fbpx

نواز شریف کو دیکھ کر عمران خان سبق حاصل کرے، تحریر: نوید شیخ

نواز شریف کو دیکھ کر عمران خان سبق حاصل کرے، تحریر: نوید شیخ
سب سے پہلے تو پاپی پاپا کے گرد شکنجہ تنگ ہو گیا ہے ۔ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے آٹھ ملین پاؤنڈ کی برآمدگی کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کیس میں نواز شریف کو دس سال قید اور آٹھ ملین پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔۔ شریک ملزمان میں ملکہ جذبات مریم صفدر کو ساتھ سال قید، دو ملین پاؤنڈ جرمانہ اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ نواز شریف پر عائد جرمانے کی رقم کی موجودہ قدر ایک ارب پچاسی کروڑ روپے کے برابر ہے۔ اب اس سلسلے میں نواز شریف کی جائیدادیں فی الفور فروخت کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو مراسلے بھی جاری ہوچکے ہیں۔

ڈپٹی کمشنرز کو نواز شریف کی قابل فروخت جائیدادوں کی تمام تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ نواز شریف کے نام موجود جائیدادوں میں موضع مانک میں 940کنال زرعی اراضی، موضع بدھوکی ثاہنی 299 کنال، موضع مل 103 کنال اور موضع سلطان میں 312 کنال اراضی شامل ہیں۔ ۔ موضع منڈیالی شیخوپورہ میں 14 کنال زرعی اراضی اور اپر مال لاہور میں قیمتی رہائشی بنگلہ نمبر 135 بھی برائے فروخت پراپرٹی میں شامل ہے۔ نیب لاہور کا کہنا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی سابق وزیراعظم سے جرمانہ کی وصولی پر عملدرآمد کروایا جا رہا ہے۔ مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ فروخت شدہ جائیدادوں سے حاصل ہونے والی رقم ملکی تعمیر و ترقی میں استعمال ہو گی۔ جبکہ جرمانہ کی مکمل رقم ریکور نہ ہونے کی صورت میں ملزم کے مزید اثاثہ جات تلاش کیے جائیں گے۔ یوں پاپی نواز شریف اپنے انجام کی جانب گامزن ہیں ۔ آپکو یاد ہو گا کچھ ہفتے پہلے میں ایک وی لاگ میں بتایا تھا کہ نوازشریف اب دوبارہ واپس نہیں آئیں گے چاہے جو بھی جو کچھ مرضی کہیں ۔ پھر کہہ رہا ہوں ۔ یہ ویڈیو کلپ سنبھال کر رکھ لیں ۔ اب نوازشریف کا واپس آنا ممکن ہی نہیں رہا ۔ ۔ ویسے ان کے ساتھ جو ہو رہا ہے یہ تو قدرت کا انصاف ہے مکافات عمل ۔ پر موجودہ حکومت کے تیور اور حرکتیں بھی کچھ ٹھیک نہیں ہیں ۔

الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر تنازعہ اتنا آگے بڑھ گیا ہے کہ اب اس پر اتفاق رائے پیدا ہوتا دور دور تک نظر نہیں آتا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت اس پر کوئی اعتراض سننے کو بھی تیار نہیں۔ بلکہ حکومت نے دوٹوک اعلان کردیا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اپوزیشن کے ساتھ آخری دفعہ مذاکرات ہوں گے۔ یعنی حکومت ڈنڈے کے زور پر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے زریعے ہی الیکشن کروائے گی ۔ اپوزیشن اور الیکشن کمیشن جائے بھاڑ میں ۔ میں تواس پر یہ ہی کہوں گا کہ زبردستی کے فیصلے آمریتوں میں تو ہوسکتے ہیں جمہوریت میں ایسا نہیں ہوتا ۔ باقی آپ خود فیصلہ کر لیں کہ اس وقت ملک میں آمریت ہے یا پھر جمہوریت ، قوم یہ تماشا کئی دنوں سے دیکھ رہی ہے۔ حکومتی وزراء کا لہجہ دھمکی آمیز ہے۔ دھمکی آمیز لہجہ اس وقت ہوتا ہے جب دلیل کے ساتھ بات منوانے کی قوت ختم ہو جاتی ہے۔ چیف الیکشن کمشنز کے پیچھے بھی وزراء ایسے پڑے ہوئے ہیں جیسے انھوں نے حکومت کی کوئی مج چرا لی ہے ۔ اداروں سے اس طرح کا کھلواڑ تحریک انصاف کے وزراء کی پرانی مشق رہی ہے اور بدقسمتی سے اب اس کا نشانہ الیکشن کمیشن بن گیا ہے۔اعظم سواتی ، بابر اعوان اور فواد چوہدری الیکشن کمیشن کو یوں دھمکیاں دے رہے ہیں جیسے کوئی بدمزاج تھانیدار اپنے ماتحتوں کو ڈراتا اور دھمکاتا ہے۔ پھر پیٹرول کے بعد بجلی اب قہر بن کر عوام ٹوٹنے والی ہے ۔central power purschasing agency کی جانب سے نیپرا کو بجلی کی قیمت میں مزید اضافے کی درخواست دے دی گئی ہے ۔ درخواست کی منظوری کی صورت میں بجلی صارفین پر25ارب روپے کا بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔ CPPA کا موقف ہے کہ ڈیزل اور فرنس آئل سے مہنگی ترین پیداوار بجلی مہنگی ہونے کی وجہ ہے۔ یوں اب بجلی کی قیمت میں دو روپے سات پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے۔

پھر وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جسے وزیر اعظم کی جانب سے فوراً منظور کرلیا گیا۔ اس کہانی کی اصل اسٹوری یہ ہے کہ تابش گوہر پر مقامی ریفائنریز کو فائدہ پہنچانے کا الزام ہے جبکہ سی سی او اجلاس میں تابش گوہر نے ریفائنریز کے لئے پیشگی مراعات کی تجاویز بھی دی تھیں ۔ پر آپ دیکھیں ایسے اور بہت سے بہروپیے اس حکومت میں مختلف اداروں میں بڑے عہدوں پر براجمان رہے ہیں جو کہ حقیقت میں مافیا کے ایجنٹ تھے ۔ پر جب یہ پکڑے گئے تو حکومت نے صرف ان کو گھر ہی بھیجا کبھی مکمل انکوئری یا سلاخوں کے پیچھے نہیں بھیجا ۔ اگر حکومت نیب اور ایف آئی اے کو اپوزیشن کے ساتھ ان مافیاز کے ایجنٹوں کے پیچھے لگادیتی تو آج جو اپوزیشن کی آواز اونچی سے اونچی ہوتی جارہی ہے ۔ کبھی نہ ہوپاتی ۔ تابش گوہر جیسے لوگ وہ ایجنٹ ہیں جنہوں نے اداروں اور عام عوام کو اتنے ٹیکے لگوائے ہیں کہ عوام کا تبدیلی پر سے اعتبار ہی اٹھ گیا ہے ۔ کیونکہ ہر بار جب شور زیادہ مچتا ہے یا یہ رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ یہ ایجنٹ استعفی دیتے ہیں موج کرتے ہیں ۔ فائلیں ویسے ہی بند ہوجاتی ہیں ۔ پی ٹی آئی کی نام نہاد حکومت تین سال سے یہ ہی گل کھلا رہی ہے ۔ آپ خود دیکھ لیں کہ ملک میں کون کرپٹ ہے اور کون نہیں ۔ ہر طرف اور ہر سیکٹر میں عوام کی جیبوں پر ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں ۔ ملک میں کوئی ایسا وزیر نہیں جو کرپٹ نہ ہو ۔ پیسے اور دھونس کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا ہے ۔ جس مرضی سرکاری ادارے میں چلے جائیں پیسے کی چمک کے بغیر آپکو کوئی گھاس تک نہیں ڈالے گا ۔

