نیب میں پیش نہیں ہو سکتا، شہباز شریف نے کیوں کیا انکار؟

نیب میں پیش نہیں ہو سکتا، شہباز شریف نے کیوں کیا انکار؟

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف آج نیب میں پیش نہیں ہوں گے، ن لیگی رہنما عطاء اللہ تارڑ نے اس بات کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ شہباز شریف آج پیش نہیں ہوں گے،شہبازشریف نے نیب کو اپنا تحریری جواب جمع کرادیا ہے،شہبازشریف 130دن زیر حراست رہے جس میں سے 61 دن نیب کی تحویل میں رہے،

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے منی لانڈرنگ کیس میں نیب نوٹس کا جواب دے دیا، شہباز شریف نے نیب کو بھجوائے گئے جواب میں کہا کہ منی لانڈرنگ سے متعلق حالیہ جسمانی ریمانڈ کے دوران تمام معلومات فراہم کرچکا ہوں،

شہباز شریف کا کہنا ہے کہ نیب کی طرف سے طلبی کے تمام نوٹسز کا وقت پرجواب دیا،ہربار ذاتی حیثیت میں پیش ہوکر نیب کے ساتھ مکمل تعاون کیا،تمام نوٹسز کے جواب کو غیرتسلی بخش قرار دینا بدقسمتی ہے

شہبازشریف نے نیب میں طلبی کی تاریخ لاک ڈاوَن کے خاتمے سے مشروط کرنے کی درخواست کی ہے،شہباز شریف نے کہا ہے کہ لاک ڈاوَن کی وجہ سے مطلوبہ ریکارڈ اورتفصیلات کیلیے اسٹاف دستیاب نہیں

ن لیگی رہنما عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ دو سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود نیب ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں کر سکا، ثبوت نہ پیش کرنے کے باعث نیب کی اعلیٰ عدالتوں میں سبکی ہوئی،لاک ڈاؤن ختم ہونے پر نیب جب بھی بلائے گا میاں شہباز شریف صاحب ڈاکٹروں کے مشورے کے بعد ضرور پیش ہونگے ،تفتیشی عمل کے دوران میاں شہباز شریف نے نیب سے ہمیشہ تعاون کیا ہے ،عدالت میں نہ تو ریفرنس دائر کیا جارہا ہے اور نہ ہی کوئی ثبوت پیش کیے جارہے ہیں،نیب کا ادارہ آخر کب تک عمران نیازی کی انا کی تسکین کے لئے اپوزیش رہنماؤں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرے گا ،احتساب کا یہ ڈھونگ چینی اور آٹا چوری سے توجہ ہٹانے کی ایک مذموم کوشش ہے ,نیب نیازی گٹھ جوڑ کے نتیجے میں ہونے والی انتقامی کاروائیوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے

واضح رہے کہ شہباز شریف کو نیب نے آج طلب کر رکھا تھا،

پانچ کمپنیوں میں 19 کروڑ کی منتقلی،حمزہ شہباز نیب کو مطمئن نہ کر سکے

شہباز شریف کو لائف ٹائم ایوارڈ برائے کرپشن دیا جائے: شہباز گل

حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر کے خلاف درخواست دائر

نیب نے شہباز شریف کو ایک سوالنامہ بھی بھجوایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سال 1998 سے سال 2018 کے دوران فیملی کے اثاثے بڑھ کر 549 ارب ہوئے۔ پبلک آفس ہولڈر ہونے کی حیثیت سے ان اثاثوں میں اضافے کی وضاحت دیں۔ بیرون ملک کون کون سے اثاثے اور بینک اکاوَنٹس موجود ہیں ان کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ سال 2005 سے سال 2007 کے دوران لیے جانے والے قرض کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ فیملی کو دیے جانے والے اور موصول ہونے والے تمام تخائف کی تفصیلات فراہم کی جائیں اور سال 2008 سے سال 2019 کے دوران زرعی آمدنی کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ ماڈل ٹاوَن 96 ایچ کتنے سال تک وزیر اعلیٰ کیمپ ہاوَس رہا، اس کا بھی جواب دیں

عوام کرونا سے اور نیب شہباز شریف سے لڑ رہا ہے، مریم اورنگزیب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.