20 سالہ دوشیزہ رات گھر سے غائب، ماں دہائیاں دیتی رہی، پولیس کی بے حسی سامنے آ گئی

0
44

پولیس کی بے حسی یا بوڑھی ماں کا نصیب

اسلام آباد:پنڈوریاں سے بیس سالہ دوشیزہ پراسرار طور پر غائب ،غموں سے چور بوڑھی ماں فریاد لے کر تھانہ کھنہ پہنچی پولیس کا ناروا سلوک دیکھ کر مزید غم سے نڈھال پرچہ تو کٹ گیا مگر پولیس عمل درآمد سے گریزاں

متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او عاصم غفار اپنی وردی کے نشے میں کوئی بات سننے کو تیار نہیں بوڑھی ماں متعدد بار ایس ایچ او سے ملنے کی تمنا لیے تھانے جاتی رہی آخر جواب ملا آئندہ میرے پاس مت آنا اپنے تفتیشی سے ملو تھانہ کھنہ کی حدود پنڈوریاں سے ایک اور جواں سالہ دوشیزہ کو بہلا پھسلا کر اغوا کر لیا گیا-

چھ روز گزرنے کے باوجود بھی پولیس جواں بیس سالہ دوشیزہ س۔م۔ر۔ن کو باز یاب کرانے میں مکمل ناکام ہوگئی ہے آفسر شاہی کے مزے لوٹنے والے بوڑھی ماں کو جھوٹی تسلیاں دے کر روانہ کر دیتے ہیں پنڈوریاں کے رہائشی غریب پٹھان گھر سے تعلق رکھنے والی بد نصیب دوشیزہ کو محلے کے شیری نامی لڑکے جس کا تعلق کرسچن فیملی سے بتایا جا رہا نے بہلا پھسلا کر رفو چکر ہو گیا ہے-

متاثرہ خاندان نے میڈیا کو بتایا کہ ہماری بیٹی کا دو سال قبل اپنے چچا زاد سے نکاح ہوا تھا محلے کا شیری نامی کرسچن لڑکا ہماری بچی کو آئے روز تنگ کرتا اور اس کے موبائل پر میسج کرتا تھا ہمارے نوٹس لینے پر کچھ عرصہ یہ سلسلہ بند ہو گیا-

بوڑھی ماں کا کہنا تھا کہ مورخہ 29/09/22 صبح 6 بجے میں جب صبح نماز کے لئےاٹھی تو اپنی بیٹی کو اس کے بستر پر نہ پا کر پریشان ہوگئی ادھر ادھر بہت ڈھونڈا مگر بچی کا کچھ پتہ نہ چلا جس پر ہم نے متعلقہ تھانہ کھنہ میں درخواست دائر کرا دی پولیس نے بڑی سوچ وچار کے بعد مقدمہ تو درج کر لیا ہے مگر نہ جانےعمل درآمد کرنے کو کیوں تیار نہیں ہے –

شیری نامی لڑکے اور بچی کے موبائل نمبر بھی پولیس کو مہیا کر دئیے گئے ہیں مگر پولیس ٹس سے مس نہیں ہو رہی آج کل کے تکنیکی دور میں موبائل ٹریسنگ کے زریعے لوکیشن لینا پولیس کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ہمارے س مقدمے کا تفتیشی سب انسپکٹر عمران مقدمے کی پیروی میں سستی سے کام لے رہا ہے جو سمجھ سے بالا تر ہے-

تھانہ کے ایس ایچ او عاصم غفار کے پاس جاتے ہیں یا فون کرتے ہیں تو وہ غصے سے جواب دیتا ہے کہ آپکو کہا ہے کہ میرے پاس آنے کی ضرورت نہیں ہے اپنے تفتیشی سے جا کر ملو جب تفتیشی افسر کو کال کرتے ہیں یا تو وہ فون نہیں اٹھاتا یا پھر یہ کہہ کر بات ٹال دیتا ہے کہ میں سخت بیمار ہوں-

اغوا شدہ دوشیزہ کے ہونے والے خاوند سلیم نامی شخص کا کہنا ہے کہ میرا نکاح ہوا ہے اور باقاعدہ طور پر نکاح نامہ رجسٹر بھی ہو چکا ہے شیری نے میری ہونے والی زوجہ کو لالچ دے کر اپنی طرف مائل کیا اور بھگا کر لے گیا ہے اور مختلف نمبروں سے کالیں کر کے ہمیں دھمکیاں بھی دیتا ہے کہ تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور نہ ہی ہمیں ڈھونڈ سکتے ہو-

ملزم شیری کے تمام کال ریکارڈ بھی پولیس کو فراہم کر دیئے گئے ہیں مگر ہماری کوئی بھی شنوائی نہیں ہو رہی بوڑھے ماں باپ اور بد نصیب ہونے والے خاوند نے پولیس کے اعلیٰ افسران آئی جی اسلام آباد چیف جسٹس آف پاکستان وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں اس قرب سے نکالا جائے ہمیں انصاف دلایا جائے اور جلد از جلد اغوا شدہ لڑکی کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور ملزم شیری کو قرار واقعی سزا دی جائے-

Leave a reply