پی آئی اے کی ایک اور خاتون فضائی میزبان کینیڈا میں غائب

0
83
pia

پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کی ایک اور خاتون فضائی میزبان کینیڈا میں مبینہ طور پر غائب ہو گئی ہے

مریم نامی فضائی میزبان اسلام آباد سے پی آئی اے کی ٹورنٹو کی پرواز نمبر پی کے 782 پر تعینات تھی جو کینیڈا پہنچنے کے بعد مبینہ طور پر غائب ہو گئی، مریم رضا کے مبینہ سلپ ہونے کا علم واپسی کی پرواز پر رپورٹ نہ کرنے پر ہوا، مریم رضا کے کمرے میں یونیفارم پر شکریہ پی آئی اے پر مبنی نوٹ لکھا ہوا پایا گیا،فضائی میزبان مریم رضا کیخلاف پی آئی اے نے کارروائی کا آغاز کر دیا

اس سے قبل بھی متعدد فضائی میزبانوں کے مختلف ممالک میں غائب ہونے کے واقعات سامنے آچکے ہیں، گزشتہ ماہ بھی پی آئی اے کی خاتون فضائی میزبان کینیڈا میں مبینہ طور پر لاپتہ ہو گئی تھی، فائزہ نامی فضائی میزبان اسلام آباد سے ٹورنٹو کی پرواز نمبر پی کے 781 پر تعینات تھی

قبل ازیں ماہ دسمبر میں ،پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کے دو مزید فضائی میزبان ٹورنٹو میں پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے تھے،ٹورنٹو میں لاپتہ ہونے والے فضائی میزبانوں میں سید وزیر علی شاہ اور فرخندہ شاہین شامل ہیں،دونوں ٹورنٹو پہنچے تا ہم ہوٹل سے غائب ہو گئے،پی آئی اے کے عملے کا اس طرح غائب ہونا ہمارے امیج کے لیے ایک سنگین دھچکا ہے،اس سے قبل تین دسمبر کو پی آئی اے کا فضائی میزبان ایازقریشی کینیڈا پہنچ کرغائب ہو گیا تھا،ایاز قریشی نے ٹورنٹو سے واپسی کی پرواز کیلئے ڈیوٹی پر رپورٹ نہیں کیا، فضائی میزبان ایاز قریشی کا تعلق پی آئی اے لاہور بیس سے ہے

پی آئی اے ہمیشہ فضائی میزبانوں کے لاپتہ ہونے پر تحقیقات کا اعلان کرتی ہے لیکن عملا کچھ سامنے نہیں آتا،کینیڈا میں جا کر پی آئی اے کے فضائی میزبانوں کا غائب ہو جانا ایک معمول بن چکا ہے،ایسے لگتا ہے کہ پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کا اپنے عملے پر کسی قسم کا کوئی کنٹرول نہیں رہا،

واضح رہے کہ پاکستان کی قومی ایئر لائن پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے، پی آئی اے کی نجکاری کی جا رہی ہے، ایسے میں فضائی میزبانوں کی مسلسل گمشدگی پی آئی اے کے لئے نیک شگون نہیں ہے،

ماضی میں اسلام آباد سے مسافروں کو لے کر کینیڈا کے شہر ٹورنٹو پہنچنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 781 کے فضائی میزبان یاسر اس ہوٹل سے غائب ہوئے جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے۔اسی طرح رمضان گل نامی فضائی میزبان جس کا سروس نمبر 62739 ہے کسی کام کے سلسلے میں ہوٹل سے باہرگیا مگرواپس نہ آئے،ایئر ہوسٹس زاہدہ بلوچ ایئرلائن کی پرواز پی کے-797 کے پر گئی تھیں اور وہ مبینہ طور پر غائب ہو گئی تھیں.2022 کے ماہ فروری میں فلائٹ اسٹیورڈ وقار احمد خان جدون ٹورنٹو میں غائب ہو گئے تھے،

جس کے بعد جی ایم فلائٹ کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ فضائی عملے کے غائب ہونے کی وجہ سے کچھ اقدامات کو فوری اٹھایا جا رہا ہے، اس ضمن میں نئے ایس او پیز بنائے گئے ہیں ،فضائی میزبان کا پاسپورٹ سٹیشن منیجر کے پاس رکھا جائے گا اور اسکے پاس جمع ہو گا پاسپورٹ واپسی پر کسٹم کی قانونی کاروائی کے بعد واپس کیا جائے گا ہوٹل سیکورٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ہر ایک پہنچ گیا ہے اگر کوئی بھی غائب یا لاپتہ ہوا تو ہوٹل سٹاف فوری آگاہ کرے گا ،کسی بھی فضائی میزبان کو ہوٹل چھوڑنے کی اجازت نہیں ہو گی، تاہم اب ایسے لگتا ہے کہ پی آئی اے کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے اب ایک بار پھر ایک فضائی میزبان غائب ہو گیا ہے

کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

طیارے کا کپتان جہاز اڑانے کے قابل نہیں تھا،مبشر لقمان کھرا سچ سامنے لے آئے

Leave a reply