ممنوعہ فنڈنگ کیس،ایف آئی اے کو قانون کے مطابق کاروائی جاری رکھنے کا حکم

0
36
عدالت کو پہلی بار کسی نے مثبت بات کہی ہے،چیف جسٹس اطہر من اللہ

اسلام آباد ہائی کورٹ،پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کر دی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دُگل نے تیاری کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے وقت مانگ لیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسے کیسز نہیں بنتے کہ بس صرف بندہ اٹھاو، کوئی تفتیش نہیں ہوتی،عدالت جب فیصلہ دیتی ہے تو عدالتوں پر الزام آجاتے ہیں، آج آپ حکومت میں ہیں کل یہ ہونگے، پرسوں کوئی اور ہوگا،حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر اداروں نے ادھر ہی رہنا ہے، بیرسٹر علی گوہر نے کہا کہ ایف آئی اے کو کسی قسم کی تادیبی کارروائی سے روکا جائے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ جو نئی درخواست دائر ہوئی اسکی ابھی مجھے کاپی نہیں ملی، اعدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی وقت دینے کی مہلت منظور کرلی

واضح رہے کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کے سلسلے میں ایف آئی اے انکوائری اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کی تھی، پی ٹی آئی کی جانب سے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایف آئی اے کو فنڈنگ کیس میں گرفتاریوں اور چھاپوں سے روکا جائے۔ ایف آئی اے نے سینیٹر سیف اللہ نیازی کے گھر چھاپا مارا اور ہراساں کیا۔ ایف آئی اے انکوائری اور چھاپے غیرقانونی ہیں، لہٰذا ایسی کارروائیوں سے فوری طور پر روکا جائے۔

ممنوعہ فنڈنگ کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کو خط بھی ارسال کیا تھا جس میں  ایف آئی اے نے عمران خان کو لکھے گئے خط میں ان سے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات اور ان کی سالانہ رپورٹ کا ریکارڈ مانگا تھا تاہم تحریک انصاف نے ایسے کسی خط کے ملنے سے انکار کیا تھا۔

خط میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کی 1996 سے لے کر اب تک کی تمام تنظیموں اور ٹرسٹ کا ریکارڈ فراہم کیا جائے جبکہ پارٹی کے قیام سے لے کر اب تک وصول کی گئی ممبر شپ فیس کا ریکارڈ بھی فراہم کیا جائے۔خط میں پی ٹی آئی کی رجسٹرڈ، غیر رجسٹرڈ قومی و بین الاقوامی تنظیموں اور ٹرسٹ کے ریکارڈ کی تفصیلات طب کی گئی ہیں۔ عمران خان کو الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے فارم کی تفصیل فراہم کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔خط میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کے تمام اکاؤنٹس کھولے جانے سے لے کر اب تک کا سالانہ اسٹیٹمنٹ بھی فراہم کیا جائے۔ ایف آئی اے حکام نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس کے لیے تشکیل دی گئی انکوائری ٹیم نے عمران خان کو خط ارسال کر کے تفصیلات طلب کی ہیں

تحریک انصاف نے درخواست میں مزید کہا ہے کہ ایف آئی اے سیاسی بنیاد پر ہراساں کررہی ہے۔ عدالت ایف آئی اے کو فنڈنگ کیس کی تحقیقات سے روکے۔ ریجیم چینج کے بعد پی ٹی آئی نے حکومت مخالف تحریک کے لیے فنڈز اکٹھے کیے۔ بیرون ملک سے ملنے والے تمام فنڈز قانون کے مطابق وصول کیے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے درخواست میں سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے اور تفتیشی افسر کو فریق بنایا گیا۔

عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

Leave a reply