران خان الیکشن نہیں جیت سکتے۔ شہباز شریف اور ان کے ہم خیال لیڈروں کے خیال میں اگر ن لیگ کوانتخابی میدان میں کھیلنے کا برابر موقعہ ملا تو وہ تحریک انصاف سے بہت بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف ڈاکٹرائن ہے ہی یہی کہ مقتدرقوتوں کے ساتھ براہ راست ٹکرائو سے گریز کرتے ہوئے افہام وتفہیم کے ساتھ معاملات آگے بڑھائے جائیں اور کبھی دو قدم پیچھے ہٹ ، کبھی دائیں بائیں ہو کر ، ضرورت پڑنے پر دو قدم آگے بڑھ کرتخت وتاج حاصل کرنے کی سیاست کی جائے۔

یہ شہباز شریف کا پرانا نظریہ اور سٹائل ہے۔ مسلم لیگ ن پر سب سے مشکل اور سخت وقت جنرل مشرف کی وجہ سے آیا۔ اس وقت بھی ان کی یہ سیاست کام آئی اور بعد میں جب نواز شریف کی واپسی ہوئی تب بھی یہ سیاست کام آئی ۔ مگر گیند پہلے بھی میاں نواز شریف کی کورٹ میں تھی، اب پھر انہوں نے ہی فیصلہ کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ کچھ عرصہ کے لئے پیچھے ہٹ کر خاموش رہنا پسند کریں گے؟

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہرحال نتیجہ جو بھی نکلے، پہلی بار عمران خان کی حکومت پریشان اور خوفزدہ نظر آئی ہے۔ شہباز شریف ڈاکٹرائن نے خان صاحب کو چکرا دیا ہے ۔ نواز شریف کے بیانات کے برعکس شہباز شریف کی مفاہمت انہیں اپنی حکومت اور سیاسی مستقبل کے لئے زیادہ خطرناک لگ رہی ہے۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہرحال اپوزیشن کے پاس اس وقت سب سے بہترین موقع یہ ہے کہ وہ بجٹ اجلاس میں حکومت کو سخت مقابلے سے دوچار کر دے،اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے پر مجبور ہو جائے گی، جس کی فی الوقت اشد ضرورت ہے،اس سے اپوزیشن کی عوام میں پذیرائی بھی بڑھ جائے گی۔