پلوامہ :بھارتی فوج کے مظالم جاری ،آپریشن کے دوران ایک اورکشمیری نوجوان شہید

0
37

سرینگر:پلوامہ :بھارتی فوج کے مظالم جاری ،آپریشن کے دوران مزید ایک کشمیری نوجوان عسکریت پسند شہید،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے اونتی پورہ علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم میں ایک نوجوان کشمیری عسکریت پسند کو شہید کر دیا گیا۔

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق کشمیر زون پولیس کا کہنا ہے کہ دیر رات پامپور کے میج علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو محاصرے میں لیا اور تلاشی کارروائی شروع کی

اطلاعات کے مطابق حکام نے اونتی پورہ، ترال اور پامپور علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی ہیں۔ذرائع کے مطابق علاقے میں دو سے تین عسکریت پسند چھپے ہوئے ہیں اور مذکورہ علاقے کے تمام راستوں کو سیل کر دیا گیا ہے ۔بد ھ کی شام اننت ناگ میں سیکورٹی فورسز نے ریڈوانی کولگام سے تعلق رکھنے والے حزب المجاہدین کے ایک کارکن کو بھی گرفتار کر لیا۔

مقبوضہ کشمیر میں 16جون کو بھی شوپیان میں آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم میں تین نوجوان کشمیری عسکریت پسند شہیدہوئے ۔

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ضلع پلوامہ میں 2000سے اب تک200مختلف واقعات میں 377افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔جبکہ1008واقعات میں917عسکریت پسند, 440شہری اور58نامعلوم افراد شہید کئے گئے ۔ضلع میں اسی عرصے میں315سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔

مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں125کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 اور مئی میں 16کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔جبکہ 29سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے60واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس سال دھماکوں کے 16واقعات میں21شہریوںاور ایک سیکورٹی اہلکار کی اموات ہوئیں جبکہ14سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020میں 62مختلف واقعات میں 129افراد کو گرفتار کیا گیا۔

گزشتہ ایک ماہ میں حزب المجاہدین کے 4 کمانڈر شہید کئے گئے ہیں جن میں ریاض نائکو ، ڈاکٹر سیف اللہ ، جنید احمد صحرائی اور فاروق احمد بھٹنالی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق رواں برس تاحال 38 واقعات میں 94 عسکریت پسند شہید کئے گئے ہیں جن میں حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر ریاض نائیکو سمیت دیگر پانچ کمانڈر شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں 250 کے قریب عسکریت پسندوں کے حمایتی بھی حراست میں لئے ہیں۔ پولیس ذرایع کا کہنا ہے کہ معرکہ آرائیوں میں تیزی کا باعث عسکریت پسندوں کے معاونوں کی گرفتاری ہے جبکہ انٹرنیٹ ڈیٹا اور فوبائل فون کے استعمال پر کڑی نگرانی بھی ان کاروائیوں میں کافی اہم رول ادا کرتے ہیں۔

گزشتہ چھ مہینوں میں سیکیورٹی فورسز نے بڑی کاروائیاں انجام دی ہے تاہم لوگوں کی جانب سے تصادم آرائیوں کے بعد ہونے والے احتجاج اور پتھراوا کے واقعات میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔سیکیورٹی فورسز نے کووڈ 19 لاک ڈان کی آڑ میں تصادم کے مقامات پر پتھراوکے واقعات اور احتجاج کو روکنے کے لئے ایک نیا منصوبہ سامنے لایا جس کے تحت کسی بھی مقامی ہلاک شدہ عسکریت پسند کی لاش کو لواحقین کے سپرد کرنے کے بجائے ان کو بارہمولہ یا گاندبل کی دور دراز پہاڑیوں میں دفنایا جاتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کے پاس اسلحہ کی دیکھی جا رہی ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی نگرانی کڑی ہوئی ہے۔

Leave a reply