جج ویڈیو، مریم نواز سمیت سب کو ہو گی دس سال قید،نواز کی سزا میں ہو گا اضافہ

0
121

احتساب عدالت کے جج کی ویڈیو لانے کے بعد مریم نواز مشکل میں پھنس گئیں، مقدمہ دائرہوا تو مریم کو بھی دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے.

نواز شریف کے لئے ایک اور مشکل، ن لیگی ہوئے پریشان

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے بیان حلفی کے بعد ویڈیو کے تمام کرداروں کو دس سال سزا ہو سکتی ہے اور نواز شریف کی سزا میں بھی دس سال کا اضافہ ہو سکتا ہے. روزنامہ خبریں کے امتنان شاہد نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے ٹیپ سکینڈل، مریم نواز کے بیانات اور جج ارشد ملک کے بیان حلفی کو مدنظر رکھ کر اگر نیب اس بیان حلفی کو دیکھے تو وہ نیب آرڈیننس شق نمبر10 بی (10.B) کے تحت نواز شریف، حسین نواز، مریم نواز، ناصر بٹ، ناصر جنجوعہ،مہرجیلانی کو مہم چلانے پر حصول انصاف میں رکاوٹ ڈالنے کا مقدمہ بنا سکتی ہے۔ جس کے تحت ان تمام افراد کی 10 سال سزاہو گی۔

نواز شریف کا فیصلہ میرٹ پر ہوا، ارشد ملک احتساب عدالت سے فارغ، وزیر قانون کی تصدیق

ن لیگ کی طرف سے جاری ویڈیو کی کوئی قانونی حیثیت نہیں: مراد سعید

جج ارشد ملک ویڈیو سیکنڈل، سپریم کورٹ میں کب ہو گی سماعت؟ اہم خبر

ایسی صورت میں ایون فیلڈ ریفرنس کے کیس میں قید سابق وزیراعظم نوازشریف کی موجودہ سزا میں 10 سال کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اس وقت اہم حلقوں میں یہ تجویز زیر غور ہے کہ جج ارشد ملک کے بیان حلفی کو بنیاد بنایا جائے اور یہ مقدمہ درج کروا کر باقاعدہ کارروائی کی جائے۔

نواز شریف کا فیصلہ میرٹ پر ہوا، ارشد ملک احتساب عدالت سے فارغ، وزیر قانون کی تصدیق

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو ہٹانے کا حتمی فیصلہ کون کرے گا؟ اہم خبر

16 جولائی کو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ کی جج ارشد ملک کی ویڈیو بارے ہونے والی سماعت کرے گا، اس دن کا سب کو انتظار ہے .

معاملہ کسی جج کو فارغ کرنے کا نہیں………مریم نواز نے کیا کہہ دیا

واضح رہے کہ مریم نواز نواز شریف کو سزا دینے والے جج کی مبینہ ویڈیو کچھ دن قبل میڈیا کے سامنے لائی تھیں ، ویڈیو آنے کے بعد پاکستانی سیاست میں ہلچل مچی ہوئی ہے ،حکومت نے اس ویڈیو کو جھوٹا قرار دیا جبکہ جج ارشد ملک نے بھی پریس ریلیز جاری کر کے تردید کی. جس میں کہا گیا کہ ویڈیوزمیں مختلف موضوعات پرکی جانے والی گفتگو کو توڑ مروڑکرپیش کیا گیا ہے. ناصر بٹ اور اسکا بھائی عبداللہ بٹ عرصہ دراز سے مجھ سے بے شمار بار ملتے رہے ہیں، میری ذات اور میرے خاندان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی سازش کی گئی،

حکومت نے کچھ کیا تو عدلیہ کے کام میں مداخلت تصور کی جائے گی: فروغ نسیم

جج کی ویڈیو پر سپریم کورٹ کو سوموٹو لینا چاہئے تھا، قمرالزمان کائرہ

جج ارشد ملک کو ہٹانے کا فیصلہ، اب نواز شریف کو رہا کیا جائے، مطالبہ آ گیا

مبینہ ویڈیو سیکنڈل، جج ارشد ملک کو ہٹانے کا فیصلہ

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 24 دسمبر 2018 کو العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سات سال قید کی سزا سنائی ہے جبکہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں انھیں باعزت بری کر دیا۔ نواز شریف کو احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید کے ساتھ دس سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے پر پابندی اور ان کے نام تمام جائیداد ضبط کرنے کا فیصلہ دیا. یہ فیصلہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے دیا تھا.

واضح رہے کہ نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، سپریم کورٹ نے طبی بنیادووں‌پر نواز شریف کو چھ ہفتوں کی ضمانت دی تھی لیکن اس کے بعد ضمانت میں توسیع نہیں ہوئی، نواز شریف نے طبی بنیادوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی لیکن عدالت نے نواز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی

Leave a reply