اسلام آباد ہائیکورٹ: سائفر کیس میں اضافی دستاویزات جمع کرانے کی متفرق درخواست

0
121
islamabad highcourt

اسلام آباد ہائیکورٹ: سائفر کیس میں اضافی دستاویزات جمع کرانے کی متفرق درخواست دائر کر دی گئی

ایف آئی اے نے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی ، ایف آئی اےکی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ کچھ اضافی دستاویزات جمع کرانا چاہتے ہیں اجازت دی جائے ،سائفر کیس کی سماعت کچھ دیر چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں خصوصی بنچ کرے گا

عمران خان نے سائفر کیس میں سزا کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کرر کھی ہے، گزشتہ روز بھی اپیل پر سماعت ہوئی تھی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ سائفر میں کیا تھا جس معلومات سے ہیرا پھیری کی گئی؟ عمران خان نے کہا کہ سائفر میں کہا گیا اگر اسے نہ ہٹایا تو نتائج بھگتنے ہونگے، کیا یہی سائفر کا متن تھا کہ عمران خان کو نہ ہٹایا تو نتائج ہونگے، کیا وہ درست کہہ رہے تھے، سچ بول رہے تھے؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ بالکل یہی میسج تھا، عمران خان خود تسلیم کر رہے ہیں، عمران خان نے خود سائفر کے متن کو تسلیم کیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفار کیا کہ آپ اس کو چھوڑ دیں آپ خود بتائیں کہ کیا تھا جسے تبدیل کیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "شاہ صاحب ایسے نہیں ہے، آپ سول معاملے کی بات کر رہے ہیں یہ کرمنل کیس ہے، کرمنل کیس میں پراسیکیوشن نے اپنا کیس ثابت کرنا ہے، اگر ملزم خود تسلیم بھی کر لے تو پراسیکیوشن نے کیس ثابت کرنا ہے، ایڈمیشن کا یہ مطلب نہیں کہ پراسیکیوشن ڈسچارج ہو گئی، پوچھ پوچھ کر تھک گئے ہیں اَس بند لفافے میں تھا کیا”،

سائفر سیکیورٹی کا مقصد یہی ہے کہ سائفر کو کسی غیر متعلقہ شخص کے پاس جانے سے روکا جائے،

سائفر کیس،اعظم خان نے مقدس کتاب ہاتھ میں رکھ کر بیان دیا تھا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر

اعظم خان نے اعتراف کیا سائفر کی کاپی وزیراعظم نے واپس نہیں کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر

سائفر کیس،ڈاکومنٹ کی کاپی عدالتی ریکارڈ میں پیش نہیں کی گئی،عدالت

Leave a reply