fbpx

محکمہ موسمیات کی کراچی سمیت سندھ بھر میں بارشوں کے ایک اور سسٹم کی پیشگوئی

24 اگست کو گرج چمک کےساتھ تیز اسپیلز ہوسکتےہیں

محکمہ موسمیات نے خلیج بنگال سے اٹھنے والے مون سون کے نئے سسٹم کے حوالے سے پیش گوئی کردی جو راجستھان بھارت سے سندھ میں داخل ہوگا۔

باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق خلیج بنگال سےآنے والا مون سون کا نیا سلسلہ 23 اگست سےکراچی سمیت سندھ بھر میں بارشوں کا سبب بنےگا، 24 اگست کو گرج چمک کےساتھ تیز اسپیلز ہوسکتےہیں جس سے کراچی سمیت دیہی سندھ کےنشیبی مقامات زیر آب آسکتے ہیں۔

چیف میٹرو لوجسٹ سردار سرفراز کا کہنا تھا کہ خلیج بنگال میں ایک لو پریشر ایریا بن رہا ہے جو 23 اگست کو سندھ میں داخل ہوگا اور صبح کے وقت دیہی سندھ کے مختلف اضلاع میں بارشوں کا سبب بنےگا، یہی سسٹم 23 اگست کی رات سے کراچی پر بارشوں کی شکل میں اثر انداز ہونا شروع ہوگا تاہم 24 اگست کو کراچی میں اس سسٹم کے تحت گرج چمک کے ساتھ درمیانی اور تیز بارشیں متوقع ہیں۔

ارلی وارننگ سینٹر کے مطابق مذکورہ سلسلہ کم دباؤ کی شکل میں شمالی سندھ اور ملحقہ علاقوں پر موجود ہے جس کے اثرات کراچی پر صرف ہلکی بارش اور بوندا باندی تک محدود رہیں گے-

تاہم دیہی سندھ کے اضلاع شہید بے نظیرآباد، نوشہرو فیروز، خیرپور، سکھر، لاڑکانہ، گھوٹکی، کشمور، شکارپور، جیکب آباد، دادو، جامشورو، قمبر شہداد کوٹ اور سانگھڑ میں ہفتہ کی رات تک وسیع پیمانے پر گرج چمک کے ساتھ درمیانی اور چند مقامات پر شدید بارش کے ساتھ کبھی کبھار تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔

تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپور خاص، بدین، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈوالہیار، حیدرآباد، مٹیاری، ٹھٹھہ اور سجاول کے اضلاع میں وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ درمیانی بارش جاری رہے گی۔

بلوچستان کے شمال مشرقی اور جنوبی اضلاع میں 21 اگست تک جاری بارش کے سبب دادو، جامشورو، قمبر شہداد کوٹ کے اضلاع میں تیز سیلابی ریلے کا خدشہ ہے خضدار، لسبیلہ، حب اور کیرتھر رینج میں مسلسل بارش کے سبب حب ڈیم اور تھڈو ڈیم پر اضافی دباؤ پیدا ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب سبی اور گردونواح میں بارش ، متعدد دیہات زیر آب آ گئے ہیں ڈپٹی کمشنرسبی منصور قاضی کے مطابق کئی دیہات کا سبی سے زمینی رابطہ منقطع، متاثرہ علاقوں میں غذائی قلت ہے ،یونین کونسل مل، تلی اور تحصیل لہڑی کے دیہات متاثر ہوئے، تلی ندی میں پانی کی سطح بلند،کا مل گشکوری، مل گہرامزائی، مل گورگیج سے زمینی رابطہ منقطع ہے-

کئی کچے مکانات منہدم، فصلیں تباہ، آبادی متاثر ،امداد کی منتظر ہیں ، انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں خیمے، راشن اور دیگر امدادی سامان کی فراہمی جاری ہے-

محکمہ آبپاشی سبی کے مطابق دریائے ناڑی کینال میں 28 ہزار کیوسک کا نچلے درجے کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے، ریلوے حکام کے مطابق بختیار آباد کے قریب متاثرہ ریلوے ٹریک پر ٹرین بحال دوبارہ بحال ہو گیا ہے ریلوے ٹریک پر پانی آ گیا تھا، جس کے بعد بلوچستان سے پنجاب اور سندھ سروس متاثر ہوئی تھی-

دوسری جانب لسبیلہ میں سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی تھی انچارج ایدھی بلوچستان کےمطابق سیلابی ریلے میں پھنسے بسوں کے مسافروں کو ریسکیو کرلیا ہے،ایس ایچ او اوتھل کے مطابق سیلابی ریلے میں پھنسے بسوں کو مشینری سےنکالا جارہا ہے، لنڈا ندی اور کھانٹا ندی میں ایک مرتبہ پھر اونچے درجے کا سیلابی ریلہ آنے کا خدشہ ہے-

قبل ازیں ڈپٹی کمشنر لسبیلہ نے کہا تھا کہ پورالی ندی میں آنے والا سیلابی ریلہ،ریسکیو آپریشن جاری ہے ختلف دیہاتوں میں پھنسے تمام افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے،اب تک 28 افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا،پورالی ندی میں دوبارہ سیلاب کا خدشہ ہےندی کے گرد و نواح کے مقیم محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں-

خیر پور میں ضلعی انتظامیہ کے مطابق میں 6 روز سے جاری بارشوں کا سلسلہ تھم گیا،سڑکوں پر پانی جمع ہے ،بارشوں کے باعث اب تک 11 افراد جاں بحق، 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے،طوفانی بارشوں کے باعث ضلع بھر میں 50 سے زائد گھر منہدم ہوئے،بارش کے باعث کیلے اور کپاس کی فصل کو نقصان پہنچا –