فرانسیسی پارلیمنٹ کا صدر سے اسرائیل کو ہتھیار بیچنے پر پابندی عائدکرنےکا مطالبہ

غزہ پٹی میں اسرائیلی فورسز کے وحشیانہ حملوں کے باعث شہادتیں 33 ہزار سے تجاوز کرگئی ہیں
0
93
israel

پیرس: فرانسیسی پارلیمنٹ کے 115 ارکان نے صدر ایمانوئیل میکرون کو خط لکھ کر اسرائیل کو ہتھیار بیچنے پر پابندی عائدکرنےکا مطالبہ کیا ہے۔

باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے صدر کو بھیجےگئے مطابق پارلیمانی مراسلے میں کہا گیا ہےکہ فرانس کو اسرائیل کی جاری بدترین نسل کشی میں شریک نہیں بننا چاہیے،غزہ پٹی میں اسرائیلی فورسز کے وحشیانہ حملوں کے باعث شہادتیں 33 ہزار سے تجاوز کرگئی ہیں حکو مت اسرائیل کو فراہم کردہ ہتھیاروں کی تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش کرے،فرانس کا ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

دوسری جانب امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا سمیت کئی یورپی ملکوں میں امریکی ‘ورلڈ سینٹرل کچن’ نامی ادارے کی 7 رکنی ٹیم کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ہلچل مچ گئی ہے جو کام ہزاروں فلسطینی عورتوں اور بچوں کی لاشیں نہیں کر سکی تھیں وہ صرف 7 جانوں کی ہلاکت سے کیے جانے کا تاثر ملنے لگا ہے اسرائیل کے اتحادی اور کٹر حامی کئی ملکوں نے اس واقعہ کے بعد اسرائیل کو مزید اسلحہ سپلائی نہ کرنے کا سوچنا شروع کر دیا ہے۔

انسانی جانوں کے بارے میں امریکہ اور یورپ میں اب عوامی سطح پر ظاہر کی جانے والی حساسیت 6 ماہ بعد واضح طور پر سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں میں بھی محسوس ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اسرائیلی اتحادیوں کی طرف سے اب یہ الفاظ استعمال کیے جانے لگے ہیں کہ ‘حیرت ہے ، غم و غصہ اور مزید کوئی بہانہ نہیں۔’ اس سے پہلے پورے 6 ماہ میں اتنا شدید ردعمل کبھی سامنے نہیں آیا۔ حالانکہ ہلاکتوں کے واقعات بہت بہیمانہ انداز سے پیش آتے رہے اور یہ تعداد غیرمعمولی طور پر تیزی سے اوپر جاتی رہی۔

اس اکیلے واقعے نے یورپی سیاستدانوں کو براہ راست متاثر کیا ہے اور ان کی 7 اکتوبر سے اسرائیل کے لیے جاری حمایت سکڑنے لگی ہے فرانسیسی وزیر خارجہ نے پیر کے روز ہونے والے اس واقعہ پر کہا ‘اس المیے کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔’

برطانوی وزیراعظم رشی سوناک نے اس واقعہ پر غیرمعمولی حیرت کا اظہار کیا خیال رہے ‘ورلڈ سنیٹرل کچن’ کی 7 رکنی ٹیم میں 3 برطانوی شہری شامل تھے برطانیہ نے اس واقعے پر اسرائیلی سفیر کو جواب طلبی کے لیے بھی طلب کیا ۔

پولینڈ کے وزیر خارجہ سے لے کر وزیر اعظم اور صدر تک سبھی نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور اخلاقی طور پر ناقابل قبول قرار دیا۔

علاوہ ازیں کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے امریکی ادارے کی 7 رکنی ٹیم کی ہلاکتوں پر کہا ‘یہ مکمل طور پر ناقابل قبول واقعہ ہے، جب کہ آسٹریلیا کے رہنما انتھینی البانیز نے کہا اس کا ملک سخت غصے میں ہے اسرائیل یہ کہہ رہا ہے کہ یہ ایک سنگین غلطی تھی فوج کے دو افسروں سمیت پانچ لوگوں کو فارغ کر دیا گیا ہے۔

جرمنی اسرائیل کے قریب ترین اتحادیوں میں سے ایک ہے۔ وہ اسرائیل کے ہولوکاسٹ ایشو کو سمجھنے والا ملک ہے۔ تاہم اب جرمنی کی حکومت بھی غزہ میں انسانی صورتحال پر تنقید کرتی نظر آرہی ہے جرمنی کے چانلر اولف شولز نے کہا ہے ‘جنگی ہلاکتوں کی تعداد پریشان کن ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم سے ایک اجلاس میں پچھلے ماہ یہ بات کہی تھی کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کو حق دفاع کا کیسے جواز قرار دیا جا سکتا ہے۔

Leave a reply