ہتک عزت بل 2024ء پنجاب اسمبلی میں منظور،اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں

اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر کی قیادت میں اپوزیشن نے ایوان میں ہنگامہ آرائی کی
0
126
lahore

لاہور: پنجاب اسمبلی نے اپوزیشن اور صحافیوں کے احتجاج کے باوجود ہتک عزت بل 2024 منظور کر لیا-

باغی ٹی وی :اجلاس میں لوکل گورنمنٹ کے سوالات اور توجہ دلاؤ نوٹس کے بعد وزیر پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمان نے ہتک عزت بل 2024 ایوان میں پیش کیا، جس پر صحافیوں نے پریس گیلری سے احتجاجا واک آؤٹ کیا جبکہ اپوزیشن نے بھی اسے مسترد کردیا۔

دوسری جانب حکومت نے صحافتی تنظیموں کی جانب سے بل مؤخر کرنے کی تجویز مسترد کردی اور بل کے خلاف اسمبلی سیڑھیوں پر احتجاج کیا اور ملک گیر احتجاج کی کال دے دی جبکہ صحافتی تنظیموں نے آج وزیر اطلاعات پنجاب سے ملاقات میں بل کچھ روز مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا تھا، صحافتی تنظیمیں بل سے متعلق اپنی تجاویز دینا چاہتی ہیں۔

اپوزیشن نے بھی ہتک عزت بل کو مسترد کردیا، اپوزیشن نے بل سے متعلق 10 سے زائد ترامیم پنجاب اسمبلی میں جمع کرائیں، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد اسحاق نے بل کے اہم نکات بیان کیے اور اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب دیابل پر بحث کے دوران اپوزیشن کی تجویز کردہ تمام ترامیم مسترد کردی گئیں جبکہ بل اکثریت رائے سے منظور کرلیا گیا، اپوزیشن نے بل کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے بل کے خلاف احتجاج کیا اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔

ہتک عزت بل کے مسودے پر انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے بھی اظہارِ تشویش کرتے ہوئےکہا کہ بل آزادی اظہار کا گلا گھونٹ رہا ہے۔

پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی شہادت پر متفقہ تعزیتی ریفرنس کی قرارداد بھی منظور کی گئی،ایجنڈا مکمل ہونے پر اسپیکر ملک احمد خان نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا-

پنجاب اسمبلی کا اجلاس 2 گھنٹے 24 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا، حکومت نے ہتک عزت بل 2024ء پنجاب اسمبلی میں پیش کردیا،اجلاس کی صدارت اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کی، اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر کی قیادت میں اپوزیشن نے ایوان میں ہنگامہ آرائی کی اور ارکان نے کالا قانون نامنظور ، کالے کرتوت نامنظور کے نعرے بھی لگائے، اپوزیشن نے بل کے خلاف پلے کارڈز بھی اپنی نشستوں پر آویزاں کرد ئیے، اپوز یشن نے کہا کہ ہم ہتک عزت بل کو مسترد کرتے ہیں اور اس کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔

پاکستانی فینز کے پیغامات اچھے لگتے ہیں، روہت شرما

مسنگ پرسنز کے حوالے سے کچھ سفارشات کمیٹی نے مرتب کر رکھی ہیں،وزیر قانون

قبل ازیں صحافیوں نے بھی پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت بل 2024ء مسترد کر دیا ہے، لاہور پریس کلب میں ہونے والے اجلاس میں صدرلاہور پریس کلب ارشد انصاری اور دیگر نے کہا کہ پیمرا، ہتک عزت اورپیکا کے قوانین پہلے سے موجود ہیں، ایسے میں نیا قانون بدنیتی پر مبنی ہے، ارباب اختیار کو پُرامن طور پر اپنے احتجاج سے آگاہ کر رہے ہیں، حکومت بل بنانے سے باز نہ آئی تو احتجاج ہوگا۔

دوسری جانب ایسوسی ایشن آف الیکڑانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز (ایمنڈ ) بھی حکومت پنجاب کی جانب سے تیار کیا گیا ہتک عزت کا مجوزہ بل اور وفاقی حکومت کے پیکا ترمیمی بل کو مسترد کرچکی ہے، اس سلسلے میں لاہور میں ایمنڈ کی جنرل باڈی کا اجلاس ہوا جس میں ملک میں آزادی صحافت کی موجودہ صورتحال اور الیکٹرانک میڈیا کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔

خواتین کیساتھ زیادتی کی ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالے دو ملزمان پولیس مقابلے میں …

اجلاس میں کہا گیا کہ ایمنڈ ہتک عزت اور فیک نیوز کے تدارک کے لیے قانون سازی کی مخالف نہیں تاہم کوئی بھی قانون بنانے سے پہلے ناصرف اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے بلکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایسا کوئی قانون آزادی اظہار رائے کو متاثر نہ کرے، اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر عجلت میں منظور کیا گیا کوئی بھی قانون آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہوگا-

ہتک عزت بل 2024 :ہتک عزت بل 2024کا اطلاق پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر ہوگا، پھیلائی جانے والی جھوٹی، غیر حقیقی خبروں پر ہتک عزت کا کیس ہو سکے گا یوٹیوب اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی جعلی خبروں پر بھی بل کا اطلاق ہوگا، ذاتی زندگی،عوامی مقام کو نقصان پہنچانے کے لیے پھیلائی جانے والی خبروں پر بھی کارروائی ہو گی، ہتک عزت کےکیسز کے لیے ٹربیونل قائم ہوں گے جو کہ 6 ماہ میں فیصلہ کرنے کے پابند ہوں گے۔

ہتک عزت بل کے تحت 30 لاکھ روپے کا ہرجانہ ہوگا، آئینی عہدوں پر موجود شخصیات کے خلاف الزام پر ہائی کورٹ بینچ کیس سن سکیں گے، خواتین اور خواجہ سراؤں کو قانونی معاونت کے لیے حکومتی لیگل ٹیم کی سہولت میسر ہوگی-

Leave a reply