fbpx

ہائیکورٹ تو آرڈر پاس کر چکی ہے آپ توہین عدالت دائر کر لیتے،عدالت

حمزہ شہباز کی حلف نہ لینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

ہائیکورٹ تو آرڈر پاس کر چکی ہے آپ توہین عدالت دائر کر لیتے،عدالت

حمزہ شہبازکی حلف لینے سے متعلق تیسری درخواست پرسماعت ہوئی لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کی حلف نہ لینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جسٹس جواد حسن نے وکلاء کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا

حمزہ شہباز کے وکیل اشتر اوصاف اور خالد اسحاق عدالت میں پیش ہوئے ،وکیل نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ کے الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا ،گورنر پنجاب نو منتخب وزیر اعلی سے حلف نہیں لے رہے ،ہائیکورٹ نے گورنر پنجاب کو ہدایت جاری کی تھی لیکن انہوں نے حلف نہیں لیا ،جسٹس جواد الحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ تو آرڈر پاس کر چکی ہے آپ توہین عدالت دائر کر لیتے ،آپ کے مطابق ہائیکورٹ کے 2 آرڈرزپرعملدرآمد نہیں ہوا؟آپ نےدرخواست میں گورنرپنجاب اورصدرپاکستان کوفریق بنانا تھا،وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ صدراورگورنرپنجاب کوفریق بنانے کی ضرورت نہیں تھی،

عدالت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور تحریک انصاف کے وکیل کی تلخ کلامی ہوئی عدالت نے دونوں وکلا کو قانون کےمطابق کورٹ کودلائل دینے کی ہدایت کر دی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں وفاقی حکومت کا نمائندہ ہوں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے پی ٹی آئی کے وکیل کوجواب دیا کہ میں آپ کو جوابدہ نہیں ہوں، جسٹس جواد حسن نے کہا کہ آپ نےعدالت کے فیصلے کیخلاف اپیل کیوں دائر نہیں؟ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ تنازع کی وجہ وفاق اورصوبے میں2 مختلف حکومتیں ہیں،جسٹس جواد الحسن نے کہا کہ عدالت کا حکم کوئی کیوں نہیں مانے گا؟ جسٹس جواد حسن نے کہا کہ میں تو ایسے کوئی آرڈر نہیں جاری کروں گا،

اشتراوصاف نے اظہر صدیق کی مداخلت پر اعتراض کردیا وکیل پی ٹی آئی اظہر صدیق نے عدالت میں کہا کہ ایم پی ایز نے فریق بننے کی درخواست دی ہے قانون کے مطابق انہیں فریق بننے کا موقع دیا جائے ۔ ہائیکورٹ نے جتنے بھی آرڈر پاس کیے کسی میں بھی گورنر اور صدر کو نہیں سنا دیا ۔فریق کو سنے بغیر کیسے حکم جاری کو سکتا ہے ۔ دوران سماعت حمزہ شہباز کے وکیل اور اظہر صدیق کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، اظہر صدیق ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں عدالت سے مخاطب ہوں ۔عدالت نے ہمارے حقوق کا بھی تحفظ کرنا ہے ۔پنجاب حکومت کے وکیل نے حمزہ شہباز کی تیسری پٹیشن پر اعتراض اٹھا دیا اور عدالت سے استدعا کی کہ حمزہ شہباز کی تیسری پٹیشن ناقابل سماعت قرار دی جائے اسی ایشو پر دو فیصلے آچکے ہیں

ایڈیشنل ایڈووکیٹ عمیر نیازی نے دلائل کا آغاز کر دیا ،وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ گورنراگرعہدہ نہیں لیتا تو معاملہ صدر کے پاس جاتا ہے، انہوں نے پہلی درخواست میں صدرکوکہا کوئی اورنمائندہ مقررکریں، جسٹس جواد حسن نے استفسار کیا کہ
کیا صدر نے کوئی نمائندہ مقرر کیا؟ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ معاملہ صدر کے پاس زیر التوا ہے،جسٹس جواد حسن نے استفسار کیا کہ 13 گھنٹے گزرگئے ہیں ہائیکورٹ کے حکم کو، یہ بتائیں کہ کون حلف لے سکتا ہے؟ وکیل وفاقی حکومت نے کہاکہ یہ حلف اسپیکر قومی اسمبلی لے سکتے ہیں،حلف برداری چیئرمین سینیٹ بھی کروا سکتا ہے،مگر میری اطلاعات کے مطابق وہ پاکستان میں موجود نہیں، گورنرپنجاب اورصدرپاکستان حلف لیں سکتے یا نمائندہ مقررکرسکتے،یوسف رضا گیلانی کو عدالتی حکم نہ ماننے پرسزا دی گئی، سپریم کورٹ کے فل بنچ نے سزا سنائی، یوسف رضاگیلانی قصوروار پائے گئے،

جسٹس جواد الحسن نے حمزہ شہباز کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا عدالتی وقت ختم ہوچکا ہے ؟ وکیل نے کہا کہ ہائیکورٹ رولز میں آپ کے پاس اتھارٹی ہے آپ ٹائم بڑھا سکتے ہیں،جسٹس جواد حسن نے کہا کہ آج جمعتہ الوداع ہے،نمازکی ادائیگی کے لیے جارہا تھا،میں نے ہر کام آئین کے مطابق کرنا ہے میں جب بھی نماز سے واپس آیا آگے کیسز کا ڈھیر لگ جاتا ہے

قبل ازیں لاہورہائیکورٹ کے جسٹس فیصل زمان نے کیس کی سماعت سے معذرت کر لی لاہورہائیکورٹ کے جسٹس جواد الحسن نے حمزہ شہبازکی درخواست پراعتراض ختم کردیا رجسٹرارآفس نے درخواست کیساتھ مصدقہ دستاویزات نہ لگانے پراعتراض لگایا تھا جسٹس جوادالحسن نےفائل واپس چیف جسٹس کوارسال کردی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے درخواست سماعت کیلئے جسٹس فیصل زمان خان کوبھیج دی

واضح رہے کہ حمزہ شہباز نے وزیر اعلیٰ کا حلف نہ لینے کیلئے تیسری بار لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا حمزہ شہباز نے لاہور ہائیکور ٹ میں آئینی درخواست دائر کی ہے ،درخواست میں وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کو فریق بنایا گیا ہے ،حمزہ شہباز نے درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ حلف لینے سے متعلق احکامات جاری کر چکی ہے لیکن عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں ہو رہا،گورنر پنجاب ایک بار پھرعدالتی احکامات ماننے سے انکار کر رہے ہیں۔ حمزہ شہباز نے درخواست میں استدعا کی کہ عدالت بطور وزیر اعلیٰ پنجاب حلف لینے کیلئے نمائندہ مقرر کرے ،ساتھ ہی لاہور ہائیکورٹ جگہ اور وقت کا بھی تعین کرے ۔حمزہ شہباز نے استدعا کی کہ عدالتی حکم نہ ماننے والوں کے اقدامات کو خلاف آئین قرار دیا جائے ۔

ماسک سمگلنگ کے الزامات، ڈاکٹر ظفر مرزا خود میدان میں آ گئے ،بڑا اعلان کر دیا

آزادی اظہار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،مریم اورنگزیب

عمران خان نے خطرناک کھیل کھیلا، کسی بھی رحم یا رعایت کا مستحق نہیں،مریم نواز

قانون کے برخلاف حلف برداری کو رکوایا گیا،عطا تارڑ

حلف نہ لینے کے معاملے پرعدالتی حکم پرعمل کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

صدر مملکت نے وزیراعظم کو خط کا "جواب” دے دیا