fbpx

کراچی خود کش دھماکے کے بعد یونیورسٹی کھول دی گئی،تعلیمی سرگرمیاں شروع

کراچی: جامعہ کراچی میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد یونیورسٹی ایک بار پھر کھول دی گئی ہے۔

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی میں تعلیمی سرگرمیاں شروع ہو گئیں تاہم سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، انتظامیہ نے مسکن گیٹ کو آمد و رفت کے لیے بند کردیا گیا ہے جبکہ سلور جوبلی گیٹ سے طلبا کو پیدل اندر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

انتظامیہ نے یونیورسٹی میں داخل ہونے کے لیے اسٹو ڈنٹ کارڈ ہونا لا زمی قرار دیا ہے-

گزشتہ روز جامعہ کراچی میں ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات کرنے والی سی ٹی ڈی کی ٹیم نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کرلیا تھا، ذمہ دار ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی سندھ کی ٹیم نے مشتبہ شخص کو موبائل فون لنک سے گرفتار کیا جس کے بعد گرفتار مشتبہ شخص کو شامل تفتیش کرلیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل جامعہ کراچی میں خود کش دھماکہ ہوا تھا جس میں چینی باشندوں سمیت پاکستانی جاں بحق ہو گئے تھے جب کہ چار زخمیوں کو علاج معالجے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا حملے میں تین سے چار کلو گرام دھماکہ خیز مواد اور اسٹیل کے بال بیرنگ استعمال کیے گئے۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کی جانب سے بم دھماکے کے حوالہ سے تیار کی گئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دھماکہ خود کش تھا جس میں تین سے چار کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا دھماکے کی جگہ سے بال بیرنگ ملے ہیں۔ دھماکے کی جگہ سے حملہ آور خاتون کے برقعے کے ٹکڑے بھی حاصل کرلیے گئے ہیں

ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ جامعہ کراچی حملے میں دھماکا خیزمواد ممکنہ طور پر یونیورسٹی کے اندر ہی فراہم کیا گیا،جامعہ کراچی میں خودکش دھماکا کرنے والی خاتون کی شناخت کرلی گئی ہے خاتون جامعہ کراچی کی طالبہ اور ہاسٹل میں ہی رہتی تھی اور خاتون نے ایجوکیشن میں ماسٹرزکیا اور ایم فل فرسٹ ائیر میں تھی-

یاد رہے کہ گزشتہ روز خاتون خود کش بمبار نے کیا، کالعدم تنظیم نے ذمہ داری قبول کر لی کراچی پولیس کے خدشات درست نکلے، کراچی یونیورسٹی وین پر حملہ خاتون نے کیا، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کالعدم تنظیم کے پیغامات سامنے آئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے ،کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کی مجید بریگیڈ کراچی میں چینیوں پر فدائی حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ فدائی حملہ پہلی بلوچ خاتون فدائی شاری بلوچ عرف برمش نے سر انجام دیکر بلوچ مزاحمت میں ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے-