fbpx

جواد ظریف نے بائیڈن انتظامیہ پر نیا الزام لگا دیا

جواد ظریف نے بائیڈن انتظامیہ پر نیا الزام لگا دیا

باغی ٹی وی : ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے بائیڈن انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر جوہ بائیڈن کی انتظامیہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے پابندیوں کو استعمال کر ہی ہیے جیسے ان کے پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا .

ظریف نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر متعدد ٹویٹس میں لکھا کہ یہ افسوسناک اور ستم ظریفی کی بات ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ اب ایران سے اس جوہری معاہدے کا احترام کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس سے ٹرمپ انتظامیہ نے دستبرداری اختیار کی تھی۔


انہوں نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ ٹرمپ کے نقش قدم پر چل رہی ہے اور ایران پر پابندیوں تہران پر دباو کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بری عادات آسانی سے نہیں بدلتیں۔ اب اس عادت کو ترک کرنے کا وقت آگیا ہے۔

واضح رہے کہ سنہ 2015 کے جوہری معاہدے میں ایران، امریکہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور برطانیہ شریک تھے۔ تہران نے یورینیئم کی افزودگی کو محدود کرنے کی حامی بھری تھی اور بین الاقوامی نگراں اداروں کو اجازت دی تھی کہ وہ ایرانی تنصیبات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

اس کی بدولت ایران پر عائد تجارتی پابندیاں ختم کر دی گئی تھیں۔لیکن ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے یہ معاہدہ ختم کر دیا تھا۔ ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کی گئی تھیں تاکہ ایران کے ساتھ ایک نیا معاہدہ طے کیا جا سکے۔ اسے جوائنٹ پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) کہا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.