جناح اسپتال ،ایم ایل اوز پر غیر میڈیکل رپورٹس لکھنے کیلئے دباؤ ڈالنے کا سلسلہ جاری

0
32

جناح اسپتال میں ایم ایل اوز کو غیرقانونی طور پر میڈیکل رپورٹس لکھنے کیلئے دباؤڈالنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ایڈیشنل پولیس سرجن جناح اسپتال ڈاکٹرسمعیہ نے قیدی کی میڈیکل رپورٹ ضروری ٹیسٹ کرائے بغیر جاری کردی اورفرانزک ڈپارٹمنٹ کے ڈاکٹرسونو مل کے ساتھ افسران کے سامنے ہتک آمیز رویہ اختیار کیا ۔
ذرائع کے مطابق جناح اسپتال میں تعینات ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹرسمعیہ کی جانب سے ایم ایل او اور فرانزک ڈپارٹمنٹ کے ڈاکٹرز پر دبا کا ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے ۔تفصیلات کے مطابق جناح اسپتال کے ڈپارٹمنٹ آف فرانزک میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹرسونو مل نے سیکرٹری صحت سندھ کو ایک خط ارسال کیا ہے ،جس میں کہا گیا ہے کہ قیدی رمیش ولد تابا کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے ایک نوٹی فکیشن کے ذریعے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا جس میں ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹرسمعیہ سید ،ایم ایل او ڈاکٹر اوربحیثیت فرانزک ماہر مجھے شامل کیا گیا ۔
5مئی 2021کو جناح اسپتال کے مردہ خانے میں متوفی رمیش کے پوسٹ مارٹم کی کارروائی شروع کی گئی ۔ڈاکٹرسمعیہ نے اس دوران مجھے ایم ایل او کے ساتھ پوسٹ مارٹم لکھنے کو کہا ۔ہم نے معمول کی کارروائی کے تحت رپورٹ کے پہلے صحفے پر دستخط کیے اور تجویز دی کہ مکمل پوسٹ مارٹم رپورٹ مشترکہ طور پر آفس میں مرتب کی جائے کیونکہ یہاں بھارتی قونصلیٹ کے اسٹاف افسران موجود ہیں ۔
ڈاکٹرسونو مل نے اپنے خط میں انکشاف کیا کہ کیمیکل ایگزامنر سمیت دیگرضروری رپورٹس کے آئے بغیر ڈاکٹرسمعیہ نے ہم پر میڈیکل رپورٹ جاری کرنے کے لیے دبا ڈالا اور ہمارے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔انہوںنے کہا کہ میں نے اس کے بعد کارروائی میں مزید حصہ لینے سے انکار کردیا اور ڈاکٹر سمعیہ نے بغیر دستخط اور منظوری کے رمیش کی موت کی وجہ حرکت قلب بند ہونا ظاہر کرکے از خود رپورٹ جاری کردی ،جس کا میں قطعی ذمہ دار نہیں ہوں اور اس حوالے سے اگر مستقبل میں کوئی کوتاہی کے عوامل سامنے آتے ہیں تو میں اس سے بری الذمہ ہوں ۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جناح اسپتال میں اس سے قبل بھی ایم ایل اوز پر ایڈیشنل پولیس سرجن کی جانب سے دبا ڈالنے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں اور عید الاضحی کے پہلے روز بھی ٹریفک حادثات میں جاں بحق افراد کی میڈیکل رپورٹ لکھنے کے لیے ایم ایل اوز کو مجبور کیا گیا تھا اور اس حوالے سے ڈاکٹر حسام اور ڈاکٹر عمیر نے پولیس سرجن ڈاکٹر حامد جیلانی سے تحریری طور پر شکایت کی تھی جبکہ ایڈیشنل پولیس سرجن جناح اسپتال کے خلاف تحریری شکایت پولیس سرجن کراچی کو جمع کرادی گئی ہے۔

Leave a reply