fbpx

گستاخ رسول کی مقررکردہ سزا، سزائے موت کے بل کوقائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے زیر بحث لانے کی منظوری دے دی

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چئرمین خرم نواز کی صدارت میں نادرا ہیڈ کوارٹرزمیں ہوا ہے.
اجلاس میں قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی پاکستان سے چترال سے تعلق رکھنے والے ممبرقومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی کی طرف سے پیش کیا گیا امہات المومنینؓ، اہلِ بیت، خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ کی توہین کرنے والے افراد کو سخت سزا دلوانے لیے مجموعہ تعزیراتِ پاکستان (ایکٹ ۵۴ بابت ۰۶۸۱ء) کی دفعہ 298.A اورمجموعہ ضابطہ فوجداری ۸۹۸۱ء (ایکٹ نمبر ۵، بابت ۸۹۸۱ء) کے شیڈول میں ترامیم پرمبنی ترمیمی بل کوزیربحث لا کرقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نےمنظورکرلیا ہے.

جب بل جمع کرایا گیا تھا تواس پران کے ساتھ متحدہ مجلس عمل پاکستان کے ممبران صلاح الدین ایوبی، مولانا عصمت اللہ، زاہد اکرم خان درانی، مفتی عبدالشکور، سید محمود شاہ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے ممبران انجینئرعثمان خان ترکئی، مجاہد علی نے بھی بل دستخط کیے تھے، یہ بل قومی اسمبلی کے قواعد وضوابط مجریہ 2007ء کے قاعدہ 118 کے تحت نجی ارکان کے بل کے طور پر جمع کرایا گیا تھا، اس سے قبل امہات المومنینؓ، اہلِ بیت، خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ کی توہین کرنے والے افراد کی سزا تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۸۹۲-الف میں سزا صرف تین سال ہے اورمعمولی جرمانہ ہے، جبکہ جرم قابلِ ضمانت بھی ہے، لیکن موجودہ ترمیم کے مطابق امہات المومنینؓ، اہلِ بیت، خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ کی توہین کرنے والے افراد کی کم سے کم سزا دس سال اورزیادہ سے زیادہ سزاعمرقید تجویزکی گئی ہے، جرم نا قابل ضمانت ہوگا اورمقدمہ مجسٹریٹ کی عدالت کی بجائے سیشن کورٹ میں چلایا جائے گا.

اس بل کے اغراض ومقاصد میں کہا گیا ہے کہ سرکارِدوعالم ﷺ کے گستاخ کی مقررکردہ سزا تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ(۵۹۲-سی) کے تحت سزائے موت ہے، دشمنانِ رسول ﷺ کو سزائے موت کے ڈرکی وجہ سے کھلم کھلا گستاخی کی جرأت نہیں ہوتی ہے، گنے چنے لوگ چوری چھپے انٹر نیٹ، سوشل میڈیا وغیرہ پراِکا دُکا توہین آمیز صفحات اپ لوڈ کرتے اور پیغامات بھیجتے رہتے ہیں، تاہم گستاخِ رسولﷺ کی سزا  سزائے موت مقررہونے کی وجہ سے اس جرم کے مرتکب افراد کی تعداد بہت کم ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ صحابہ کرامؓ، مقدس ہستیوں اورشخصیات کی توہین سے نہ صرف وطنِ عزیزکے اندردہشت گردی اورفتنہ وفساد کو فروغ حاصل ہوتا ہے، بلکہ اس قسم کے جرائم کے ارتکاب سے ملک کے ہرطبقہ کے لوگوں کی دل آزادی بھی ہوتی ہے، قرآنِ مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فتنہ وفساد کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ”فتنہ قتل سے بڑاجرم ہے“۔

 تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۸۹۲-الف میں امہات المومنینؓ، اہلِ بیت، خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ کی توہین کے مرتکب افراد کے لیے مقرر کردہ زیادہ سے زیادہ سزا تین سال  مع معمولی جرمانہ ہے، جبکہ یہ جرم قابلِ ضمانت بھی ہے، اس قدر کم سزا ہونے کی وجہ سے مجرمان سزا پانے کے باوجود دوبارہ اس جرم کے مرتکب ہوسکتے ہیں، نیز موجودہ کم سزا کی بناء لوگ ایسے مجرمان کوازخود سزا دینے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے قانون ہاتھ میں لینے کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے۔ 

امہات المومنینؓ، اہلِ بیت، خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ کی توہین کے مرتکب افراد نہ صرف ملکِ پاکستان پر حملہ آور ہوتے ہیں بلکہ یہ ملک دشمنوں کو بھی حملہ آور ہونے کی دعوت دینے کا باعث بنتے ہیں۔ ایسے جرم کے مرتکب افراد ملکی سلامتی کے لیے شدید خطرات پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ اسی وجہ سے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۱۲۱ کے تحت ایسے مجرمان (یعنی ملکی سلامتی کے لیے شدید خطرہ بننے والے افراد)کی سزا  سزائے موت مقرر کی گئی ہے، لہٰذا تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۸۹۲-الف کوبھی تعزیراتِ پاکستان ہی کی دفعہ ۱۲۱ کیساتھ پڑھا اوردیکھا جانا ضروری ہے۔ (کیونکہ یہ افراد دینی اساس کا سبب بننے والے معاملات پر حملہ آور ہوتے ہیں).

ان ترامیم کے جوازمیں مزید کہا گیا ہے کہ جرائم کی فہرست میں چند جرائم ایسے بھی ہیں جو نوعیت کے لحاظ سے امہات المومنینؓ، اہلِ بیت، خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ کی توہین سے بہت کم درجہ کے ہیں، لیکن تعزیراتِ پاکستان میں ان کی سزائیں دفعہ ۸۹۲-الف سے کہیں زیادہ ہیں۔ مثلاً 

1۔ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۵۹۲-الف کے تحت اگر کوئی شخص کسی کے مذہبی شعائر یا مذہبی راہنما کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے تو اس کی سزا ۰۱ سال سزائے قید ہے، جبکہ امہات المومنینؓ، اہلِ بیت، خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ کی توہین کرنے والے کی سزا تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۸۹۲-الف میں نہ ہونے کے برابر ہے اور یہ قابلِ ضمانت بھی ہے۔

2۔ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۰۰۵ کے تحت عام آدمی کی توہین پر پانچ سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہے۔ جبکہ امہات المومنینؓ، اہلِ بیت، خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ کی توہین کرنے کی سزا دفعہ ۸۹۲-الف میں نہایت کم ہے۔

3۔ دفعہ ۱۸۳-الف تعزیرات پاکستان کے تحت سزا ”۰۱ سال قید اور جرمانہ“ ہے۔ جبکہ امہات المومنینؓ، اہلِ بیت، خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرامؓ کی توہین کرنے والے کی سزا دفعہ ۸۹۲-الف میں نہایت کم ہے۔

جبکہ عبد الاکبر چترالی کی طرف سے نادراکنٹریکٹ ملازمیں کومستقل کرنے کے حوالہ سے سیکشن 35 میں دی گئی ترمیم کو قائمہ کمیٹی نے مسترد کردیا ہے.