وزیراعظم،وزیر داخلہ،وزیر دفاع،وزیر انسانی حقوق کی عدالت طلبی

اکیس سماعتوں کے باوجود اس مسئلے پر مثبت بتائج نہ آنا آئین پاکستان کی توہین ہے
0
121
anwar kakar n pm

اسلام آباد ہائیکورٹ،بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگی سے متعلق قائم کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کا کیس،اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم، وزیر داخلہ، وزیر دفاع اور وزیر انسانی حقوق کو طلب کر لیا،عدالت نے سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع کوبھی 29 نومبر کو گیارہ بجے عدالت میں طلب کر لیا

جسٹس محسن اختر کیانی نے گزشتہ سماعت کا پانچ صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کر دیا، حکمنامہ میں کہا گیا کہ مختلف یونیورسٹیوں کے 69 بلوچ طلبہ کی نسلی پروفائلنگ، ہراساں اور جبری گمشدہ کیا گیا، ریکارڈ کے مطابق کچھ لاپتہ طلبہ گھروں کو لوٹ آئے لیکن کم از کم پچاس اب بھی غائب ہیں، سابق چیف جسٹس ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے بلوچ طلبہ کے تحفظات کے ازالے کیلئے کمیشن تشکیل دیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا کہ ریاستی اداروں کی جانب جبری گمشدہ بلوچ طلبہ اب بھی لاپتہ ہیں،بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے اس مسئلے پر کوئی مثبت اقدام نہیں اٹھایا، اکیس سماعتوں کے باوجود اس مسئلے پر مثبت بتائج نہ آنا آئین پاکستان کی توہین ہے،عدالتیں مظلوم کیلئے امید کی آخری کِرن ہوتی ہیں، ریاستی عہدیداروں کے اس سُست رویے نے اعلی عدالتوں پر عوامی اعتماد متزلزل کر دیا ہے، الارمنگ ہے کہ ریاستی اداروں پر بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگی کا الزام ہے اور وہی انکو بازیاب کرانے میں بے بس ہیں،عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ وفاقی حکومت اس معاملے سے غیرسنجیدگی سے نمٹ رہی ہے،

اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری حکمنامے میں کہا کہ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار حکومتِ پاکستان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روک نہیں پا رہی، عدالت کے پاس وزیراعظم، وزیر دفاع اور داخلہ کو طلب کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا، وزیر انسانی حقوق، سیکرٹری داخلہ اور دفاع بھی آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوں،وزیراعظم، وزراء اور سیکرٹریز پیش ہو کر بتائیں کہ معاملے کو اہمیت کیوں نہیں دے رہے؟کمیشن رپورٹ کے مطابق یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اٹھایا، امید ہے وزیراعظم، وزراء اور سیکرٹریز ٹھوس نتائج کے ساتھ عدالت میں پیش ہونگے، امید ہے عدالت کو بتایا جائے گا کہ لاپتہ طلبہ اپنے گھروں میں واپس پہنچ گئے ہیں، کوئی طالبعلم ریاست مخالف سرگرمی میں ملوث ہو تو متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے، ناکامی کی صورت میں سمجھا جائے گا کہ مندرجہ بالا افراد ریاستی مفاد کے خلاف کام کر رہے ہیں، سمجھا جائے گا کہ یہ افراد اس سسٹم کا حصہ ہیں جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں، یہ افراد اپنی موجودگی میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش تماشائی تصور ہونگے،

ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

 دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

Leave a reply