غیرمنتخب نمائندے کی سربراہی میں ہونیوالی اے پی سی میں غیر منتخب نمائندوں کی بھرمار

0
50

اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی کی سربراہی مولانا فضل الرحمان کریں گے جو اسمبلی کے رکن نہیں اور وہ 2018 کے الیکشن میں تحریک انصاف کے امیدوار سے شکست کھا گئے تھے، اے پی سی میں غیر منتخب نمائندوں کی بھر مار ہے، پیپلز پارٹی کے تمام اراکین سینیٹ کے اراکین تو ہیں لیکن انہیں عوام نے منتخب نہیں کیا، وہ عوام سے ووٹ لے کر نہیں آئے، اسفند یار ولی، ساجد میر، اویس نورانی و دیگر بھی غیر منتخب نمائندے ہیں جو اے پی سی میں شریک ہیں.

بلاول اے پی سی میں شرکت کریں گے یا نہیں، بلاول نے خود اعلان کر دیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس آج اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ہو رہی ہے، کانفرنس کی صدارت مولانا فضل الرحمان کریں گے، مولانا فضل الرحمان غیر منتخب نمائندے ہیں کیونکہ 2018 کے الیکشن میں تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈا پور سے شکست کھا گئے تھے، اسمبلی میں موجود نہ ہونے کے باوجود مولانا فضل الرحمان کی زیرصدارت اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی کی سربراہی مولانا فضل الرحمان کو دی گئی ہے اور ان کو سربراہی دینے کا فیصلہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کیا تھا.

اے پی سی سے قبل اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمانی پارٹیوں کا اجلاس

اپوزیشن کی اے پی سی شروع ہونے سے قبل ہی ناکام ،اہم خبر

مسلم لیگ ن کا 14 رکنی وفد اے پی سی میں شرکت کرے گا ،شہباز شریف اور مریم نواز کی قیادت میں ایازصادق، سردار مہتاب خان،احسن اقبال،جنرل قادربلوچ،رانا ثنااللہ،شاہ محمد شاہ ،ڈاکٹرعباد، مرتضیٰ جاوید عباسی اور مریم اورنگزیب وفد میں شامل ہیں ،

پیپلز پارٹی نے اے پی سی میں شرکت کے لیے 5 رکنی وفد کا اعلان کیا ہے جو یوسف رضا گیلانی، رضا ربانی، نئیر بخاری، شیری رحمان اور فرحت اللہ بابر پر مشتمل ہے۔ بلاول زرداری کے‌ حوالہ سے خبریں آ رہی تھیں کہ وہ اے پی سی میں شرکت کریں گے یا نہیں جس پر بلاول نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ اے پی سی میں شریک ہوں گے.

اپوزیشن کی اے پی سی ہو گی ان کیمرہ، میڈیا بریفنگ ہو گی آخر میں

حکومتی اتحادی جماعت بی این پی اے پی سی میں شرکت کریگی یا نہیں، فیصلہ ہو گیا

اے پی سی کو کامیاب بنانے کیلیے مولانا متحرک، نیشنل پارٹی کے وفد سے ملاقات

مریم نواز کا ایک اور یوٹرن، مولانا فضل الرحمان کا رابطہ، مریم نواز نے کیا کہا؟

پیپلز پارٹی کی جانب سے جن رہنماوں کو اے پی سی میں جانے والے وفد میں شامل کیا گیا ہے ان میں ایک بھی قومی اسمبلی کا رکن نہیں بلکہ چار سینٹر شامل ہیں، وفد میں یوسف رضا گیلانی بھی شامل ہیں جو قومی اسمبلی کے رکن نہیں ہیں،

عوامی نیشنل پارٹی پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی بھی اے پی سی میں شرکت کے لئے پہنچ گئے ہیں وہ بھی قومی اسمبلی کے رکن نہیں ہیں .

کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کے لیے شاہ اویس نورانی بھی پہنچ گئے، شاہ اویس نورانی بھی قومی اسمبلی کے رکن نہیں ہیں، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے امیر ساجد میر بھی اے پی سی میں شرکت کے لئے پہنچ گئے ہیں جو رکن قومی اسمبلی نہیں بلکہ سینیٹر ہیں اور وہ ن لیگ کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے ہیں

واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے پاس 84 اور پیپلز پارٹی کے پاس 54 نشستیں ہیں جبکہ متحدہ مجلس عمل جس کی جماعت اسلامی بھی حصہ تھی اور وہ الگ ہو چکی ہے، اس کی 16 سیٹیں ہیں ، اے پی سی کی سربراہی جمعیت علماءٰ اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو دی گئی جو پارلیمان کا حصہ ہی نہیں.

حکومت کی اتحادی جماعت بی این پی مینگل نے اے پی سی میں شرکت کرنے سے معذرت کر لی ہے.

واضح رہے کہ اسلام آباد میں بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو افطار پارٹی دی تھی جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں عید کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی مولانا کی زیر صدارت ہو گی. اس سے قبل مولانا فضل الرحمان ملک بھر میں ملین مارچ کر رہے ہیں، کراچی، سکھر لاہور سمیت مختلف شہروں میں ان کے پروگرام منعقد ہو چکے ہیں. واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان پندرہ برس بعد کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سے ہٹائے گئے کیونکہ وہ 2018 کا الیکشن ہار گئے تھے. الیکشن ہارنے کے بعد مولانا نے تحریک انصاف کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کی دھمکی دی تھی جو ابھی تک جاری ہے.

Leave a reply