fbpx

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نظر ثانی کیس، چیف جسٹس نے 10 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا

اسلام آباد: جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نظر ثانی کیس، چیف جسٹس نے 10 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیااطلاعات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس میں درخواستوں کی سماعت کیلئے 10 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا۔

گزشتہ دنوں جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں6 رکنی بینچ نے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوایا تھا جس کے بعد اب چیف جسٹس نے نظرثانی درخواستوں کی سماعت کیلئے 10رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال 10 رکنی بینچ کی سربراہی کریں گے جبکہ بینچ میں جسٹس فائزعیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس میں اختلافی نوٹ لکھنے والےججز بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحیٰی آفریدی اور جسٹس مقبول باقر بینچ کا حصہ ہیں جبکہ جسٹس امین الدین خان کو جسٹس فیصل عرب کی ریٹائرمنٹ کے باعث بینچ میں شامل کیا گیا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس کی سماعت یکم مارچ کو ہوگی۔

خیال رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اورمختلف بار کونسلز نے صدارتی ریفرنس کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں

سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو خارج کر دیا تھا اور ان میں سے سات ججز نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کے ٹیکس سے متعلق معاملہ ایف بی آر کو بھیج دیا تھا جبکہ تین ججز نے معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کے خلاف اختلافی نوٹ لکھا تھا۔

عدالتی فیصلے کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسی نے نظرثانی کی اپیلیں دائر کیں جن کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کا چھ رکنی بنچ بنایا گیا اور اختلافی نوٹ لکھنے والے تین ججز کو حصہ نہیں بنایا گیا۔

جسٹس فائز عیسی سمیت دیگر درخواست گزاروں نے چھ رکنی بنچ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ نظرثانی درخواستوں پر فیصلہ کرنے والا دس رکنی فل کورٹ ہی سماعت کرسکتا ہے۔ اس پر عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ بنچ تشکیل دینے کا اختیار چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس ہے، چیف جسٹس چاہیں تو نظرثانی درخواستوں پر لارجر بنچ بھی بنا سکتے ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.