fbpx

پاکستان کی بھارت میں شطرنج اولمپیاڈ کو سیاسی رنگ دینے کی بھارتی کوششوں کی مذمت

لاہور:بھارت میں منعقد ہونے والے 44ویں شطرنج اولمپیاڈ کا بائیکاٹ کرنے والی پاکستانی ٹیم واہگہ کے راستے وطن واپس پہنچ گئی ، دوسری طرف پاکستان نے بھارت کے شہر چنائی میں منعقد ہونے والے 44 ویں شطرنج اولمپیاڈ کو سیاسی رنگ دینے کی بھارتی کوششوں کی شدید مذمت کی ہے۔

اطلاعات کےمطابق پاکستانی ٹیم انٹرنیشنل چیس فیڈریشن کی دعوت پر چنائی میں منعقد ہونے والے ان مقابلوں میں شرکت کے لیے پہنچی تھی، تاہم یونٹ کی مشعل کو بھارت کے غیرقانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے علاقوں سے گزارنے پر احتجاجا پاکستان نے ایونٹ کا بائیکاٹ کر دیا

دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت نے ٹورنامنٹ کی مشعل کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ خطے مقبوضہ جموں و کشمیر سے گزار کر اس ایونٹ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی ہے جو افسوسناک ہے، واضح رہے کہ مشعل کو21 جولائی 2022 کو سری نگر سے گزارا گیا تھا۔

 

 

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کھیلوں کو سیاسی رنگ دینے اور انہیں مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی بھارتی کوشش کی مذمت کرتا ہے، پاکستان نے بھارتی اقدام کے خلاف بطور احتجاج 44 ویں شطرنج عالمی ٹورنامنٹ میں شرکت نہ کرنے اور اس معاملے کو بین الاقوامی شطرنج فیڈریشن کے ساتھ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کو انٹرنیشنل چیس فیڈریشن نے 28 جولائی سے 10 اگست 2022 تک بھارتی شہر چنائی میں منعقد ہونے والے 44 ویں شطرنج اولمپیاڈ میں شرکت کے لیے مدعو کیا تھا۔

پاکستان نے بھارت کے شہر چنائی میں منعقد ہونے والے 44 ویں شطرنج اولمپیاڈ کو سیاسی رنگ دینے کی بھارتی کوششوں کی شدید مذمت کی ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کو انٹرنیشنل چیس فیڈریشن نے 28 جولائی سے 10 اگست تک چنائی میں 44 ویں شطرنج اولمپیاڈ میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ پاکستانی دستہ پہلے ہی اس ایونٹ کے لیے تیاری کررہا تھا۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ بھارت نے اس باوقار بین الاقوامی کھیلوں کے ایونٹ کو سیاسی رنگ دینے کی کو شش کرکے اس ایونٹ کی مشعل بردار ریلی کو غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر سے گزارا گیا، اس طرح علاقے کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو نظر انداز کرتے ہوئے بھارت نے دھوکہ دہی کا ارتکاب کیا ہے جسے بین الاقوامی برادری کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرسکتی۔

پاکستان نے بھارت کی طرف سے سیاست کو کھیلوں سے ملانے کی مذموم کوشش کی مذمت کی ہے، پاکستان نے احتجاج کے طور پر پاکستان نے 44 ویں شطرنج اولمپیاڈ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس معاملے کو انٹرنیشنل چیس فیڈریشن کے ساتھ بھی اعلیٰ سطح پر اٹھائیں گے۔

پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیاں بند کرانے کے ساتھ ساتھ 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ بھارتی اقدامات کو منسوخ اور حقیقی کشمیری رہنماوں سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