تحریر : تہران الحسن خان عنوان : عشق مجازی اور عشق حقیقی میں واضح فرق کیا ہے۔

0
56

عشقِ حقیقی:-
اللہ تعالیٰ سے کی جانے والی محبت
عشق مجازی :-
محبوب سے کی جانے والی محبت

اِنسان جب اپنی ذات و پات بھول کر کسی کی چاہت کرنے لگتا ہے تو اسے عشق مجازی کہا جاتا ہے

آگے بڑھتے ہیں اس بات کو صحیح معنوں میں سمجھانے کے لیے ایک درویش کی بات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں.

ﻋﺸﻖ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺸﻖ ﻣﺠﺎﺯﯼ”

ﺩﺭﻭﯾﺶ: ﻋﺸﻖ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺸﻖ ﻣﺠﺎﺯﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ فرق ہے. ﺩﻭﻧﻮﮞ عشق ہی تو ہیں
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺎ ﺟﺎﻧﺎ ﺷﺮﻁ ﮨﮯ؟
ﺩﺭﻭﯾﺶ ﻣﺴﮑﺮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﭩﯽ ﮐﮯ ﮔﮭﮍﮮ
ﺳﮯ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﭘﯿﺎﻟﮧ بھر ﮐﺮ ﺗﮭﻤﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﻨﮯ لگا :
ﻋﺸﻖ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺸﻖ ﻣﺠﺎﺯﯼ
میں واضح فرق ہے اگر ہم سمجھنا چاہیں تو.
ﻋﺸﻖ ﻣﺠﺎﺯﯼ یہ ہے کہ ﺗﻢ ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮ ۔اسکو کسی اور کا دیکھنا اس سے محبت کرنا تمہیں برا لگتا ہےاس کی داستان گو سے نفرت کرنے لگتے ہو۔
پس عشق مجازی رقیب سے نفرت سکھانے لگتا ہے اور یہ ایسی نفرت ہوتی ہے جو انسان کو معاشرتی طور پر بہت ہلکا کر دیتی ہے. حقیقی عشق نفرت مٹانا سکھاتا ہے بڑھانا بالکل نہیں.
عشق مجازی کی منزل میں بےبہا ذلت اور رُسوائی کے سِوا کُچھ بھی نہیں. انسانی عِشق ایک ایسا دھوکا ہے جس کی منزل صِرف ذلت و رسوائی ہے انسان جب اپنے رب کی ذات سے بڑھ کر کسی اور سے عشق کا دعویٰ کرنے لگتا ہےتو اُسکا وہ دعویٰ صِرف وقتی ہی ہوتا ہے اور حقیقت میں تو اُسے کُچھ بھی حاصِل نہیں ہوسکتا
عشق ہے قلندری عشق ہے مجازی
عشق کے کئی رنگ ہیں سہانے، عشق سخی بھی ہےعشق داتا
بھی ہے عشق ولی بھی عشق زلیخا بھی ہےعشق اے یوسف
بھی ہے تاریخ کے اوراق میں عشق صحرا کاسفر، سمندر کی لہریں بھی گنواتا ہے.
عشق مجازی، عشق حقیقی،عشق فقیری
عشق جنوں تک کاسفر بھی ہے..
عشق کی راہ میں سارا پانی ہے

رب تعالیٰ نے نبی صل اللہ علیہ وسلم سے عشق کیا تو کائنات تخلیق کی پھر جنات اور ملائکہ سب کو اس کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے لیے مختص کی اور اس کے برعکس جس نے کروڑوں برس الله کی عبادت و ریاضت کی تھی اس نے یہ کہہ کر سجدے سے انکار کر دیا کہ یا الله اس کو تو نے مٹی کے پتلے کا کوئی زرہ ایسا نہیں جہاں میری جبین نےسجدہ نا کیاہو اور نہ کوئی ایسا ھے جو میرے زیر پا نہ ہوا ہو تو پھر میں آگ ہوں سجدہ کیوں کروں۔
بس اسی بات پہ اس کی تمام عبادات ختم کر دی گئیں اور رب ذوالجلال نے اسے رہتی دنیا تک کے لیے ملعون قرار دے دیا کہ وہ روز محشر تک ملعون رہے گا ۔
یہ ہے عشقِ حقیقی کی اصل اور خوبصورت حقیقت..

جب ہمارے سامنے دو منزلیں پیش ہوں تو ہم خود اپنے لئے بہتر منزل کا انتخاب کر سکتے ہیں.
کُچھ فیصلے مُقدر پر چھوڑ دیے جائیں زیادہ بہتر ہے.
شکریہ۔


Freelance Content Writer, Blogger, Social Media Activist
To find more about him check 

 

Leave a reply