مقبوضہ کشمیر:تعلیمی نصاب میں من پسند سیاسی نظریات شامل کرنے کا مودی کا منصوبہ

0
78

سری نگر:تعلیمی نصاب میں من پسند سیاسی نظریات شامل کرنے کا مودی کا منصوبہ،اطلاعات کے مطابق بھارتی مقبوضہ کشمیر میں حکمراں جماعت بی جے پی کے کٹھ پتلی لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا کہنا ہے کہ بھارتی جدوجہد آزادی میں جموں و کشمیر کے جن افراد نے کردار ادا کیا تھا ان کی قربانیوں کو جلد ہی کشمیر کے تعلیمی نصاب میں شامل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے تعلیمی نصاب میں تبدیلیوں کے حوالے سے بھارتی دانشوروں اور محققین پر ایک لائحہ عمل تیار کرنے پر زور دیا ہے۔

 

جموں کی مرکزی یونیورسٹی کے زیراہتمام آزاد ہندوستان اور جموں و کشمیر کے عنوان سے منعقدہ ایک سیمینار سے اپنے وڈیو خطاب میں منوج سنہا نے کہا کہ یہ پروگرام ایک سنہری موقع ہے کہ بھارت کی آزادی میں کردار ادا کرنے والے جموں و کشمیر کے ہیروز کی جدوجہد اور قربانیوں کو تعلیمی نصاب میں شامل کرکے انہیں خراج تحسین پیش کیا جائے۔

 

 

مقبوضہ کشمیر کے ایک ریٹائرڈ پروفیسر کے مطابق جموں و کشمیر میں اگست 2019ء کے بعد سے نئی فلم، میڈیا اور صنعتی پالیسیوں کے بعد اب بندوق کے زور پر تاریخ کو مسخ کرکے تعلیمی نظام کو برباد کیا جا رہا ہے۔ ایسا روس میں اسٹالن اور جرمنی میں ایڈولف ہٹلر جیسے حکمرانوں نے کیا تھا لیکن تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی۔

 

تعلیمی نصاب میں ممکنہ تبدیلیوں سے قبل جموں و کشمیر میں متعدد سرکاری اسکولوں، ڈگری کالجوں اور اہم شاہراہوں کے نام بھی تبدیل کر دیے گئے۔ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں گورنمنٹ ڈگری کالج کا نام اب امتیاز میموریل کر دیا گیا ہے۔

حال ہی میں بھارت میں دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت کی تاریخ اور سیاست کی درسی کتب میں شامل نامور شاعر فیض احمد فیض سے منسوب عنوانات، شاعری اور مغلیہ دور سے وابستہ مضامین کو مرکزی تعلیمی نظام، سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) نے نصاب سے ہٹا دیا تھا۔ اس کے علاوہ غیر وابستہ تحریک، افریقا اور ایشیا میں اسلامی سلطنت کا عروج، صنعتی انقلاب اور سرد جنگ جیسے کئی اہم موضوعات بھی غائب کر دیے گئے ہیں۔

Leave a reply