بھارت دیوالیہ،بھارتی فوج میں مزید بھرتیوں پر پابندی، پنشن میں بھی ہو گی کٹوتی

بھارت دیوالیہ،بھارتی فوج میں مزید بھرتیوں پر پابندی، پنشن میں بھی ہو گی کٹوتی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مودی کے سر پر جنگی جنون سوار،لیکن بھارتی فوج کو تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں

بھارتی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ فوج کو دینے کے لئے پیسے نہیں اسلئے مزید بھرتیاں نہیں کی جائیں گی بلکہ جو فوجی ہیں انہی سے کام لیا جائے اور انکی ریٹائر منٹ کی عمر کی حد میں اضافہ کیا جائے گا،ریٹائرڈ ہونے والی فوجیوں کی پنشن میں بھی کٹوتی کی جائےگی،

بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق مودی سرکار ایک جانب دنیا بھر سے جنگی اسلحہ خرید رہی ہے، رافیل کی دوسری کھیپ کل بھارت پہنچی ہے تا ہم بھارتی فوج کو تنخواہیں دینے کے لئے مودی سرکار تیار نہیں، اس ضمن میں بھارت کی عسکری قیادت نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا، باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق جنرل بپن راوت کی زیرقیادت نوتشکیل شدہ محکمہ فوجی امور نے تجویز رکھی ہی کہ بھارت مسلح افواج کے آفیسرکی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کیا جائے۔ اور جو اضافہ نہیں کروانا چاہتے اور موجودہ عمر کے حساب سے ہی ریٹائر ہونا چاہتے ہیں انکی پنشن میں کٹوتی کی جائے

اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھارت کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تجویز دی کہ مالی بحران کیوجہ سے مسلح افواج میں بہتری لانے کیلئے نئی بھرتیاں کرنے کے بجائے موجودہ افراد سے ہی کام چلایا جائے۔ تجویز کے مطابق جن فوجی عہدیداروں نے 35 سال ملازمت کی ہے انہیں مکمل پنشن دی جائے گی لڑائی کے دوران مارے جانے والے جوانوں، فوجی عہدیداروں کی پنشن میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

جن لوگوں نے 31 تا 35 سال خدمات انجام دی ہیں وہ 75 فیصد پنشن حاصل کرنے کے مستحق ہوں گے۔ صرف 35 سال سے زیادہ سرویس کرنے والوں کو ہی ان کی آخری تنخواہ کا 50 فیصد دیا جائے گیا۔

واضح رہے کہ بھارتی فوج میں شامل بھارتی جوان بھی اعلیٰ حکام کے روییے سے تنگ آ چکے ہیں،ماہ اکتوبر میں سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں پیس اینڈ کونفلیکٹ ریسرچ کے پروفیسر اشوک سوائن نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں بھارتی فوجیوں کو شکوہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے کہ ‘انسداد دہشت گردی کے آپریشن میں شمولیت کے لیے بلٹ پروف گاڑی فراہم کرنے کے بجائے عام گاڑی دے کر فوجی افسران ہماری زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں’۔

بھارتی دفاعی اورسیاسی امور کے ایک ماہرتجزیہ نگاراشوک سوائن کے مطابق اس دوران برابر میں بیٹھے ایک فوجی اہلکار نے کہا کہ ‘کمانڈر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اوپر بتائیں’۔ جس پر شکوہ کرنے والے نوجوان نے جواب دیا کہ ‘کمانڈر نہیں بتائے گا ہم جان بوجھ کر اپنی زندگی برباد کررہے ہیں اور کمانڈر کو کیا ضرورت ہے بولنے کی وہ تو نہیں بولے گا’۔

فوجی گاڑی میں سوار فوجی نے مزید کہا کہ ‘او سی (سینئر افسر) بلٹ پروف گاڑی میں چار پانچ لوگوں کے ساتھ روانہ ہوگئے اور ہمیں اس عام گاڑی میں بھیج دیا جہاں بلٹ پروف گاڑی محفوظ نہیں وہاں یہ ٹین کا ڈبہ جس پر پتھر مارو تو آر پار ہوجائے، ایسے میں ہم کس طرح محفوظ ہوسکتے ہیں’۔فوجی اہلکار نے کہا کہ ‘ہمیں اس گاڑی میں چھانٹ کر بھیج دیا کہ تاکہ ہم (حملے) میں مارے جائیں’۔

