fbpx

لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلاول کے لاڑکانہ میں ایڈز کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے

صوبائی وزیر سعید غنی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ رتوڈیرو میں ایڈز کے پھیلاوَ کوکنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں ، رتوڈیرومیں ایڈزکا پھیلاوَمسئلہ ہے ،ایڈزکا پھیلاوَ کا مسئلہ صرف سندھ میں نہیں دیگر صوبو ں میں بھی ہے

نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ نے تہلکہ مچا دیا ہے اور سندھ حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیئے ہیں، پیپلز پارٹی کے گڑھ لاڑکانہ کے علاقے رتو ڈیرو میں ایڈز کا مرض بچوں میں پھیل رہا ہے اور1132 بچے بھی ایڈز کا شکار ہو چکے ہیں

نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونیوالی رپورٹ کے مطابق فروری 2019 میں ایک دن ، نذیر شاہ اپنی 1 سالہ بیٹی ایمن کو میڈیکل کلینک میں لے گئے۔ وہاں موجود ڈاکٹر عمران اربانی کو فورا ہی گھبراہٹ کا سامنا کرنا پڑا بچی سست روی کا شکار تھی ، اس کا سر اپنے والد کے کندھے پر آ گیا۔ اس کی سانسیں تیز تھیں۔ وہ سو رہی تھی ، جب کھانسی ہوتی تو اسکی آنکھ کھلتی۔اسکا چہرہ ڈھکا ہوا تھا ایسی حالت جو عام طور پر کمزور مدافعتی نظام کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس بچی کا گیارہ پاؤنڈ کے قریب وزن تھا

شیخ رشید کی جانب سے سندھ کو ایڈزستان کہنے پر بلاول نے کیا کام کیا؟

بلاول کے شہر لاڑکانہ میں مزید 617 افراد میں ایڈز کی تشخیص

نیب متحرک، ایڈزکنٹرول پروگرام کے مالی امور،فنڈنگ کی تفصیلات طلب

جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

 پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

نذیر شاہ نے ڈاکٹر کو بتایا کہ ایمن صحت مند طور پر پیدا ہوئی تھی اور تین ماہ قبل تک اس کی طبیعت ٹھیک تھی جب اسے روزانہ اسہال ہونے لگا۔ اس کے وزن میں تیزی سے کمی آئی۔ اسے بخار ہوا اور وہ ٹھیک نہیں ہو رہا مسلسل بڑھ رہا ہے، شاہ نے ڈاکٹر کو ایک سبز پلاسٹک کا بیگ دیا جس میں مختلف شربت اوردوائیاں تھیں جو اس بچی کو ڈاکٹرز نے دی تھیں اور کہا کہ اتنی ساری دوائیاں دینے کے باوجود بھی بچی کو آرام نہیں آیا،بچی کو رتوڈیرولاڑکانہ میں ڈاکٹروں کو دکھا یا لیکن بچی کی طبیعت نہیں سنبھلی

نذیر شاہ ایک قریب رہنے والے ڈاکٹر کے کلینک کے پاس بچی کو لے جانے میں ہچکچاتے تھے کیوں کہ وہ ماہر یورالوجسٹ تھے تا ہم وہ بیٹی کو اسکے پاس لے گئے، تو ڈاکٹر نے کہا کہ بچی کو ایڈز ہو سکتا ہے، بچی کے والد نذیر شاہ نے چونک کر کہا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے ،کیسے ممکن ہے کہ ایڈز ہو بچی کو ، تاہم ڈاکٹر نے ٹیسٹ لکھ کر دیا، بچی کا والد نذیر شاہ پریشانی کے عالم میں بچی کا ٹیسٹ کروانے کے لئے گیا جب اس ٹیسٹ کی رپورٹ آئی تو اس میں مثبت لکھا تھا

ڈاکٹر نے آغا خان ہسپتال سے دوبارہ ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا اس میں بھی ٹیسٹ مثبت آیا تو بچی کا والد رونے لگا، ڈاکٹر نے بچی کے والد کو مشورہ دیا کہ وہ لاڑکانہ سے 300 میل دور کراچی جائے اور بچی کا علاج کروائے،نذیر شاہ نے اپنے دوست کو بیٹی کی بیماری کا بتایا تو پتہ چلا کہ یہ پہلی بچی نہیں جو ایڈز کا شکار ہوئی ہے شاہ کے دوست بیٹے کو دو سال قبل بھی اسی مرض کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریض بہت زیادہ ہو چکے ہیں ان میں سے صرف 12 فیصد علاج کرواتے ہیں باقی علاج نہیں کرتے، پاکستان میں ایڈز سے اموات میں 385 فیصد اضافہ ہوا ہے،پاکستان میں‌صحت کی بنیادی سہولتوں کا فقدان، خوراک میں کمی، جیسے مسائل کی وجہ سے بچے بھی مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں، رپورٹ کے مطابق 30 نومبر 2020 تک 1132 بچتے رتو ڈیرو میں ایڈز کا شکار ہو چکے ہیں،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.