fbpx

لاہور: ڈینگی شدت اختیار کر گیا، اسپتالوں میں مریضوں سے90 فیصد بیڈز بھر گئے

لاہورمیں ڈینگی کی صورتحال شدت اختیار کر نے لگی سرکاری اسپتالوں میں 90 فیصد تک بیڈز مریضوں سے بھر گئے ہیں۔

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ایکسپو سینٹرڈینگی فیلڈ اسپتال میں بھی49 مریض داخل ہوگئے ہیں 3 روز میں ڈینگی کے500 سے زائد مصدقہ مریض رپورٹ ہوئے ہیں گزشتہ24 گھنٹوں میں پنجاب بھر میں 262 جبکہ لاہور میں184 مریض رپورٹ ہوئے۔

بڑھتے کیسز کے پیش نظر لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے ایکسپوسنٹر میں 280 بیڈز پر مشتمل ڈینگی فیلڈ اسپتال فعال کر دیا ہے جناح، گنگارام اور جنرل اسپتال میں مریضوں کے لئے کوئی بیڈ موجود نہیں، دیگر اسپتالوں میں بھی ڈینگی کیلئے مختص کیے گئے بیڈ 90 فیصد تک بھر چکے ہیں۔

ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر

محکمہ صحت حکام کا کہنا ہے کہ شہری پہلے ریسکیو ہیلپ لائن پر کال کریں اور پھر کسی اسپتال جائیں، تاکہ پریشانی سے بچا جا سکے محکمہ صحت کے مطابق ایکسپو سینٹر میں سی بی سی سمیت تمام علاج معالجہ مفت ہے، جبکہ نجی لیبارٹریز کو ڈینگی مشتبہ مریضوں کا ٹیسٹ90 روپے میں کرنے کا مراسلہ جاری کر رکھا ہے۔

ڈینگی کیا ہے؟ اس کی علامات –

ڈینگی ایک مخصوص مادہ مچھرکے کاٹنے سےہوتا ہے یہ ہڈی توڑ بخار، ڈینڈی فیور، ڈینگی ہیمریجک فیور اور ڈینگی شاک سنڈروم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے یہ ذیادہ تر ٹراپیکل اور سب۔ٹراپیکل موسمی حالات میں شہری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ تمام عمر کے افراد جو کہ متاثرہ مچھر تک رسائی رکھتے ہیں اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

یہ بیماری ذیادہ تر ایشیاء اور جنوبی امریکہ کے ٹراپیکل علاقوں میں بارشوں کے موسم میں ہوتے ہیں جہاں وہ مخصوص مچھر ذیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ وائرس متاثرہ مادہ مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے وائرس کے خون میں داخل ہونے اور علامات ظاہر ہونے تک کا دورانیہ 14۔3 دن ہے جبکہ بیماری کا دورانیہ 7۔3 دن ہے۔

ڈینگی کے وار مسلسل جاری،اسلام آباد میں مریضوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی

علامات میں شدید سر درد، ہڈیوں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھ کے پیچھے شدید درد، جسم پر ریشم اور مختلف اشکال اور سائز کے نیل پڑ جانا، ناک سے خون نکلنا، مسوڑوں سے خون رسنا، پیشاب میں خون آنا اور بازو پر پٹی باندھنے والا ٹیسٹ پوزیٹو آنا قابل ذکر ہیں

ماہرین صحت کے مطابق ڈینگی کے مرض میں مبتلا 80 فیصد افراد کو اسپتال میں علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان کا علاج گھر پر ممکن ہے۔

ڈینگی مچھر صبح روشنی ہونے سے پہلے اور شام میں اندھیرا ہونے سے دو گھنٹے قبل زیادہ متحرک ہوتا ہے، اس کی افزائش آگست سے اکتوبر کے مہینے کے دوران میں ہوتی ہے اور سرد موسم میں ڈینگی کی کی افزائش نسل رک جاتی ہے۔

کورونا وائرس کے بعد ڈینگی وائرس میں بھی جینیاتی تبدیلی کا انکشاف

ڈینگی کا مرض مچھر کے ذریعے مریض سے کسی بھی دوسرے شخص کو منتقل ہوسکتا ہے۔طبی ماہرین کہتے ہیں کہ مرض میں مبتلا مریضوں کے خون میں پلیٹیٹس کی تعداد 50 ہزار سے کم ہونے لگے تو وہ علاج کے لیے اسپتال جائیں ۔

اس وائرس میں مبتلا ذیادہ تر افراد بالکل تندرست ہو جاتے ہیں۔ جبکہ شرح اموات 5۔1 فیصد ہے جو کہ مکمل علاج سے 1 فیصد سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ تاہم اگر بلڈ پریشر خاصا کم ہو جائے تو اموات کی شرح بڑھ کر 26 فیصد تک چلی جاتی ہے۔

احتیاطی تدابیر

پورے بازوں والی قمیضیں پہنیں اور پوری ٹانگوں کو ڈھانپنے والی پینٹس کا استعمال کریں ، اپنے کپڑوں پر مچھر مار ادویات یا سپرے(پرمیتھرن) کا چھڑکاؤ کریں۔

ای۔پی۔اے سے منظور شدہ مچھر مار ادویات جیسا کہ ڈیٹ کا استعمال کریں ، اگر آپ کے علاقے میں مچھر کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں تو مچھر دانی کا استعمال لازمی کریں۔

اپنے گھروں میں، برتنوں میں، ٹوٹے ہوئے ٹائروں میں، گلدانوں میں یا ٹوٹی ہوئی بوتلوں میں پانی مت کھڑا ہونے دیں۔ ڈینگی کے بخار کی ویکسین لگوائیں –

پنجاب میں ڈینگی کے مزید 73 کیسز رپورٹ

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!