حکومت کی نااہلی کی وجہ سے نظام بیٹھ چکا ہے معیشت کے حوالے سے تمام دعوے ختم ہو گئے ہیں ۔ اس وقت شاید ہی معاشرے کا کوئی ایسا طبقہ ہو جو کپتان کی حکومت کے لگائے ہوئے زخموں سے چور نہ ہو۔ تحریک انصاف کے وزیر مشیر ہر چیز کے بارے میں فخریہ کہتے ہیں کہ یہ کام پاکستان میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسا ہی ہے۔ کیونکہ پہلی بار عوام کی بھی بس ہوگئی ہے۔ اس بار کابینہ اجلاس میں دو تین لوگوں نے ہمت کرکے کپتان کے منہ پر ہی کہہ دیا ہے۔ کہ اس بار جو آٹے کی قیمتیں بڑھی ہیں اس کا قصووار آپکا چہیتا عثمان بزدار ہے ۔ نہ کہ سندھ حکومت ۔ پرعثمان بزدار کپتان کی آنکھوں کا تارا ہیں ۔ اسی حوالے سے ایک خبر ہے کہ چوروں اور ڈاکوؤں نے بھی غریبوں کو زیادہ ہٹ کرنا شروع کر دیا۔ جیسے امیروں کو این آر او دے دیا گیا ہو ۔ خبر یہ ہے کہ اس سال کاریں بہت کم اور غریب کی سواری موٹر سائیکلیں بہت زیادہ چوری ہوئیں۔ صرف لاہور میں آٹھ ہزار چھیانوے موٹر سائیکل آٹھ مہینوں میں چوری ہو چکے ہیں۔ یعنی چور ڈاکو بھی ’’تبدیلی‘‘ سے ہم آہنگ ہو گئے۔ تبدیلی کا ٹارگٹ بھی غریب ہیں۔ اور چوروں کا ٹارگٹ بھی غریب ہیں ۔ ۔ ادارہ شماریات کے مطابق اشرافیہ ایلیٹ کلاس کی آمدنی بڑھی ہے اور بے تحاشا بڑھی ہے۔ جبکہ غریب ، لوئر مڈل کلاس ، مڈل آف دی مڈل کلاس کی آمدنی کم ہوئی ہے اور بے تحاشا کم ہوئی ہے۔ ۔ یہ جو بدزبان ۔ بدکلام اور بد گفتار وزیر اندھا دھند جھوٹ بولتے ہیں کہ پاکستان میں تو بہت موجیں ہیں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں ۔ جس خطے میں ہم رہتے ہیں وہاں مختلف ممالک کی مہنگائی کی شرح چار فیصد سے آٹھ فیصد ہے ۔ مطلب بنگلہ دیش میں چار فیصد اور بھارت میں آٹھ فیصد مہنگائی ہے ۔ جبکہ پاکستان میں 17فیصد ہے۔ یہ میں نے اپنی طرف سے گڑھ کر نہیں بتائے یہ عالمی بینک کے اعدادو شمار ہیں ۔ ایک سے بڑھ کر ایک تحفہ اس حکومت کے پاس ہے۔ شبلی فراز فرماتے ہیں کہ مہنگائی کے علاوہ باقی سارے اشاریے مثبت ہیں۔ اس سے حکومت کی پالیسی پتہ چل جاتی ہے کہ حکومت غربت کی بجائے غریب مٹا رہی ہے۔ ایک اور خوشخبری سن لیں کہ ملکی قرضوں میں ایک مہینے کے دوران بارہ سو ارب کا حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے ۔ اب قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے سو فیصد کے برابر ہو چکا ہے۔ میں تو بس اتنا ہی کہوں گا کہ اس حکومت کو نواز شریف کو دیکھ کر سبق حاصل کرنا چاہیے ۔ کیونکہ حساب تو ان کو بھی دینا ہی پڑے گا آج نہیں تو کل ۔۔۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!