اس دوران ویڈیو بنانے والا فوجی موبائل کو اپنی طرف کرکے کہتا ہے کہ ‘بہت ناقص انتظامات ہیں، او سی افسر تو بلٹ پروف گاڑی میں چلا جاتا ہے اور کمپنی (اہلکاروں) کو سادہ گاڑیوں میں روانہ کردیتا ہے’۔

لداخ میں انڈیا اور چین میں سرحدی کشیدگی، سینئر صحافی مبشر لقمان نے کیا دی تجویز

‏یہ وہ لات ہے جو ایک چینی فوجی نے لداخ میں ایک بھارتی فوجی کو تحفہ میں دی

لداخ میں چین کے ہاتھوں شرمناک شکست پر جنرل بخشی نے ایک سائیڈ کی مونچھیں کٹوا دیں

"پلیز گو بیک چائنہ” بھارتی فوج کے ترلے، بینر اٹھا لیے

جنگ کی تیاری کرو، چینی صدر کا فوج کو حکم

چائنہ نے لداخ کے قریب اپنے ایئر بیس کو مزید پھیلانا شروع کر دیا،جنگی طیارے بھی پہنچا دیئے

لداخ پر پنگے بازی پر چائنہ نے بھارتی فوج کو رگڑ دیا مگر کشمیر پر ہم احتجاج سے آگے نہ بڑھ سکے

مودی سرکار کے عزائم پڑوسی ممالک کیلئے خطرہ بن چکے،وزیراعظم عمران خان

چین نے دیا بھارت کو ایک بار پھر بڑا جھٹکا،لداخ کے بعد ارونا چل پردیش پر بھی اپنا دعویٰ کر دیا

ٹوئٹر پر ویڈیو شیئر کرنے والے پروفیسر اشوک سوائن نے کہا کہ ‘کیا مودی حکومت نے پلوامہ سے کوئی سبق نہیں سیکھا جہاں 40 فوجی مارے گئے تھے؟انہوں نے مزید کہا کہ ‘اب بھی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے عام ٹرکوں میں فوجیوں کو بھیجا رہا ہے اور فوجی ناراض ہیں’۔

یہ کوئی پہلی ویڈیو نہیں جس میں بھارتی فوجیوں نے حکومت اور سینئر فوجی افسران کے بے حسی اور کرپشن کا تذکرہ کیا گیا ہو۔اس سے قبل سرحد پر تعینات بھارت کے بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کو ناقص معیار کا کھانا فراہم کیے جانے کی شکایت کرنے والے اہلکار کا تبادلہ بطور ‘پلمبر’ ہیڈکوارٹر میں کردیا گیا تھا۔

8 جنوری کو تیج بہادر یادیو نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر 3 ویڈیوز شیئر کیں، جن میں انہوں نے سرحد پر جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑنے والے فوجیوں کو ملنے والے ناقص اور ناکافی کھانے کا تذکرہ کیا۔

تیج بہادر یادیو کا کہنا تھا کہ ‘بھوکے پیٹ کیا خاک جنگ لڑیں، ناشتے میں جلا ہوا پراٹھا اور ایک کپ چائے ملتی ہے’۔بھارتی فوجی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ‘جو بھی راشن فوجیوں کے کھانے کے لیے آتا ہے اسے بازاروں میں فروخت کردیا جاتا ہے’۔

بعدازاں ایک اور بھارتی فوجی اہلکار نے اپنی شکایتوں کی شنوائی کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لے لیا تھا۔سندھو جوگی داس نامی بھارتی فوجی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں بتایا تھا کہ ‘فوج وہ واحد جگہ ہے جہاں مجبوراً جنگجوؤں کو افسران کی چاکری کرنی پڑتی ہے’۔

یاد رہےکہ اس سے پہلے 2014 میں آرمی کا حصہ بننے والا سدھو جوگی داس اس سب کے بعد فوج کو چھوڑنا چاہتا تھا تاہم اس کی کاؤنسلنگ کے احکامات جاری کرتے ہوئے اس کی تعیناتی کسی اونچے پہاڑی مقام پر کردی گئی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.