اداروں کی تباہی کے اسباب تحریر : انجنئیر مدثر حسین

0
102

پاکستان اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت ہے۔ جہاں پاکستان کو معدنیات سے خود کفیل کیا گیا وہاں قدرتی حسن نے پاکستان کی زمین کو چار چاند لگا رکھے ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات جہاں پہاڑوں اور چٹیل چٹانوں میں سبزہ تو کبھی برف سے لدے دکھائی دیتے ہیں وہیں میدانی اور شہری علاقوں کی رونقیں اس کو ہر طرح کے ماحول سے آراستہ کررہی ہیں۔
کہیں صحراوں کی بیابانی ہے تو کہیں دریاؤں کی سرسراہٹ۔ الغرض پاکستان اپنے حسن کے لحاظ سے خود کفیل ملک ہے۔ پاکستان دفاع کے لحاظ سے بھی بھی صف اول کی قوموں میں شمار ہوتا ہے خواہ وہ ماضی کے ایم ایم عالم ہوں یا حالیہ 27 فروری کے شیر جوان یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیکن بد قسمتی سے پاکستان کرپشن میں بھی خود کفیل ہے۔ جس نے اس کے ہر سول ادارے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ماضی کے اوراق دیکھیں تو پتا چلتا یے کہ کہیں سفارشوں اور رشوت کے انبار لگے نوکریاں بیچی گئیں۔ تو کہیں اپنے زاتی کاروبار کو سامنے رکھتے ہوے اداروں کو نقصان پہنچایا گیا۔ پی آئی اے، ریلوے اور سٹیل مل آج بھی اس ظلم کی دل خراش داستان ہے۔
ماضی کی بادشاہت نے قوم کو غلامی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ آج پاکستان بیرونی طور پر مقروض ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے سول اداروں کی وجہ سے اپاہج بھی ہے۔ میرٹ اور ٹیلنٹ کے قتل عام کے بعد جو قوم اداروں میں بٹھائی گئی اس کے نتائج وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عیاں ہو رہے ہیں۔
ایک بات تو صاف ہے جو لوگ ایمانداری سے اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں ان کی مثال لاجواب ہےلیکن یہاں بات ان کی ہو رہی جنہوں نے رشوت اور اقربا پروری کا بازار گرم کر رکھا ہے.

جس کے پاس نوکری نہیں وہ نسل در نسل میرٹ کے قتل کی وجہ سے پرائیویٹ اداروں کی رسم مہربانی پر لگے ہوئے ہیں. لیکن جن کے پاس نوکریاں ہیں ان کی نسل در نسل چلتی آ رہی ہے.

رہی سہی کسر رشوت کے انصاف اور اقربا پروری کی نوکریوں نے نکال رکھی ہے. جس کا آخر کار نقصان ادارے کو ہی ہوتا ہے. نا میرٹ پر بھرت ہوتی ہے نا کام کرنے والے اہل لوگ منتخب ہو پاتے ہیں نا ادارہ ترقی کرتا ہے. آج اگر سٹیل مل جیسے ادارے خسارے میں ہیں تو ان کی بڑی وجہ یہ بھی ہے. مزید یہ کہ سرکاری اداروں میں بیٹھ کر اپنا کاروبار چمکانا اور اپنے کمپنی کو کاروبار دینا معمول بن چکا ہے.
پی آئی اے اور ریلویز کی ماضی کی تباہی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے. آج بھی یہ ادارے اہنی زندگی کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں.
موجودہ حکومت اپنے تئیں ان اداروں کے خسارے کو کم کرنے کی تگو دو میں مصروف ہے کیونکہ جب ادارہ خسارے کا شکار ہوتا ہے تو اس کا سارا بوجھ قومی بجٹ پر پڑتا ہے جس سے عوام کا پیسہ انہیں خساروں کو پورا کرنے میں لگ جاتا ہے اور سارے باقی ترقیاتی اور فلاح و بہبود کے منصوبے تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں.
اس روش کو ختم کرنا وقت کی اولین ترجیح ہے تاکہ قومی خزانے کو درست سمت دی جا سکے اور عوام کی فلاح و بہبود کو ملحوظ خاطر رکھا جا سکے.
پاکستان کی قیادت کو ان مسائل کے حل کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے. جس سے میرٹ کا قتل نہ ہو. ادارے کا نقصان نہ ہو اور رشوت کی روش کو ختم کیا جاے تاکہ عام عوام کو ان اداروں سے اچھی سروس اور سہولیات مل سکیں اور مستقبل ادارے اپنی ترقی کی جانب ہی گامزن رہیں. جہاں میرٹ کا قتل نا ہوتا ہو رشوت کا بازار گرم نا ہو اور اقربا پروری فروغ نا پاتی ہو اس ادارے کی ترقی کو کوئی روک نہیں سکتا. ہمیں بھی بطور انسان اپنے ادارے سے مخلص رہنا چاہیئے کیونکہ ادارے کی بقا ہی ہماری بقا ہے اور ادارے کی تباہی ہماری تباہی ہے.

@EngrMuddsairH

Leave a reply