بھارتی وزیر کی تاریخی درگاہ کی جگہ مندر بنانے کی دھمکی

اس درگاہ کا انتظام بھی مسلمان اور ہندو مل کر چلاتے ہیں
0
120

ممبئی: مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ ایکناتھ شنڈے نے انتخابی ریلی سے خطاب میں ممبئی میں واقع تاریخی حاجی عبدالرحمان ملنگ درگاہ کی جگہ مندر بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اس درگاہ کو ایک مندر گرا کر بنایا گیا تھا۔

باغی ٹی وی : بی بی سی کے مطابق سب سے پہلے 80 کی دہائی میں شیوسینا کے رہنما آنند دیگے نے حاجی ملنگ درگاہ پر مندر بنانے کی مہم چلائی تھی اور 1996 میں درگاہ کے اندر 20 ہزار کارکنوں کے ساتھ پوجا پاٹ بھی کی تھی، آنند دیگے کی پیروی میں اب شیوسینا سے تعلق رکھنے والے مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ بھی اسی راستے پر چل پڑے ہیں۔

شیو سینا جماعت سے تعلق رکھنے والے مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ ایکناتھ شنڈے نے اپنی انتخابی مہم کے دوران حاجی ملنگ درگاہ کو مندر بنانے کا اعلان کردیاایکناتھ شنڈے نے کہا کہ حاجی ملنگ درگاہ کو بھی بابری مسجد کی طرح مندر گرا کر بنایا گیا تھا اور اب ہم تاریخی مندر کو دوبارہ بحال کریں گے، بی بی سی نے اس حوالے سے مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ ایکناتھ شنڈے نے رابطہ کیا لیکن انہوں نے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

بی بی سی کے مطابق ممبئی کے مضافاتی علاقے کی پہاڑی پر واقع حاجی ملنگ درگاہ تک جانے کے لیے چٹانوں کو کاٹ کر سیڑھی کے 1500 قدم بنائے گئے ہیں، حاجی ملنگ کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ بھی عرب ممالک سے 700 سال قبل بھارت آئے تھے جب بھارت میں عرب صوفیوں کی آمد عام تھی اور بہت سے صوفیوں کی طرح حاجی ملنگ بھی یہیں کے ہو کر رہ گئے تھے۔

اس درگاہ کی تعمیر اور صاحب مزار کےبارے میں بہت زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں لیکن مسلمان اور ہندو میں یکساں مقبولیت کے باعث لگتا ہے کہ وہ علاقے میں امن، محبت اور اخلاق کے داعی اور غریب پرور انسان تھے اس درگاہ کی سب سے خاص بات بھی یہی ہے کہ یہاں مسلمان اور ہندو دونوں ہی بڑی تعداد میں زیارت کے لیے آتے ہیں اور یہاں مذہبی ہم آہنگی کے ساتھ اپنی اپنی منتیں مرادیں مانگتے ہیں،درگاہ میں مسلمان سبز اور ہندو نارنجی چادر چڑھاتے ہیں-

اس درگاہ کا انتظام بھی مسلمان اور ہندو مل کر چلاتے ہیں جس کے لیے ٹرسٹی کے دو ارکان مسلمان ہیں جب کہ موروثی طور پر متولی ایک برہمن ہندو ہیں اس درگاہ کے آس پاس کئی قدیم مندر بھی ہیں، بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے بعد اب انتہا پسندوں کی کئی اور تاریخی مساجد اور مزاروں پر نظر ہے جن میں حاجی ملنگ درگاہ بھی شامل ہے۔

Leave a reply