مومن حیا دار ہوتا ہے تحریر: نصرت پروین

0
68

عورت کی حیا حجاب میں ہے۔
اور مرد کی حیا نظر کی پاکیزگی میں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سے اوصاف سے نوازا۔ ان اوصاف میں سے ایک بہترین وصف حیا ہے۔ حیا سے مراد دل کا برائی سے پردہ کرنا ہے۔ حیا کردار کی اکائی ہےاور حیا کا ایمان سے بہت گہرا تعلق ہے۔ حیا کی وجہ سے انسان میں تقوی پروان چڑھتا ہے اور وہ گناہ سے باز آتا ہے۔ حیا اور ایمان ساتھ ساتھ ہیں۔ جس میں حیا نہیں اس میں ایمان نہیں۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
حیا کی ساٹھ سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ جب ان دونوں میں سے ایک اٹھ جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔
حیا اللہ کی طرف سے عطا کردہ نور ہے۔ جب دل میں حیا پیدا ہوتا ہے تو انسان ہر حالت میں تنہائی میں یا لوگوں کے سامنے غرضیکہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے حیا کرتا ہے۔ وہ برائی سے اجتناب کرتا ہے۔
حیا اللہ کی طرف سے عطا کردہ ایسا وصف ہے جو انسان کو حیوانات سے ممتاز کرتا ہے۔ اور باحیا اور باپردہ دین والے ہی پاکیزگی کی اعلی مثال ہوتے ہیں۔ اگر حیا رخصت ہوجائے تو باقی تمام خوبیوِں پر خود ہی پانی پھر جاتا ہے۔ انسان ذلت و رسوائی میں پڑ جاتا ہے۔ خواہشاتِ نفس کا غلام بن جاتا ہے۔ برائی کے کام سرکشی کے ساتھ کرتا چلاجاتا ہے۔ اسی لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کر۔
یہ ایک المیہ ہے کہ جب معاشرے سے حیا اٹھ جائے تو لوگوں کے اخلاق بگڑ جاتے ہیں۔ لوگ بری عادات میں مبتلا ہوجاتے ہیں حیا کا سر چشمہ مرد اور عورت دونوں کے لئے انتہائی ضروری ہے۔
"بے شک ہر دین کا ایک خلق ہے اور اسلام کا خلق حیا ہے”
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اگر مرد میں حیا نہ رہے تو وہ انسان نہیں بلکہ حیوان بن جاتا ہے۔ اور اگر عورت سے حیا اٹھ جائے تو نسلیں برباد ہوجاتی ہیں۔ اور جب کسی سر زمین پر بے حیائی پھیل جاتی ہے تو وہاں سے اللہ کی رحمت اٹھ جاتی ہے وہاں طرح طرح کے عذاب آتے ہیں ۔ اور یہ سب کچھ آج ہمارے معاشرے میں ہورہا ہے۔ لوگوں کا ایک بہت بڑا طبقہ بے حیائی کے پھیلانے میں اہم کردا اد کر رہاہے۔ اس میں میڈیا خصوصاً ٹک ٹاک جیسی فحاشی سے بھرپور ایپلیکیشنز جو معاشرے سے حیا کو دیمک کی طرح کھا رہی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ زمانے میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے ہر شعبے میں تبدیلی آرہی ہے۔ کبھی ہم مشرقی تہذیب کے امین ہوا کرتے تھے۔ ہمارے مرد و خواتین شرم و حیا کا پیکر ہوتے تھے۔ لیکن پھر جدیدیت کے نام پر بے حیائی کی ایسی ہوا چلی جو ایمان کو بہا لے گئی۔ آج بے حیائی بھی عام ہے۔ اس کو سراہا بھی جاتا ہے۔ دوسروں کو بھی راغب کیا جاتا ہے۔ ان سب کی جیتی جاگتی مثال 14 اگست کے دن مینارِ پاکستان پر ہونے والا واقعہ ہے یقیناً یہ واقعہ ایک عام انسان کے لئے جب پہلی بار سنے تو دل چیر دینے والا واقعہ ہے۔ میں نے خود جب پہلی بار سنا تو بہت ہمدردی ہوئی لیکن جب حقیقت سامنے آئی تو پتہ چلا کہ سارے واقعے کی جڑ ٹک ٹاک نے ہماری تہذیب کا ایسا جنازہ نکالا کہ جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ بے حیائی بھی گولہ نما ہوتی ہے جس کو جتنا پھیلایا جائے اتنی ہی پھیلتی چلی جاتی ہے۔ اور بہت کچھ اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں بے حیائی اللہ کی حدود سے تجاوز کر کے برائی کا نام ہے جس ہر اللہ کا عذاب تو ہوتا ہی ہے لیکن دنیاوی طور پہ بھی نتائج بہت سنگین ہوتے ہیں۔ یقیناً یہ بہت تکلیف دہ واقعہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سے تلخ حقائق پر مشتمل بھی ہے۔ دیکھیں اگر دنیا کی ساری عورتیں برہنہ ہو جائیں تو بھی اسلام مرد کو نگاہیں جھکانے کا حکم دیتا ہے اور مرد کا نگاہیں جھکانا ہی حیا ہے۔ اور دنیا کے سارے مرد اندھے ہو جائیں تو بھی اسلام عورت کو حجاب وحیاء کا درس دیتا ہے۔ اور حجاب ہی عورت کا حیا ہے۔ اور جب دونوں یعنی مرد کی نظر کی حیا اور عرت کا حجاب باقی نہ رہیں تو اذیت ناک نتائج بھگتنا پڑتے ہیں جو ہم بھگت رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں بےحیائی پھیلانے والوں کے متعلق فرمایا
‏بیشک جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ (ایسے لوگوں کے عزائم کو) جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
(سورۃ النُّوْر، 24 : 19)
آج جائزہ لیں تو
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ حیا کے بارے میں رقمطراز ہیں کہ :
1۔ ‏لوگوں میں سب سے کامل زندگی اس کی ہے جو حیا میں کامل تر ہے۔ حیا کی کمی آدمی کی زندگی کی کمی ہے۔
2۔ ‏حیا لفظ حیات سے مشتق ہے
پس جس میں حیا ہے وہی درحقیقت
حیات ہے۔
3۔ ‏حیا قلبی حیات کا جوہر ہے، حیا ہمہ قسم کی بھلائی کا سرچشمہ ہے، اگر حیا ختم ہو جائے تو پھر بہتری کی کوئی رمق باقی نہیں رہتی۔
4۔ تمام اخلاق و صفات میں سے سب سے افضل اور قدر و منزلت کے اعتبار سے سب سے بلند اور نفع بخش صفت حیا ہے، بلکہ یہ انسانی خواص میں سے ہے، جس شخص میں حیا نہیں وہ انسان نہیں محض گوشت پوست کا ایک ٹکڑا ہے۔
5۔ اللہ تعالی کی اپنے بندے سے حیا کرنے کی کیفیت انسانی ذہن سے بالا تر ہے؛ عقل اس کی کیفیت بیان کرنے سے قاصر ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کی حیا میں سخاوت، احسان، جود اور جلال شامل ہے۔
6۔‏جتنا دل توحید میں کمزور اور شرک میں مضبوط ہوگا وہ دل اتنا ہی بے حیا اور حیا باختہ ہوگا۔
7۔ ‏معاصی کی ایک سزا یہ بھی ہے کہ حیا جو قلب کا اصلی جوہر حیات ہے، فنا ہو جاتی ہے حالانکہ ہر خیر و فلاح کی اصل جڑ شرم و حیا ہی ہے۔ جب یہی فنا ہو جائے تو خیر و فلاح کی امید ہی نہیں قائم کی جاسکتی۔
دیکھیں دنیا ایک ظاہری زیب و زینت پر مشتمل گھاٹے کا سودا ہے۔ جس میں بے حیائی کے کئی رنگ ہیں۔ لہذا ان رنگوں میں گم ہو کر اپنے ایمان کا سودا نہ کریں۔ دین اسلام کا تو مزاج ہی حیا ہے۔ حیا کا ایمان، ادب اور اخلاقیات سے گہرا تعلق ہے۔ تو اس سلسلے میں آپ بطور مسلمان اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات دیکھیں۔ وہ کیسے شرم و حیا کا پیکر تھے۔ صحابہ کی زندگیاں پڑھیں جس طرح ہم مغرب ہیروز کو پڑھتے ہیں ایسے ہی اسلامک ہیروز کی حیات کا مطالعہ کریں تو ضرور اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ معاشرے کو جو گھن لگ گیا ہے اسکی سب سے بڑی وجہ ہماری بےحیائی ہے جو مختلف صورتوں میں ہو سکتی ہے۔ اور مومن کبھی بھی بےحیا نہیں ہوتا ایمان کے دعوے دار تو ہم سب ہیں۔ لہذا ہمیں اپنے ایمانی لیول کا جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے اور پھر حیا کو اپنانا اور معاشرے مین پروان چڑھانا ہمارا فریضہ ہے۔
اللہ رب العزت ہم سب کو ایمان اور حیا کی بہترین حالت میں رکھیں۔ آمین
جزاکم اللہ خیراً کثیرا
@Nusrat_writes

Leave a reply