کام سے واپس آنیوالی لڑکی کو اغوا کر کے پارک میں کی گئی اجتماعی زیادتی

0
60
چار برس تک بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے باپ کو عدالت نے سنائی سزا

کام سے واپس آنیوالی لڑکی کو اغوا کر کے پارک میں کی گئی اجتماعی زیادتی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں کام سے گھر واپس لوٹنے کے دوران لڑکی سے زیادتی کرنیوالے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے

ایس پی گلشن اقبال ڈویژن سلیم شاہ کی زیر نگرانی تھانہ نیوٹاؤن کے ایس ایچ او نے ہمراہ پولیس پارٹی بڑی کاروائی کی، پولیس نے کاروائی کے دوران متاثرہ لڑکی کو اغوا کرکے زنا کرنے والے دو ملزمان کو بروقت گرفتار کرلیا .متاثرہ لڑکی سویرا امتیاز دختر امتیاز احمد عمری 18سالہ نے بتایا کے دو لڑکے ارسلان اور دانش موٹر سائیکل پر آئے اور میرے منہ پر رومال ڈال کر مجھے بے ہوش کر دیا اور مجھے نامعلوم پارک میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا بروقت بچی اور اس کے بھائی کی نشاندہی پر ذیل ملزمان کو گرفتار کیا گیا

ملزمان ارسلان ولد تاج ولی .سلمان ولد محمد اظہر کو پولیس نے گرفتار کر لیا ،جس کا مقدمہ الزام نمبر 481/22 بجرم دفعہ 376/34 ت پ تھانہ نیو ٹاؤن درج کیا گیا ترجمان پولیس کے مطابق ملزمان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے ملزمان کو تفتیش حکام کے حوالے کیا گیا

ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا۔ صدف کی ماں کی گفتگو

 صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد 

کامونکی،لانگ مارچ کی کوریج کرنیوالے صحافیوں پر پولیس کا تشدد

پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

لڑکی کے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا ہے کہ میں سیکورٹی کمپنی میں ملازم ہوں تھانے میں اپنی بہن جس کی عمر 18 برس ہے کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی تھی آج رات گھر میں موجود تھا، محلے کا لڑکا ارسلان آیا اور مجھے کہا کہ تمہاری بہن سٹاپ پر پل کے نیچے کھڑی ہے اور رو رہی ہے، میں فوری سٹاپ پر پہنچا تو بہن نے بتایا کہ میں میڈیکل سٹورسے واپس آ رہی تھی تو راستے میں دو لڑکے ارسلان اور دانش موٹر سائیکل پر آئے ،میرے منہ پر رومال رکھا جس سے میں بیہوش ہو گئی، ملزمان مجھے پارک مین لے گئے اور زبرستی زیادتی کا نشانہ بنایا،مجھے جب ہوش آیا تو میرے کپڑے اترے ہوئے تھے میرا جسم ننگا تھا اور ملزمان میرے ساتھ غلط کام کر رہے تھے، بعد ازاں ملزمان میری حالت خراب ہونے پر سٹاپ پر چھوڑ گئے،

Leave a reply