fbpx

نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست سماعت کیلیے مقرر

سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست سماعت کیلیے مقرر کردی ہے

سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کرلی گئی۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے دائر کی گئی نیب ترامیم کے خلاف درخواست پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ 10 جنوری کو سماعت کرے گا۔ کیس کی آئندہ سماعت پر وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان دلائل کا آغاز کریں گے ۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے نیب ترامیم کیس کے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیے ہیں۔

واضح رہے کہ نیب ترامیم کیس میں عمران خان کے وکیل خواجہ حارث دلائل مکمل کرچکے ہیں۔ جب کہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ شامل ہیں۔ جبکہ واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترامیم کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی، سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ان کے وکیل سے 2 سوالات پر وضاحت مانگ لی تھی.
مزید یہ بھی پڑھیں؛
ہم بچے نہیں ہیں جو ہم پر ہونے والے حملوں کو نہ سمجھ پائیں اسد صدیقی کا عادل راجہ کو منہ توڑ جواب
اسلام آباد میں آج موسم شدید سرد اور خشک رہے گا
فیصل واوڈ کی نشست پر انتخاب کامعاملہ،کاغذات نامزدگی آج سے 7 جنوری تک جمع ہوں گے
اداکاراؤں کی کرداکشی : خواتین کی عزت نہ کرنے والے ذہنی بیمار ہیں،مریم اورنگزیب
دورانِ سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا تھا کہ افواجِ پاکستان کو نیب کی دسترس سے باہر رکھا گیا ہے، اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ نیب قانون سے افواجِ پاکستان کو باہر رکھنے کی وجوہات کیا ہیں؟ انہوں نے سوال کیاتھا کہ نیب قانون کی دسترس سے تو ججز بھی باہر نہیں ہیں، نیب قانون سے افواجِ پاکستان کو باہر رکھنے کا یہ عمل پی ٹی آئی کی نظر میں آئینی ہے یا غیر آئینی؟ جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا تھا.’ کہ ایک شخص کو لاکھوں عوام نے ووٹ دے کر رکنِ پارلیمنٹ منتخب کیا، آپ نے دلائل میں کہا کہ رکنِ پارلیمنٹ عوامی اعتماد کا امانت دار ہے، منتخب رکن پارلیمان سے باہر نکل کر کہے کہ فیصلہ سڑکوں پر کروں گا تو کیا یہ جمہوریت ہے؟