جنگ اسرائیل اور حماس سے آگے بڑھ سکتی ہے،امریکہ

0
111
jangi tank

امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اسرائیل اور حماس سے آگے بڑھ سکتی ہے۔

اعلیٰ امریکی حکام نے اتوار کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور عسکریت پسند گروپ حماس کے درمیان جنگ مشرق وسطیٰ میں ایک بڑے تنازعے کی شکل اختیار کر سکتی ہے، انہیں خدشہ ہے کہ لبنانی گروپ حزب اللہ اسرائیل کے شمال پر حملہ کر سکتا ہے،

امریکی جنگی بحری جہازوں کا ایک اور بیڑہ طاقت کے مظاہرے میں خطے کی طرف روانہ کیا گیا تھا جس کا مقصد اس طرح کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنا تھا۔اسرائیل نے آٹھ روز قبل حماس کے اسرائیل کے اندر غیر معمولی حملوں کے جواب میں غزہ پر زبردست بمباری کی ہے ،وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کا کہنا ہے کہ”اس تنازعہ کے بڑھنے، شمال میں دوسرا محاذ کھولنے اور یقیناً ایران کی شمولیت کا خطرہ ہے۔”

ان تبصروں کی بازگشت وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کی، جنھوں نے فاکس نیوز کو بتایا کہ وائٹ ہاؤس "اس تنازعہ کے ممکنہ اضافے یا وسیع ہونے” کے بارے میں فکر مند ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے خبردار کیا کہ ان کا ملک کارروائی کر سکتا ہے، انہوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ اس نے اسرائیلی حکام کو یہ پیغام پہنچا دیا ہے کہ "اگر وہ غزہ میں اپنے مظالم بند نہیں کرتے تو ایران محض مبصر نہیں رہ سکتا۔”انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو امریکہ کو بھی بھاری نقصانات اٹھانا پڑیں گے۔

دریں اثنا، ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے اتوار کو کہا کہ وہ آنے والے دنوں میں دیگر سینیٹرز کے ساتھ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان جاری مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے خطے کا دورہ کر رہے ہیں۔گراہم نے کہا کہ وہ ایک ایسا بل پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو "امریکہ کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کو تیل کے کاروبار سے باہر کرنے کے لیے فوجی کارروائی کی اجازت دے گا” اگر ایران اسرائیل پر حملہ کرتا ہے۔

امریکی حکومت کے اہلکاروں نے یہ بھی کہا کہ وہ غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے میں مدد کے لیے متحرک ہو رہے ہیں۔

امریکہ نے ترکی میں سابق سفیر ڈیوڈ سیٹر فیلڈ کو مشرق وسطیٰ کے انسانی مسائل کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کیا ہے۔ محکمہ خارجہ نے کہا کہ ان کی توجہ غزہ کے بحران پر مرکوز ہوگی، "سب سے زیادہ کمزور لوگوں کو جان بچانے والی امداد کی فراہمی اور شہریوں کی حفاظت کو فروغ دینے کا کام بھی شامل ہے۔”

حماس کا وجود مٹانا ہو گا،تاہم غزہ پر اسرائیلی قبضہ غلطی ہو گی،امریکی صدر
دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈین نے ایک انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ حماس کا وجود مٹانا ہو گا، جلد اسرائیل کا دورہ کروں گا،اسرائیل کا غزہ پر قبضہ بہت بڑی غلطی ہو گی،امریکی صدر جو بائیڈن نے فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ حماس فلسطینیوں کی حق خود ارادیت کی ترجمانی نہیں کرتی جبکہ محمود عباس نے بھی امریکی صدر کی تائید کی،جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ حماس کو تباہ ہونا چاہیے لیکن فلسطینی ریاست کے لیے راستہ بھی ہونا چاہیے۔

امریکہ حماس کے خلاف اسرائیل کا ابتدا سے ہی ساتھ دے رہا ہے، امریکہ اسرائیل کی حمایت میں دو جنگی جہاز اسرائیل کی سمندری سرحد کے قریب تعینات کر چکا ہے، تاہم اب امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ پر قبضہ نہ کرنے کے بارے میں بیان دے دیا،

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے امریکی ٹی وی چینل کو بتایا کہ اس تنازعے کے بڑھنے اور شمال میں دوسرا محاذ کھولنے کی وجہ سے ایران کی جنگ میں شمولیت کا خطرہ ہے،امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے جمعہ کو عمان، اردن میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے بھی ملاقات کی،امریکی سیکرٹری خارجہ نے سعودی ولی عہد، سعودی وزیر خارجہ سمیت دیگر ممالک کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کی، اس سے قبل انہوں نے اسرائیل کا بھی دورہ کیا تھا،

مصر میں فلسطینی سفیر دیاب اللوح کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 30 ہزار سے زائد مکانات تباہ ہوچکے ہیں، 12 لاکھ سے زیادہ شہری بے گھر ہیں اور 14 سے زیادہ ہسپتال ملیامیٹ کر دیے گئے ہیں،غزہ کی پٹی کی صورتحال سنگین ہے، مرنے والوں کی لاشیں دفنانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے،ہسپتال لاشوں اور زخمیوں سے بھر گئے ہیں،پانی و خوراک کی قلت کی وجہ سے بھی فلسطینی مسائل کا شکار ہیں،

وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

 پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

حماس نے اسرائیل پر حملہ کیوں کیا؟امریکہ میں مسلمان خاتون اور اسکے بیٹے پر چاقو سے مالک مکان کا حملہ
امریکی ریاست الینواے میں ستر سالہ شخص نے ایک خاتون اور اسکے بیٹے پر چاقو سے وار کیا ہے ، جس سے دونوں زخمی ہو گئے ہیں،26 سالہ لڑکے کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم اسکی موت ہو گئی،71 سالہ جوزف کازوبا کے بارےمیں کہا جا رہا ہے کہ اس نے مسلم خاتون اور اسکے بیٹے کو نشانہ بنایا،خاتون اور اسکا بیٹا جہاں مقیم تھے وہ جوزف کا گھر تھا، پولیس نے اس کیس میں امریکی مالک مکان پر قتل اور نفرت پر مبنی جرائم کا الزام عائد کیا ہے،پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران سامنے آیا کہ جوزف نے مسلمان ہونے کی وجہ سے دونوں پر چاقو سے حملہ کیا،یہ واقعہ شکاگو سے 64 کلو میٹر دور مغرب میں پیش آیا،

اس کیس کو اسرائیل اور حماس کی لڑائی سےجوڑا جا رہا ہے، امریکی میڈیا کے مطابق حماس نےا سرائیل پر حملہ کیا ،اسی کو لے کر جوزف نے مسلمان خاندان جو انکے گھر میں مقیم تھا پر حملہ کیا،میڈیا رپورٹس کے مطابق مرنیوالا فلسطینی نژاد امریکی تھا،زخمی خاتون کی حالت بہتر بتائی جا رہی ہے

Leave a reply