fbpx

طالبان کی حمایت کرنے والے امام کی قیادت میں "200 کے” پاؤنڈ دینے والوں کی ہوم آفس پردہ پوشی کررہا

طالبان کی حمایت کرنے والے امام کی قیادت میں 200 کے پاؤنڈ دینے والوں ہوم آفس پردہ پوشی کررہا

ڈیلی میل کی ایک خبر کے مطابق ہوم آفس ‘بلاب’ پردہ پوشی کرہا ہے کیونکہ سرکاری ملازمین نے ایک امام کی قیادت میں ایک گروپ کو 200k پاؤنڈ دیے تھے جنہوں نے کبھی طالبان کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا تھا۔ جبکہ خوف زدہ ہوم آفس کے سرکاری ملازمین جنہوں نے ایک امام کی قیادت میں ایک گروپ کو تقریباً دو سو کے پاؤنڈ دیے تھے جس نے کبھی طالبان کی حمایت کا اظہار کیا تھا اب اس کا نام ایک سرکاری رپورٹ سے باہر رکھ کر اسے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خبر کے مطابق بائیں بازوں کے وائٹ ہال پین پشرز جسے ‘دی بلاب’ کہا جاتا ہے انسداد انتہا پسندی پروگرام کے جائزے کی اشاعت میں تاخیر کر رہے ہیں اور یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں نامزد افراد مقدمہ کر سکتے ہیں۔ لیکن دی میل آن سنڈے کے مطابق اس ‘قانونی دوڑ’ کو بیوروکریٹس کے ذریعہ ‘اے *** ای کورنگ’ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جس سے وہ انکشافات پر اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

ڈی میل کی رپورٹ کے مطابق ایک باخبر ذرائع نے ایم او ایس کو بتایا: ‘اگر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی پیسہ لوگوں اور گروہوں کو دیا گیا تھا جو اس رقم کو حاصل کرنے کے لیے موزوں نہیں تھے، تو یہ عوامی فنڈز کا غلط استعمال تصور کیا جائے گا لہذا اس کا پتہ لگانا بہت ضروری ہے کہ یہ کس عہدیدار نے فیصلے کیے ہیں۔

پروینٹ آف اورہاؤل کاؤنٹر ٹریرزم اسکیم کو روک دیا گیا ہے کیونکہ ہوم آفس کے وکلاء اور سرکاری ملازمین نے چیریٹی کمیشن کے سابق سربراہ ولیم شیکروس کی خواہش کے خلاف ترمیم کا مطالبہ کیا تھا، جنہوں نے اسے اپریل میں مکمل کیا تھا۔ اس کو دیکھنے والے ذرائع نے ایم او ایس کو بتایا کہ ناٹنگھم میں ایک امام اور چیریٹی ہیڈ کی شناخت ڈاکٹر مشرف حسین کے طور پر کی گئی ہے.

مولوی ناٹنگھم میں کریمیا انسٹی ٹیوٹ کے چیف امام اور سی ای او ہیں. اور کریمیا کو تقریباً £200,000 رقم موصول ہونے کا اندازہ ہے۔ جبکہ ڈاکٹر حسین نے شدت پسندی کے خلاف مہم چلاتے ہوئے برسوں گزارے ہیں، لیکن 2021 میں جب طالبان کابل پر قبضہ کر رہے تھے اور ایک انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ ان کے قبضے کے بارے میں مثبت کیوں محسوس کرتے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ یہ طالبان کے لیے یہ دکھانے کا ایک شاندار موقع ہے۔ کہ وہ واقعی مثبت اور اچھی تبدیلی لا سکتے ہیں۔

کریمیا ڈان کے نام سے ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن بھی چلاتا ہے جسے براڈکاسٹنگ ریگولیٹر آف کام نے دو بار سرزنش کی تھی۔
فروری 2018 میں، اس پر 2,000 پاؤنڈ جرمانہ کیا گیا تھا جب اس نے ناشاد نامی ایک اسلامی مذہبی گانا نشر کیا، جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ نفرت انگیز ہے. جبکہ دسمبر 2017 میں، آف کام نے ریڈیو ڈان کو بھی اس وقت تنقید کا نشانہ بنایا جب ایک مذہبی اسکالر نے فون میں ایک کال کرنے والے کو جو ذیابیطس کا مریض تھا غیر مسلم ڈاکٹروں کے طبی مشورے نہ سننے کو کہا تھا۔ آف کام نے اس مشورے کو ‘جارحانہ’ قرار دیا تھا۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
مبشر لقمان کی دہائی، ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔جنرل فیض بے نقاب،وائٹ پیپر،خطرے کی گھنٹیاں
ایران میں خواتین کیلئے گاڑیوں میں سر پر اسکارف لازمی پہننے کی وارننگ دوبارہ جاری
ملک بھرمیں گزشتہ 24 گھنٹے کےدوران کورونا سے دو اموات رپورٹ
متعدد ممالک کی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے شرط،چینی حکومت کا شدید ردعمل
گزشتہ رات جب ایم او ایس نے ڈاکٹر حسین سے رابطہ کیا تو وہ یہ سن کر حیران رہ گئے کہ پریونٹ رپورٹ میں ان کا نام درج تھا لہذا انہوں نے کہا کہ ہوم آفس سے کسی نے بھی اشاعت سے پہلے جواب کے لیے ان سے رابطہ نہیں کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر رپورٹ میں ان کا منفی ذکر کیا گیا تو کیا وہ ہوم آفس پر مقدمہ کریں گے، ڈاکٹر حسین نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ کریمیا اور ایک اور خیراتی ادارے کو بچانے کے لیے ایسا کریں گے جسے وہ مسلم ہینڈز کہتے ہیں۔

ڈاکٹر حسین نے اپنے گزشتہ بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف سر نک کارٹر کی باتوں کی بازگشت کر رہے تھے۔ ڈیلی میل کے مطابق مولوی جو اب طالبان کی مذمت کرتے ہیں نے مزید کہا کہ اشتعال انگیز نشید ریڈیو ڈان پر غلطی سے چلایا گیا تھا جبکہ ہوم آفس نے کہا ہے کہ حکومت فی الحال آزادانہ جائزے کی سفارشات کا جائزہ لے رہی ہے اور مناسب وقت پر رپورٹ اور جواب شائع کرے گی۔