کشمیری نوجوانوں کا بھارتی مظالم کے خلاف اعلان جہاد ، دوسیکورٹی اہلکاراپنے انجام کوپہنچ گئے

0
71

سرینگر:کشمیری نوجوانوں کا بھارتی مظالم کے خلاف اعلان جہاد ، دوسیکورٹی اہلکاروں کو قتل کردیا،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیرکے وسطی ضلع گاندربل کے پاندچھ میں بدھ کی شام عسکریت پسندوں کے حملے میں بی ایس ایف کے دو اہلکار ہلاک ہوئے۔ حملہ آور ہلاک شدہ جوانوں کے ہتھیار بھی اڑا کر لے گئے ہیں۔

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایا کہ عسکریت پسندوں نے بدھ کی شام ضلع گاندربل کے باندچھ علاقے میں 37 بٹالین بی ایس ایف کی ایک ناکہ پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو اہلکار شدید پر زخمی ہوئے۔عسکری تنظیم دی ریزسٹنس فرنٹ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ذرائع کے مطابق زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ سری نگر منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹر نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔پولیس ذرائع نے بتایا عسکریت پسند، جو موٹر سائیکل پر سوار تھے، نے بی ایس ایف اہلکاروں سے ان کے ہتھیار بھی چھین لئے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حملے کے فورا بعد جموں و کشمیر پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز نے علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی آپریشن شروع کیا تاہم حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔یہ حملہ سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر جنید صحرائی کی شہادت کے ایک روز بعد ہوا ہے۔

اس سے قبل اس ماہ کے اوائل میں سیکیورٹی فورسز نے جنوبی کشمیر کے بیگہ پورہ علاقے میں حزب کے چیف کمانڈر آپریشنز ریاض نائیکو کو ایک اور عسکریت پسند کے ساتھ شہید کردیا تھا۔

جموں وکشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وسطی کشمیر کے تین اضلاع سرینگر، بڈگام اور گاندربل میں سرگرم عسکریت پسندوں کی تعداد 13 سے 14 ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ان کا کہنا تھاکہ ‘وسطی کشمیر میں سرگرم عسکریت پسندوں کی تعداد 13 سے 14 ہے۔

سرینگر میں زیادہ نہیں ہیں۔ جب آتے ہیں تو ہمیں خبر مل جاتی ہے۔ عسکریت پسندوں کی تعداد تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ ہم نہیں چاہتے ہیں کہ کوئی نیا لڑکا اس راستے پر چل پڑے۔ سال کے شروع میں جتنی تعداد تھی اس سے کم ہوچکی ہے۔ ابھی سرگرم عسکریت پسندوں کی تعداد 240 کے آس پاس ہے’۔

Leave a reply