نیب ترامیم کیخلاف درخواست دائر کرنیوالے عمران اور بشریٰ کو ملا انہی ترامیم سے ریلیف

0
35
bushra bibi

پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کے بعد سپریم کورٹ جانے والے عمران خان نے بھی نیب ترامیم کے تحت عدالت سے ریلیف حاصل کر لیا، کیا اب عمران خان سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف دائر درخواست واپس لیں گے

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے نیب ترامیم کے تحت ریلیف حاصل کر لیا، عمران خان جو نیب ترامیم کے خلاف تھے، انہوں نے خود کو بچانے کے لئے بالاآخر انہی نیب ترامیم کا سہارا لیا ، سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت چل رہی ہے عمران خان کیا اب درخواست واپس لیں گے اور سپریم کورٹ کو بتائیں گے کہ انہی نیب ترامیم کے تحت فائدہ لینے والوں میں میں اور میری اہلیہ بھی شامل ہیں،

توشہ خانہ تحائف کی تحقیقات کے معاملے میں عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بھیجے گئے نیب نوٹسز کے خلاف حکم جاری کیا ہے، حالیہ نیب ترمیم کے نتیجے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف ملا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری حکم میں کہا ہے کہ نیب نوٹسز قانون کے مطابق نہیں اس لیے کوئی قانونی حیثیت نہیں نیب قانون کے تمام تقاضے پورے کرکے نیا نوٹس جاری کر سکتا ہے

عمران خان اور بشریٰ بی بی نے 16 مارچ اور 17 فروری کے نیب کی جانب سے بھیجے گئے نوٹسز چیلنج کر رکھے تھے جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق اور جسٹس بابر ستار نے 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ نیب ترمیم کے مطابق نیب نے نوٹس میں بتانا ہے کہ بطور ملزم طلبی ہے یا کسی اور حیثیت میں ، اگر کوئی ملزم ہے تو اس کو الزامات بتانے ہیں تا کہ وہ اپنا دفاع پیش کر سکے نیب کی اس ترمیم سے معلوم ہوتا ہے کہ آرٹیکل 10-A فئیر ٹرائل کے تقاضے پورے کرنے کے لیے یہ کی گئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو نوٹس بھیجتے وقت نیب ترمیم کے سیکشن 19 ای پر مکمل عمل نہیں ہوا نیب کال اپ نوٹسز میں نہیں بتایا گیا بطورملزم بلایا جارہا ہے یا کسی اور حیثیت میں ۔ نیب کال اپ نوٹسز عدالتی فیصلوں کے طے کردہ قواعد سے بھی مطابقت نہیں رکھتے

نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

 سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

Leave a reply