ججز کا خط ،پاکستان بار کونسل کا انکوائری کا مطالبہ

تمام اسٹیک ہولڈرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف اور مساوات کے ان بنیادی اصولوں کو برقرار رکھیں
0
159
letter

اسلام آباد:پاکستان بار کونسل کی جانب سے ہائی کورٹ ججز کے خط کے معاملے کی شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

باغی ٹی وی : سپریم جوڈیشل کونسل کو عدالتی امور میں مداخلت کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز مسٹر جسٹس محسن اختر کیانی، مسٹر جسٹس طارق محمود جہانگیری، مسٹر جسٹس بابر ستار، مسٹر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان، مسٹر جسٹس ارباب محمد طاہر اور مسز جسٹس سمن رفعت امتیاز کے خط کے معاملے پر پاکستان بار کونسل کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا-

اعلامیے کے مطابق پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین جناب ریاضت علی سحر اور پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین جناب فاروق ایچ نائیک نے پاکستان بار کونسل کے پرنسپل نمائندہ ادارے کے طور پر ملک میں قانونی برادری، سپریم جوڈیشل کونسل (SJC) کو لکھے گئے خط میں بیان کردہ متعلقہ مسائل کو فوری حل کرنے پر زور دیا-

ججز کا خط،انکوائری ہو،سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائے، بیرسٹر گوہر

اعلامیے کے مطابق خط میں جن خدشات کو اجاگر کیا گیا ہے وہ درحقیقت سنگین ہیں اور ان پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاہم، ان خدشات کو دور کرنے کا صحیح مجاز اتھارٹی سپریم جوڈیشل کونسل (SJC) نہیں بلکہ چیف جسٹس آف پاکستان ہے کیونکہ آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے خلاف شکایات کا ازالہ کرنے کا فورم ہے۔ مداخلت اور دھمکانے کے الزامات اہم ہیں اور ایک مناسب کمیٹی کے ذریعے مکمل انکوائری/تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں، سپریم کورٹ کے تین سینئر ججز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے الزامات کی تحقیقات لازمی ہے، عدلیہ کی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، الزامات کی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس پاکستان کو کمیٹی تشکیل دینی چاہئے۔

وزیراعظم شہباز شریف کل چیف جسٹس سے سپریم کورٹ میں ملاقات کریں گے

اعلامیے کے مطابق خط کے مندرجات میں عدلیہ کی خود مختاری کو نقصان پہنچانے اور سیاسی مقاصد کے لیے عدالتی کارروائیوں پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کا پردہ فاش کیا یا خاص طور پر انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کارندوں کی طرف سے ججوں پر مبینہ جبر، بشمول نگرانی، اغوا، اور ججوں اور ان کے اہل خانہ کو دھمکیاں دینے جیسے واقعات کا ذکر کیا گیا ،عدلیہ اور ججوں کی نجی زندگی میں مداخلت کی نہ صرف مذمت ہونی چاہیے بلکہ اس کے خلاف کارروائی بھی ہونی چاہیے۔

ایسا لگتا تحریک انصاف کے اشارے پر ججز نے خط لکھا،سپریم کورٹ میں درخواست …

اعلامیے میں کہا گیا کہ اس بات کا اعادہ کرنا ضروری ہے کہ میڈیا کے ذریعے ٹرائل نہیں بلکہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سخت اور جامع انکوائری/تحقیقات کی ضرورت ہے۔ پاکستان بار کونسل عدلیہ کی سالمیت اور آزادی کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی کوشش کی حمایت اور تعاون کے لیے تیار ہے۔ یہ ضروری ہے کہ انصاف نہ صرف غالب رہے بلکہ اسے برقرار رکھا جائے، اور یہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف اور مساوات کے ان بنیادی اصولوں کو برقرار رکھیں جو ہمارے قانونی فریم ورک کی بنیاد ہیں۔

پاکستان میں دہشت گردی کا منبع افغانستان میں ہے،خواجہ آصف

Leave a reply