محبت مسلسل تحریر: فرزانہ شریف

0
57

جب ہم ہوش سنبھالتے ہیں سب سے پہلے جو ہماری ماں ہمیں سبق سکھاتی ہے اللہ سے پیار کرنا اس کے بندوں سے پیار کرنا بڑوں کی عزت کرنا اور پھر جیسےجیسے ہم بڑے ہورہے ہوتے ہیں ان لیسنز میں اضافہ ہوتا جاتا "بیٹا کسی کا حق نہ مارنا”
"کسی سے نفرت نہ کرنا”..
"جی امی جی بہتر”..
"کسی کا دل نہ دکھانا”….
"جو حکم امی جی اپکا”…..
پھرساری عمر ان باتوں کا خیال رکھتے رکھتے ہم بھول جاتے ہیں ہمارا خود کا بھی ہم پر حق ہے کوئی ہرٹ کرتا ہے تو ہمیں بھی تکلیف ہوتی ہے
تھپڑ کے بدلے تھپڑ نہ مارو چلو…. مگر اٹھ کر ہاتھ تو پکڑا جا سکتا..
کوئی ایک دفعہ اعتبار توڑے کبھی دوبارہ اس پر اعتماد نہ کریں "کہ مومن ایک سوراخ سے دو دفعہ ڈسا نہیں جاتا "جو دل دکھائے غیر محسوس طور پر اس سے اپنے قدم پیچھے کھینچ لیں ۔
بچپن سے لیکر بڑے ہونے تک ہمارے والدین ہمیں تمیز کا سبق اتنا رٹا دیتے ہیں کہ پھر کوئی جتنی مرضی ذیادتی کرے ہم سوچتے ہیں کوئی نہیں خیر ہے بڑے ہیں کچھ کہہ بھی دیا ہے تو جانے دو ۔پھر اس "جانے دو” کی فہرست اتنی لمبی ہو جاتی ہے کہ بہت وقت لگ جاتا ہے یہ سمجھنے میں کہ ہمارا خود کا بھی ہم پر حق ہے
اکثر سوچتی ہوں روز قیامت جب جسم کا ایک ایک حصہ گواہی دے گا،، ہر گناہ کا بتائے گا، اچھے برے استعمال کی تفصیل خدا کے سامنے رکھے گا تو مجھے لگتا ہے مینٹل ہیلتھ بھی آ کر اللہ کو بتائے گی….. کہ ہم نے اسکا خیال رکھا یا نہیں….
اپنے ساتھ انصاف کریں….. اپنی روح بار بار زخمی نہ ہونے دیں…. بدتمیزی کا جواب اگرچہ بدتمیزی نہیں ہوتا، سانپ کاٹ لے تو اسے ڈسا نہیں جاتا مگر "سوراخ” تو بند کیے جا سکتے ہیں….. کیا ہم اتنے بھی قوی نہیں کہ ایسے "سوراخ” بند کر دیں
‏ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں۔ اس دنیا میں آپ کی سب سے قیمتی چیز وقت ہے۔ پیسہ واپس آجاتا ہے لیکن وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ اسلئے کوئی برا بھلا بولے اور آپ جواب دینے لگیں تو پہلے یہ ضرور سوچیں کہ کیا یہ بندہ میرے قیمتی وقت سے 1 یا 2 منٹ کا بھی حقدار ہے یا نہیں؟ ایسے لوگ عموما حقدار نہیں ہوتے۔خود سے پیار کریں اپنی ذندگی کا ایک ایک پل انجوائے کریں ۔ذندگی اللہ کا دیا ہوا سب سے پیارا تحفہ ہے اپنے ان پیاروں کا خیال رکھیں جن کو آپ کے دنیا سے جانے کا سب سے ذیادہ فرق پڑے گا ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں جن کی نظر میں آپ کچھ بھی نہیں ۔ان کا خیال رکھنے والے ان کے اپنے بہت۔۔
اکثر سوچتی ہوں وقت انسان کو بدلتا ہے، حالات یا رشتے؟؟؟؟
ایک وقت تھا جب کوئی تھوڑا سا ناراض ہو جان پہ بن جاتی تھی منتیں ترلے واسطے سب ہی تو ہوتا تھا_
اور اب ایک عرصہ لوگوں کے پیچھے بھاگ بھاگ کے ایک ہی سبق ملا جو جتنا کم لوگوں سے میل جول رکھتا ہے کم کسی کی پرسنل لائف میں انٹرفئیر کرتا ہے اتنا زیادہ پرسکون رہتا ہے_ میں ‘خوش’ نہیں کہہ رہی ‘سکون’ کی بات کر رہی ہوں اور اب مجھے لگتا ہے خوشی سے زیادہ سکون ضروری ہے-
Actually
ہمیں سہاروں کی عادت ہو جاتی ہے لوگوں کا اتنا ضروری سمجھ لیتے ہیں جیسے کوئی بنیادی ضرورت ہو.
ہاں ٹھیک ہے زندگی گزارنے کے لیے کسی نا کسی کے ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن کسی کو اتنا ضروری نا کر لو کہ اپنی شناخت ہی گنوا بیٹھو _
آپ کی خوشیاں کسی شخص کی محتاج نہیں ہونی چاہیے آپ اپنے لیے بہترین دوست بہترین ساتھی اور مسیحا ہیں اپنے آپ سے محبت کریں
جو جانا چاہتا ہے جانے دیں جو آنا چاہتا ہے ویلکم کریں
یہی زندگی ہے جب ہر چیز ہی فانی ہے تو ہم کسی رشتے کے ابدی ساتھ کا کیوں سوچتے ہیں……..!

Take care of yourself….
Its not selfishness… Its a form of Gratitude..♥️

Leave a reply