نقیب اللہ قتل کیس میں راﺅ انوارکو دیا عدالت نے بڑا جھٹکا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں نقیب اللہ قتل کیس میں راﺅ انوار کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر سماعت ہوئی،

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے درخواست پر سماعت کی،چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ کو حاضری سے استثنیٰ دینا کیا سپیشل ٹریٹمنٹ نہیں ہوگا،کیا یہ دوسروں سے امتیازی سلوک نہیں ہوگا،

وکیل درخواست گزار عامر منصوب ایڈووکیٹ نے کہا کہ میرے موکل کو سخت سکیورٹی خدشات ہیں ،چیف جسٹس نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کوروز سماعت کی ہدایت دے دیتے ہیں،

چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ نے کہا کہ آپ کی درخواست کو مسترد کرتے ہیں ، عدالت نے درخواست واپس لینے پرخارج کردی۔

راؤ انوار کے وکیل نے عدالت میں ایسا کیا کہہ دیا کہ راؤ انوار بھی ہوئے پریشان

 

علی وزیر اور محسن داوڑمیرا بھائی ،پرویز خٹک اور میں رابطے میں تھے، شہریارآفریدی

فارم ہاؤس میں ڈانس پارٹی میں لڑکی کی موت، دو دوست گرفتار

نقیب اللہ محسود کے والد کی وفات، آرمی چیف کا اظہار تعزیت اور کیا اہم اعلان

اپنے ہی شوہر کے گھر ڈاکہ ڈالنے والی خاتون مبینہ آشنا سمیت گرفتار

واضح رہے کہ نقیب اللہ محسود کا قتل 13 جنوری 2017ء کو شہر قائد کراچی میں پولیس افسر راؤ انوار کے پولیس انکاؤنٹر کی وجہ سے ہوا،نقیب اللہ محسود پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس کے کالعدم تنظیموں سے تعلقات ہیں،نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا تھا،نقیب اللہ کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔ 24 جنوری 2019ء کو پاکستان کی انسداد دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ اور تین دوسرے افراد کو معصوم قرار دیا۔

نقیب اللہ محسود قتل کیس، سندھ ہائیکورٹ نے سنایا بڑا فیصلہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.