جامعہ ملیہ کے طلبا کو رہا کرو بھارتی ٹویٹر پر مطالبہ ٹاپ ٹرینڈ

ئی دہلی :جامعہ ملیہ کے طلبا کو رہا کرو بھارتی ٹویٹر پر مطالبہ ٹاپ ٹرینڈ،باغی ٹی وی کے مطابق بھارت میں کرونا کی آڑ میں مسلمان نوجوانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے اورچند ہی دنوں میں بڑی تعداد میں بھارتی خفیہ اداروں نے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کوگرفتارکرکے نامعلوم مقامات پرمنتقل کردیا ہے

ذرائع کے مطابق بھارتی خفیہ ادارے ملک بھرسے ان نوجوانوں کا پیچھا کررہے ہیں جنہوں نے شہریت بل کے خلاف احتجاج کیا تھا ، ذرائع کا کہنا ہےکہ اس حوالے سے جامعہ ملّیہ کے طالب علموں کا کردار بہت مثالی تھا اورانہوں نے جس طرح اس تحریک کو چلایا اس کا ہرکوئی معترف ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اس وقت مختلف علاقوں سے یہ خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں کہ خفیہ ادارے رات کی تاریکی میں آتے ہیں‌اورجامعہ ملیہ کے نوجوانوں کوگرفتارکرکے نامعلوم مقامات کی طرف لے جاتے ہیں

 

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے والدین سخت پریشان ہیں کیوںکہ بھارتی خفیہ ادارے نہ تو گرفتاری کی کوئی وجہ بتاتے ہیں اورنہ ہی یہ بتاتے ہیں کہ وہ ان طالب علموں‌کو کہاں لے کرجارہے ہیں، اسی پریشانی کی وجہ سے اب بھارت میں رہنےوالے طالب علموں اوربھارت سے باہر سے بھی ایک مطالبہ بن کرسامنے آرہا ہے جس میں کہا گیا ہےکہ جامعہ ملیہ کے ان طالب علموں کو جلد رہا کیا جائے

دوسری طرف انہیں گرفتاریوں کے ردعمل کے طورپرپاکستان سمیت دنیا بھرمیں بھارت کے ان رویوں کی شدید مذمت کی جارہی ہے امریکہ کی طرف سے بھی بھارت میں اقلیتوں پرہونے والے مظالم پرناراضگی اورساتھ ہی عرب دنیا کی طرف سے بھارت میں مسلمانوں پرہونے والے مظالم پربھارت کی بازپرس کے بعد صورت حال میں‌ بہت زیادہ تبدیلی آئی ہے

یہ وجہ ہے کہ بھارت میں اس وقت کرونا کی تباہ کاریوں اور عربوں کے سوشل میڈیا ایکٹوزم اور اب چند گھنٹے قبل امریکہ کی جانب سے بھارت پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کے باوجود محسوس ایسا ہوتا ہے کہ مودی ہٹ دھرمی سے باز آنے والا نہیں ہے۔
بھارت میں گزشتہ شام سے #ReleaseJMIPeople یعنی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے لوگوں کو رہا کرو ٹرینڈ ٹاپ پر ہے،

یہ تین لوگ ہیں جنکی رہانی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ صفورہ زرگر، شفاالرحمان، میران حیدر تینوں جامعہ کے طلبا ہے جن پر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا ایکٹ UAPA Unlawful Activities Prevention Act لگا کر گرفتاری کے بعد دس دس دن کے ریمانڈ پر عدلیہ کے زریعے پولیس کے حوالے کر کے تہاڑ جیل نیو دہلی میں ڈال دیا گیا ہے، شفا الرحمان سابق طالبعلم ہیں، صفورا زرگر کی دو سال قبل شادی ہوئی ، پریگننٹ حالت میں اسے کوئی رعایت بخشے بغیر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے،

