fbpx

جہیز کیا ہے یہ  اس باپ سے پوچھو جس کی زمین بھی چلی گئی اور بیٹی بھی  تحریر: امبر سیف 

ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ اس وجہ سے اداس نہیں  ہوتے ہیں کہ بیٹی پیدا ہوئی ہے بلکہ اس وجہ سے بھی اداس ہوتے ہیں کہ ہماری بیٹی تو پیدا ہوئی ہے جو ہمارے گھر کی رحمت ہے لیکن جب یہ بڑی ہو گی تو جہیز نہ دینے کی وجہ سے کنوارہ نہ رہ جائے گی۔۔۔۔۔۔

آپ کو پتا ہے جو باپ جہیز میں فرنیچر دیتا ہے وہ کس طرح قرضے میں ڈوب کے یہ خریدتا ہے؟ اس فرنیچر کی پالش اتر جاتی ہے لیکن اس باپ کا قرضہ نہیں اترتا۔جہیز کے پیسے جمع کرتے کرتے ایک باپ لوگوں کے آگے بک جاتا ہے اس معاشرے میں بیٹیاں جہیز کے انتظار میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔پتہ چلتا ہے ساس نے تیل ڈال کے آگ لگا دی،آگ کیوں لگائی کیوں کہ وہ جہیز میں کچھ نہیں لے کے آئی۔کچھ لڑکیوں کی طلاق ہو جاتی ہے صرف جہیز نہ دینے کی وجہ سے۔جہیز نے لوگوں کے گھر تباہ کر دیئے لیکن آج بھی یہ مسلہ حل نہیں ہوا اور نہ کبھی ہو سکتا ہے.ہم لوگ اپنے بچوں کو اس قابل نہیں بناتے کہ وہ زندگی میں اتنا کما سکیں کہ اس انتظار میں نہ رہیں ۔کب ہماری شادی ہو گی کب لڑکی اپنے ساتھ کار،اےسی،فرنیچر اور گھر کی ایک ایک چیز لے کے آئے گی۔

ماں بیٹے کے پیدا ہوتے ہی یہ سوچنا شروع کر دیتی ہے کہ یہ جب بڑا ہو گا اس کی شادی ایک ایسے گھر میں کروں گی جہاں لڑکی بھی خوبصورت ہو اور اپنے ساتھ جہیز میں بھی سب کچھ لے کے آئے اور یہ سوچ بیٹے کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہے

لیکن جب بیٹے کی شادی ہوتی ہے اور وہ جہیز میں وہ سب نہیں لاتی جو اس نے سوچا ہوتا ہے تو پھر شروع ہو جاتی ہیں لڑائیاں۔ جس میں لڑکی جو اپنے ساتھ بہت سے خواب لے کے آتی ہے کہ کب میری شادی ہو گی اور کب میں نئے گھر میں نئے لوگوں کو اپنا بنائوں گی۔لیکن اس کی سوچ یہ نہیں ہوتی کہ جہیز نہ لانے کی وجہ سے اسے کن تکلیفوں سے گزرنا پڑے گا۔سسرال والے اسے حقیر کیڑے سے بھی کم سمجھتے ہیں۔

اب اس لڑکی کی زندگی کو دیکھ کر بہت سے ماں باپ ڈر جاتے ہیں کہ اگر ہم نے بھی اپنی بیٹی کو کچھ نہ دیا تو ہماری بیٹی کی زندگی بھی اسی عذاب سے گزرے گی۔باپ اپنی بیٹی کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے خود کو قرضے میں ڈبو لیتا ہے۔بہت سے لوگ بیٹی پیدا ہوتے ہی جہیز بنانا شروع کر دیتے ہیں اور ساری زندگی ان کی چیزیں جمع کرنے میں گزر جاتی ہے۔ماں باپ ساری زندگی یہ ہی سوچتے رہتے ہیں کہ ہماری بیٹی کی سسرال میں عزت ہو اسے کسی کا طعنہ سننے کو نہ ملے۔ماں باپ یہ سوچتے ہیں کہ ہم جتنا بیٹی کو دیں گے بیٹی کے سسرال والے اس کا اتنا خیال رکھیں گے،اس کے آگے پیچھے پھریں گے۔اس سب کی جگہ میں وہ ان لوگوں کی عادت خراب کر دیتے ہیں۔اسی طرح کچھ لوگ اتنے کمظرف ہوتے ہیں جو شادی میں جو جہیز ہوتا ہے وہ تو ایک طرف لیکن شادی کے کچھ دیر بعد اس کی ڈیماند بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔وہ لوگ کاروبار کا بہانہ بنا کر پیسے لینا شروع کر دیتے ہیں کہ اپنے باپ سے بولو میری مدد کریں مجھے کاروبار کرنا ہے اور اگر تم پیسے لائو گی تو اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے،تمہاری زندگی آسان ہو جائے گی۔

کبھی کار کی فرمائش کبھی موبائل کی اور کبھی گھر کی اور ضرورت کی چیزوں کی۔وہ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ جو جہیز آیا ابھی تو اس کا قرضہ بھی نہیں اترا اور نئی فرمائشیں شروع ہو جاتی ہیں۔لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اگر انسان اپنے جسم کا حصہ انہیں دے رہا ہے کہ باقی اس کے پاس کیا رہ جاتا ہے۔شادی کے بعد یہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کہ روز نئی فرمائشیں شروع ہو جاتی ہیں۔اس کے بدلے میں لڑکی کے ماں باپ اس ڈر سے یہ ساری فرمائشیں پوری کرتے رہتے ہیں کہ کہیں ہماری بیٹی کو طلاق نہ ہو جائے یا اسے گھر سے نہ نکال دیں۔

اس کا حل کیا ہے؟کیسے ہم اس جہیز جیسی لعنت کو ختم کر سکتے ہیں؟ ہر انسان جب خود کو دوسرے کی جگہ رکھ کر دیکھے کہ لوگ کیسے کہ لوگ کیسے جہیز اکھٹا کرتے ہیں،کیسے قرض کے نیچے دب کر اپنی بیٹی کی کھوکھلی خوشیوں کا بندوبست کرتے ہیں۔یہ ہم سب نے سوچنا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اس قابل بنائیں کہ اسے کسی چیز کی ضرورت نہ پڑے وہ کسی کی بیٹی اس وجہ سے نہ لے کہ اسے جہیز میں بہت کچھ ملنا ہے۔وہ یہ سوچے کہ لڑکی کی تربیت اچھی ہوئی ہے،وہ اچھے خاندان سے ہے،پڑھی لکھی ہے اور اسے یہ یقین ہو کہ زندگی کی ساری خوشیاں دینا اس کا فرض ہے نہ کہ اس کے ماں باپ کا۔

ماں باپ کا گھر بکا تو بیٹی کا گھر بسا

کتنی نامراد ہے یہ رسم جہیز بھی  

twitter.com/Ambersaif3

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!