fbpx

چین نے دیا بھارت کو ایک بار پھر بڑا جھٹکا،لداخ کے بعد ارونا چل پردیش پر بھی اپنا دعویٰ کر دیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین نے ایک بار پھر بھارت کو برا دھچکا دے دیا ہے،چین نے لداخ کے بعد ارونا چل پردیش پر بھی اپنا دعویٰ دہرا دیا۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لیجیان ژاؤ کا کہنا تھا کہ چین نے کبھی ارونا چل پردیش کو تسلیم نہیں کیا۔ اروناچل پردیشن در اصل تبت کا جنوبی حصہ ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کی طرف سے چند روز قبل پانچ بھارتی شہریوں کی گمشدگی پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

چار سے پانچ ماہ کے دوران چین اور بھارت کے درمیان زبردست کشیدگی دیکھنے کو مل رہی ہے، ایک بار دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے آئیں جس کے بعد پیپلز لبریشن آرمی نے حریف بھارتی فوج کے 20 اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے بھی ایک کارروائی کے دوران تبت کے مقام چین کی فوج نے بھارت فوج کا کمانڈر کو ہلاک کر دیا تھا جس کی تصدیق بی جے پی کے مقامی سیاستدان نے بھی کی تھی۔

اس سے قبل چین نے بھارتی وفد سے ملاقات سے کے بعد ایک سخت بیان میں کہا کہ لداخ میں سرحدی کشیدگی کے لیے پوری طرح سے بھارت ذمہ دار ہے اور اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی نہیں چھوڑیں گے، اگر جنگ شروع ہوئی تو بھارت کے جیتنے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ ہماری فوج بھارتی فوج سے زیادہ مضبوط ہے۔ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد ثالثی کی پیشکش ہے۔

ایل اے سی پر کشیدگی کو دور کرنے کے مقصد سے ماسکو میں بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور ان کے چینی ہم منصب وی فینگے کے درمیان تقریبا ڈھائی گھنٹے کی ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنما شنگھائی تعاون تنظیم کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے روس کے دورے پر تھے۔ اس ملاقات کے چند گھنٹے بعد ہی چین کی حکومت کی طرف جاری بیان میں ایل اے سی پر بھارتی حرکتوں پر شدید نکتہ چینی کی گئی ہے۔

بیجنگ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گيا کہ چین اور بھارت کے درمیان سرحد پر موجودہ کشیدگی کی وجوہات اور اس کی حقیقت پوری طرح سے واضح ہے، اس کے لیے بھارت پوری طرح سے ذمہ دار ہے۔ چین اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی نہیں کھو سکتا اور اس کی مسلح افواج قومی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے تئیں پوری طرح پرعزم، پر اعتماد اور قابل ہیں۔

بیان میں چین نے کہا کہ بھارت صدر شی جن پنگ اور نریندرا مودی کے درمیان طے پانے والے معاہدوں پر دلجمعی سے عمل کرے اور تصفیہ طلب مسائل مذکرات اور مشاورت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیں۔ چینی بیان میں کہا گیا کہ چین اور بھارت کے درمیان تعلقات کو مزید اچھا کرنے، علاقائی امن و استحکام کی مجموعی صورتحال کو بہتر بنانے اور سرحدی علاقوں میں امن و امان کی حفاظت کرنے جیسے معاملات پر فریقین کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر جنگ شروع ہوئی تو بھارت کے جیتنے کا کوئی امکان نہیں۔ کیونکہ چین کی فوج بھارتی فوج سے زیادہ مضبوط ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت اورچین کے درمیان تنازع ختم کرانے کے لیے تعاون کی پیشکش کی ہے۔ بھارت چین صورتحال انتہائی خراب تھی، ہم سےکچھ ممکن ہوتو مدد کرنےکو تیار ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان مشرقی لداخ میں ایل اے سی پر تنازعہ کی ابتدا رواں برس مئی میں ہوئی تھی اور جون کے وسط میں وادی گلوان میں دونوں فوجیوں کے درمیان ہونے والے ایک تصادم میں بھارت کے 20 فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے بعد سے فریقین کے درمیان فوجی اور سفارتی سطح پر بات چیت کے کئی ادوار ہوچکی ہیں، تاہم کسی پیش رفت کے بجائے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

تازہ کشیدگی وجہ پیونگانگ جھییل کے جنوبی علاقے میں 30 اگست کی درمیانی شب بھارتی فوج کی کارروائی بتائی جاتی ہے جس میں بھارتی فوجوں نے جھیل سے متصل اونچی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ بھارت نے چین پر اشتعال انگیزی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ چینی فوج نے اس علاقے میں صورت حال کو بدلنے کی کوشش کی جس کا بھارتی فوج کو پہلے سے پتہ چل گیا تھا اور بھارتی فوج نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔ لیکن چین نے اسے بھارتی فوجیوں کی دراندازی بتاتے ہوئے بھارت سے سخت احتجاج کیا تھا اور ان کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

چینی سفارت خانے کی ترجمان جی رونگ کا کہنا تھا کہ فریقین کے درمیان 31 اگست کو جن امور پر اتفاق ہوا تھا، بھارتی فوجیوں نے، اس کی صریحاًخلاف ورزی کی ہے۔ جی رونگ نے بھارتی افواج کے بارے میں کہا کہ انہوں نے پینگانگ سو جھیل کے جنوبی علاقے اور مغربی علاقے میں لائن آف کنٹرول کو پار کیا اور ایسی اشتعال انگیز کارروائیاں کیں، جس سے سرحدی علاقے میں دوبارہ حالات کشیدہ ہوگئے۔

لداخ میں اس وقت بھارت اور چین کے کئی ہزار فوجی لائن آف ایکچوؤل کنٹرول کے دونوں جانب تعینات ہیں اور ان تازہ واقعات کے بعد سے خطے میں فوجی نقل و حرکت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔

بھارت نے چین کیساتھ سرحد میں جاری کشیدگی کے بعد مشرقی سرحد پر بھی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرلیا ہے۔ دوسری جانب ھارتی اخبار دی ہندو نے انکشاف کیا ہے کہ مرکزی حکومت کو ملنے والی انٹیلی جنس معلومات کے مطابق لائن آف ایکچوئل کنٹرول کیساتھ لداخ کا تقریباً ایک ہزار مربع کلو میٹر کا علاقہ اس وقت چین کے زیر کنٹرول ہے۔ دوسری طرف چین نے انتباہی انداز میں کہا ہے کہ اگر بھارت مقابلہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو ماضی کے برعکس زیادہ فوجی نقصان اٹھانا پڑے گا۔

خبار کے مطابق چین اپریل سے لائن آف ایکچوئل کنٹرول کیساتھ فوج جمع کرکے اپنی موجودگی کو مستحکم کر رہا ہے۔ ایک افسر نے ‘دی ہندو ’ کو بتایا کہ ڈپسانگ کے میدانی علاقے سے چوشل تک چینی فوجی منظم انداز میں غیر معینہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کیساتھ نقل وحرکت کر تے رہے ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ڈپسانگ کے میدانی علاقے میں پٹرولنگ پوائنٹ 10 سے 13 تک لائن آف ایکچوئل کنٹرول کا بھارتی حصہ 900 مربع کلو میٹر کے لگ بھگ چین کے زیر تسلط ہے۔ ان میں وادی گلوان میں 20 مربع کلو میٹر اور ہاٹ سپرنگز میں 12 مربع کلو میٹرکا علاقہ مکمل طور پر چینی قبضے میں ہے ، پینگونگ تسو جھیل کا 65 مربع کلو میٹر جبکہ چوشل میں 20 مربع کلو میٹر کا علاقہ بھی چینی کنٹرول میں ہے۔

چین نے ایل اے سی کے پاس اپنی فضائی بیس ہوٹن پر جے ایف جنگی طیارے تعینات کر دیے ہیں جو لداخ میں سرحد سے بالکل متصل مسلسل پرواز کر رہے ہیں۔

بھارت کے ایک ملٹری افسر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ چوشل علاقے میں صورتحال بہت کشیدہ ہے۔ چینی فوجی بہت جارحانہ موڈ میں ہیں اور انڈین فوجیوں کو پیچھے ہٹانے کے لیے وہاں بھاری کیلیبر کے ہتیھار کھڑے کر دیے ہیں۔ انڈیا نے بھی چینی پیش رفت کو پسپا کرنے کے لیے سپیشل فرنٹئیر فورس تعینات کر دی ہے اور ایل اے سی کے نزدیک بھاری ہتھیار نصب کر دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت دونوں ملکوں کی فوجیں تقریباً برابر کی تعداد میں اپنی اپنی پوزیشن کا دفاع کر رہی ہیں۔

لداخ میں انڈیا اور چین میں سرحدی کشیدگی، سینئر صحافی مبشر لقمان نے کیا دی تجویز

‏یہ وہ لات ہے جو ایک چینی فوجی نے لداخ میں ایک بھارتی فوجی کو تحفہ میں دی

لداخ میں چین کے ہاتھوں شرمناک شکست پر جنرل بخشی نے ایک سائیڈ کی مونچھیں کٹوا دیں

"پلیز گو بیک چائنہ” بھارتی فوج کے ترلے، بینر اٹھا لیے

جنگ کی تیاری کرو، چینی صدر کا فوج کو حکم

چائنہ نے لداخ کے قریب اپنے ایئر بیس کو مزید پھیلانا شروع کر دیا،جنگی طیارے بھی پہنچا دیئے

چین اور بھارت کے مابین بھی لداخ کے حوالہ سے کشیدگی میں اضافہ ہی ہو رہا ہے، چین نے بھارتی کرنل سمیت 20 فوجیوں کو مار دیا تھا، بھارت چین کے معاملے پر خاموش رہا،کبھی دھمکیاں بھی دیتا رہا لیکن چین بھی بھارت کو منہ توڑ جواب دیتا رہا،چین نے گھس کر بھارتی زمین پر لداخ میں قبضہ کیا جس کو تاحال بھارت چھڑا نہیں سکا،

لداخ پر پنگے بازی پر چائنہ نے بھارتی فوج کو رگڑ دیا مگر کشمیر پر ہم احتجاج سے آگے نہ بڑھ سکے

مودی سرکار کے عزائم پڑوسی ممالک کیلئے خطرہ بن چکے،وزیراعظم عمران خان

لداخ سے ذرائع کے مطابق گھس کر مارنے کی بھڑکیں مارنے والے بھارت کی آج کل بولتی بند ہے، اس کی وجہ سکم اور لداخ کی سرحد پر چینی فوج کی وہ نقل وحرکت ہے جس سے بھارتی فوج اور مودی سرکار کے ہوش اڑ گئے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق چینی افواج ڈربوک شیوک کی اہم شاہراہ سے صرف 255 کلومیٹر دور ہیں۔ بھارتی عسکری ذرائع کے حوالے سے دی گئی رپورٹ کے مطابق سرحد پر چینی افواج کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اچانک پاکستان کے ہمسایہ ملک میں ، دیکھ کر سب حیران

امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کوایران سے بات چیت کا مینڈیٹ دیدیا

کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

لداخ ،کشمیر تنازعہ پر ہم بھارت کے ساتھ ہیں، امریکہ کا دوٹوک اعلان

چین کے ساتھ سرحد پر صورتِ حال خطرناک ہے، بھارتی آرمی چیف کی لداخ میں بات چیت