ملت ایکسپریس،پولیس اہلکار کے تشدد کے بعد خاتون کی موت،مقدمہ کی درخواست

0
147
railway

ٹرین میں دوران سفر پولیس اہلکار کے تشدد کے بعد خاتون کی لاش ملنے پر قتل کے مقدمے کے لئے درخواست دے دی گئی

ملت ایکسپریس میں یہ واقعہ پیش آیا تھا، خاتون کے قتل کا مقدمہ درج کروانے کے لئے خاتون کے بھائی نے تھانہ صدر جڑانوالہ میں درخواست دی تا ہم جڑانوالہ پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ مقدمہ یہاں درج نہیں ہو سکتا کیونکہ وقوعہ یہاں نہیں ہوا،خاتون کے بھائی افضل نے اندراج مقدمہ کے لئے بہاولپور کے تھانے کو درخواست بھجوا دی ہے،

خاتون کا بازو غائب، دماغ باہر،لاش کے ٹکڑے، پوسٹ مارٹم رپورٹ
ملت ایکسپریس میں پولیس تشدد کے بعد ہلاک ہونے والی خاتون کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے سب کو چونکا دیاہے، فیصل آباد کے ہسپتال میں خاتو ن کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا، ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق خاتون کی لاش ٹکرے ہو چکے تھے، خاتون کا باوز بھی موجود نہیں تھا . خاتون کی پسلیاں ٹوٹ چکی تھی جسم کے کچھ حصے الگ تھے، خاتون کا دماغ بھی باہر تھا ، خاتون کی موت ٹرین کے نیچے آنے کی وجہ سے ہوئی.

خاتون کا دماغی توازن خراب نہیں تھا، ریلوے میں خاتون پر تشدد اور موت کے بعد مالک مکان کا بیان
ملت ایکسپریس میں خاتون پر ریلوے پولیس کانسٹیبل کے تشدد اور جاں بحق ہونے کا واقعہ، مالک مکان اور اہل علاقہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ خاتون مریم بی بی کے دماغی توازن خراب ہونے کے بیان میں کوئی صداقت نہیں ہے،مریم گذشتہ چند سالوں سے قیوم آبادسی ایریا میں کرائے کے فلیٹ میں رہائش پذیر تھی ، مرحومہ ڈیفنس فیز فور کے کسی بیوٹی پارلر میں ملازمت کرتی تھی، گھر والے مرحومہ کی نماز جنازہ کے لئے پنجاب گئے ہوئے ہیں، مریم غیر شادی شدہ، ماں اور بھائی کے ساتھ رہتی تھی، مریم کی بہن بھی اسی علاقے میں رہائش پذیر ہے،

دوسری جانب ڈی ایس پی جڑانوالہ متاثرہ فیملی کے گھر پہنچ گئے،ڈی ایس پی نے متاثرہ خاندان سے تعزیت کی اور مقامی سطح پر ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی، ڈی ایس پی ریاض نے متاثرہ خاندان سے وقوعہ کے متعلق بھی پوچھا، پولیس متاثرہ خاندان کی ہر ممکن مدد کرنے کو تیار ہے

خاتون کا ذہنی توازن درست نہیں تھا،تشدد کا شکار خاتون کی موت پر ترجمان ریلوے کا ردعمل
ترجمان ریلوے کا کہنا ہے کہ مریم بی بی کراچی سے فیصل آباد جا رہی تھی،دورانِ سفر خاتون نے مسافروں کا سامان بکھیرنا شروع کر دیا جس پر مسافروں نے پولیس کانسٹیبل کو بلایا،کانسٹیبل نے خاتون پر ہاتھ اٹھایا اور اسے دوسرے ڈبہ میں شفٹ کر دیا،کانسٹیبل کی ڈیوٹی کراچی سے حیدرآباد تک تھی،خاتون نے چلتی ٹرین سے چنی گوٹھ میں چھلانگ لگائی،خاتون کے ساتھ سفر کرنے والے مسافروں کے بیان کے مطابق خاتون نے اچانک چلتی ٹرین سے چھلانگ لگا دی،خاتون کے لواحقین کے مطابق خاتون کا ذہنی توازن درست نہیں تھا،ڈی آئی جی ریلوے پولیس ساؤتھ زون کی سربراہی میں چار رکنی انکوائری کمیٹی مزید تحقیقات کر رہی ہے،پولیس کانسٹیبل کو انتہائی غیر مناسب رویے پر گرفتار کر لیا گیا تھا اور اس کے خلاف مقدمہ درج ہے،کمیٹی تین روز میں چیئرمین ریلوے کو رپورٹ پیش کرے گی

ریلوے میں زنجیر سے جکڑے "لوٹے”معاملہ قائمہ کمیٹی پہنچ گیا

گھر سے بھاگے 310 لڑکے،190 لڑکیاں،47 خواتین کو ریلوے پولیس نے ورثا کے حوالے کیا

ریلوے سٹیشن کے پاس مسافروں کو اسلحہ کے زور پر لوٹنے والے 2 ملزم گرفتار

ریلوے میں پسند ناپسند کی بنیاد پر نااہل ٹی ایل اے ملازمین بھرتی کئے جانے کا انکشاف

پاکستان انفارمیشن کمیشن کی کارروائی، ریلوے ملازم کو گریجویٹی فنڈ دلادیا

راولپنڈی پشاور کےدرمیان ریلوے کے کرائے روڈ ٹرانسپورٹ سے بھی زیادہ

ریلوے پولیس اہلکار کے تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون چنی گوٹھ کے قریب مبینہ طور پر قتل کر دی گئی،7 اپریل رات کو کراچی سے چلنے والی ملت ایکسپریس ٹرین میں ریلوے پولیس اہلکار نے خاتون پر تشدد کیا،8 اپریل علی الصبح چنی گوٹھ کے قریب اسی ٹرین سے مبینہ طور خاتون کو ٹرین سے گرایا گیا ۔ تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے پر مبینہ طور پر قتل ہونے والی خاتون کی شناخت ہوگئی 30 سالہ مریم بی بی کا تعلق جڑانوالہ چک 40 موڑ فیصل آباد سے تھا ۔ میر حسن ریلوے پولیس اہلکار تشدد کے الزام میں پہلے سے ہی گرفتار ہے ۔تشدد کے بعد خاتون کی ہلاکت کا معاملہ ! ذمہ دار ریلوے حکام یا پولیس اہلکار ؟ ورثاء نےخاتون پر تشدد کے بعد ہلاکت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے.خاتون کے بھائی افضل کا کہنا تھا کہ اس کی بہن کراچی میں بیوٹی پارلر پر ملازمت کرتی تھی اور عید منانے کیلئے کراچی سے جڑانوالہ آ رہی تھی

Leave a reply