ان کا جرم چند ماہ قبل مسلم دشمن متنازعہ شہریت بل سٹیزن شپ امینڈمیٹ بل CAB کی مخالفت میں اواز بلند کرنا تھا ، جس بل کا مقصد مسلمانوں کو بھارتی شہریت سے فارغ کر کے انہیں حراستی مراکز ڈیٹینشن کیمپوں میں ڈال کر نسل کشی کرنا تھا، جس پر روایتی بھارتی مسلم قیادت ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور جامعہ ملیہ کے طلبا نے ظلم و تشدد آنسو گیس ، شیلنگ ، فائرنگ، لاٹھی چارج اور بعد ازاں بڑی تعداد میں گرفتاریاں پیش کر کے قربانیوں کی لازوال داستان رقم کی، اور یہ آواز ہر غیر متعصب انسان کی آواز بنی ، مسلمان بھی جاگے،

کرونا لاک کی تباہ کاریوں نے کچھ عرصے کیلئے اس توجہ بٹائی تو ضرور تھی لیکن انتہا پسند ہندو کرونا وائرس کا زمہ دار مسلمانوں کو ٹھرانے لگے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کے ایک نئی لہر اٹھی اور عرب بلاگرز اور زمہ داران کی توجہ سے کچھ معاملہ بظاہر تو ٹھنڈا ہوا تو اب ان طلبا کی گرفتاریاں شروع ہو گئیں،

 

 

ارینا اکبرکہتی ہیں کہ میران ، صفورہ اورشفاع الرحمن ہم آپ کے ساتھ ہیں ، ہم آپ کی غیرمشروط کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں

 

 

 

نبیہ خان کہتی ہیں کہ میران ، صفورہ اورشفاع الرحمن ہم آپ کے ساتھ ہیں،ہم ان کی جلد ازجلد رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں اوریہ بھی درخواست کرتے ہیں کہ ان پرکالے قوانین کا اطلاق نہ کیا جائے

 

عائشہ رینا نے بھی اپنے پیش رو کے مطالبےکی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ میران ، صفورہ اورشفاع الرحمن ہم آپ کے ساتھ ہیں،بھارت کرونا کی آڑ میں مسلمان طالب علموں کی گرفتاریاں کرنا بند کردے

فہد احمد کہتے ہیں کہ بھارت کی تاریخ میں یہ صدی اس حوالے سے یاد رکھی جائے گی کہ بھارت نے مسلمان طالب علموں پربہت زیادہ مظالم کئے ہیں ، بھارت میں اقلیتوں پرمظالم کی انتہا کردی ،ہم جامعہ ملؑیہ کے طالب علموں کے ساتھ ہیں ، ان کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں

 

 

سکیت گوکھال کہتے ہیں کہ این آر سی کے نام پرجس طرح انسانیت کو پامال کیا گیا یہ قابل مزمت ہے ، امیت شاہ نے مسلمان طالب علموں کو خصوصی طورپرٹارگٹ کیا ہے

 

 

 

ثانی احمد کہتی ہیں کہ عجیب معاملہ ہےکہ جواہرلال نہرو کے طالب علموں نے بھی شہریت بل کے خلاف احتجاج کیا مگران کے ساتھ اورسلوک اورجامعہ ملیہ کے طالب علموں کے ساتھ اور سلوک

 

 

 

آدیتیا مینن کہتے ہیں کہ صفورہ زرگر، میران حیدر،شفاع الرحمن کو اس لئے گرفتار کیا گیا کہ حکومت ان کو قانون کے مطابق ان کے حق نہیں دینا چاہتی

 

عامر عزیز کہتے ہیں کہ میں صفورہ زرگر کے ساتھ کھڑا ہوں ، میں میران حیدر کے ساتھ کھڑا ہوں اورمیں شفاع الرحمن کےساتھ کھڑا ہوں

سوچترا وجایان کہتے ہیں کہ فاشزم پرخاموشی ایک مجرمانہ عمل ہے جس کی گنجائش نہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.