آزادی مارچ،مذاکراتی کمیٹی کی ملاقات، وزیراعظم کا اپوزیشن کو سخت پیغام

0
39

آزادی مارچ کے حوالہ سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے اراکین نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اسد عمر کی ملاقات ہوئی ہے، اسد عمر نے گزشتہ روز کمیٹی کے اجلاس کے حوالہ سے وزیراعظم کو بریفنگ دی، ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، اسد عمر نے کمیٹی کے اجلاس کے حوالہ سے وزیراعظم کو آگاہ کیا اور فیصلوں پر مکمل جامع بریفنگ دی.

وزیراعظم سے حکومتی کمیٹی کی ملاقات کے دوران آزادی مارچ کے بارے میں بھی مشاورت کی گئی، ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ آزادی مارچ والوں سے مذاکرات کئے جائیں اور ان کے مطالبات سنے جائیں اگر کوئی جائز مطالبہ ہوا تو حکومت پورا کرنے کے لئے تیار ہے تا ہم اگر اپوزیشن استعفیٰ پر بضد ہے تو ایسا نہیں ہو سکتا ،اپوزیشن اگلے الیکشن کا انتظار کرے.

وفاقی وزیر دفاع پرویزخٹک کی زیرصدارت حکومتی مذاکراتی کمیٹی کااجلاس ہوا، اجلاس میں رہبر کمیٹی کے مطالبات پرغورکیاگیا، حکومتی کمیٹی نے وزیراعظم کےاستعفے کامطالبہ مستردکردیا،

حکومتی کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا کہ حکومت اپوزیشن کے پرامن احتجاج کاحق تسلیم کرتی ہے، موجودہ ملکی صورتحال میں اسلام آباد جانا مناسب نہیں،حکومت بات چیت سےمعاملات حل کرنے میں سنجیدہ ہے،اجلاس میں حکومتی کمیٹی کے تمام اراکین بشمول چودھری پرویز الہیٰ نے بھی شرکت کی،

نواز اور شہباز میں ختم نہ ہونے والی جنگ چھڑ گئی

آزادی مارچ کی ابھی تیاریاں جاری اور حکومت کےاستعفے آنا شروع ہو گئے، کس نے استعفیٰ دیا؟ اہم خبر

بعد ازاں حکومتی کمیٹی کے اراکین نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی نےوزیراعظم عمران خان کواپوزیشن کےمطالبے سےآگاہ کردیا،

اپوزیشن سے مذاکرات، کمیٹی میں کون کون ہو گا شامل؟ پرویز خٹک نے بتا دیا

حکومتی کمیٹی کےاراکین مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف سے رابطہ کریں گے،حکومتی کمیٹی نے تمام اپوزیشن رہنماؤں سے فرداً فرداً ملاقات کا فیصلہ کیا ہے،شہبازشریف سےملاقات کے لیے وقت مانگا جائے گا صادق سنجرانی کو بلاول بھٹو زرداری سے رابطوں کا ٹاسک دے دیا گیا،اسپیکرپنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کریں گے.

 

جے یو آئی کے رہنما اکرم درانی نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یوٹرن لے لیا، اکرم درانی کا کہنا تھا کہ حکومت سے مذاکرات رہبر کمیٹی کرے گی، الگ الگ رابطے اور ملاقاتیں کسی صورت نہیں ہو سکتی، حکومت سے بات صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ حکومت آزادی مارچ میں رکارٹ نہ ڈالے

اکرم درانی کا مزید کہنا تھا کہ جس نے بھی مذاکرات کرنے ہیں وہ رہبر کمیٹی سے رابطہ کرے، رہبر کمیٹی ہی مذاکرات کرے گی جس میں تمام اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان شامل ہیں

Leave a reply