fbpx

لاک ڈاون برطانوی ماہرین کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوا

لندن :.لاک ڈاون برطانوی ماہرین کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوا ،اطلاعات کے مطابق برطانوی ماہرین نےلاک ڈآؤن میں تحقیق کرکے ایک نیا انقلاب برپا کردیا ہے ، اس حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ ماہرین نے 550 جانور دریافت کرکے تحقیق میں ایک نیا باب کا اضافہ کردیا ہے

ایک گول مٹول سا بھنورا، پنکھے نما حلق والی چھپکلی اور ایک دیوہیکل چوہا جیسی نئی انواع سال 2021 میں دریافت ہوئی ہیں۔یہ تمام دریافتیں برطانیہ کے نیچرل ہسٹری میوزیم کے ماہرین نے کی ہیں جو کووڈ 19 کی خوفناک وبا کے باوجود منظرِ عام پرآئی ہیں۔ اس میوزیم کو وائٹ نامی جزیرے پر دو گوشت خور ڈائنوسار کے آثار بھی ملے ہیں جنہیں سب سے بڑی دریافت کہا جاسکتا ہے۔

ایک اور دریافت کو چیف ڈریگن کا نام دیا گیا ہے جو ایک طرح کا ڈائنوسار تھا لیکن اس کی جسامت مرغی جتنی تھی۔ اگرچہ برطانیہ میں ڈائنوسار کی دریافت کی تاریخ 150 سال پرانی ہے لیکن میوزیم سے وابستہ سائنسداں سوسانا میڈمنٹ نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے باوجود جدید تحقیق ہوئی، دنیا بھر سے ڈیٹا ملا اور نت نئی دریافتیں ہوئیں جن میں ڈائنوسار سرِفہرست ہیں۔

کورونا وبا میں باہرنہ جانے کی وجہ سے سائنسدانوں نے میوزیم کے ان آثار کو دیکھا جو ایک عرصے سے لکڑیوں کے باکس یا ڈسپلے میں رکھے تھے۔ فرصت کی وجہ سے ان پر دن رات غور کیا گیا اور زمین کے ماضی اور حال سے تعلق رکھنے والی سینکڑوں نئی انواع سامنے آئیں جن میں پرندے، حشرات، پودے اور دیگر جانور شامل ہیں۔

ان میں سے بعض جانور کے آثار یا فاسل 60 سال سے رکھے ہوئے تھے لیکن ان پر نگاہ نہیں گئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میوزیم کے سائنسدانوں نے اسے لاک ڈاؤن پراجیکٹ کا نام دیا ہے۔ بلاشبہ یہ زندہ قوموں کی نشانی ہے کہ وہ بحران میں مفید اور تحقیقی کام کرتی رہتی ہیں۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!