fbpx

موبائل فون آپریٹرزنے ایڈوانس انکم ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کردیا

اسلام آباد:موبائل فون آپریٹرزنے ایڈوانس انکم ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کردیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں موبائل فون سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں نے ایڈوانس انکم ٹیکس میں کمی نہ کرنے پر تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔

اس حوالے سے ٹیلی کام سیکٹر کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس اقدام سے صارفین پر مزید بوجھ پڑے گا،خاص طور پر اس سے کم آمدن والے افراد کی موبائل فون رکھنے اور انٹرنیٹ استعمال کرنے کی استطاعت میں کمی واقع ہوگی۔

وزارت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بھیجے گئے خط میں مواصلاتی شعبے کی جانب سے حکومت سے استدعا کی گئی ہے کہ ٹیلی کام سروسز پر آئندہ بجٹ میں ایڈوانس انکم ٹیکس کی شرح کو 15 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد تک کردیا جائے۔

فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے ایڈوانس انکم ٹیکس میں 10 سے 15 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے جس سے ملک بھر میں موبائل کمپنیوں کے 193 ملین صارفین پرمجموعی طورپرلاگو ہونے والے ٹیکس کی شرح تقریباً 35 فیصد ہوگئی ہے۔

خط کے مطابق صارفین سے مجموعی طور پر ساڑھے 34 فیصد ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جس میں 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس اور ساڑھے 19 فیصد جنرل سیلز ٹیکس شامل ہے۔

پاکستان دنیا کے مواصلاتی شعبے میں سب سے زیادہ ٹیکس اداکرنے والے ملکوں میں سے ایک ہے جب کہ جنوبی ایشیاء میں اس کا شمار سب سے زیاہ مواصلاتی ٹیکس ادا کرنے والے ملکوں میں دوسرا ہے۔ ٹیکس کی بلند شرح ملک میں ڈیجیٹلائزیشن کی راہ میں سب سے زیادہ حائل رکاوٹ ہے۔

معیشت کے تمام اہم عوامل بشمول صحت، تعلیم اور تجارت ڈیجیٹلازیشن کے لیے ارزاں نرخوں پر انٹرنیٹ اور موبائل آنرشپ کی دستیابی نہایت اہمت کی حامل ہے۔

واضح رہے کہ مالی سال 2021 میں ایڈوانس انکم ٹیکس کی شرح کو ساڑھے 12 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد کردیا گیا تھا جب کہ فنانس ایکٹ 2022 میں اسے 8 فیصد تک کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم اس فیصلے کو 6 ماہ پہلے ہی واپس لے لیا گیا تھا۔